سیاسی مرتد  اور کافر

محمود الحسن

اخلاقی پستی کا حد سے گزرنا ہم دیکھ رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ہم اپنی سیاسی تاریخ میں کبھی شائستہ اطوار نہیں رہے۔ سیاسی اخلاقیات میں بگاڑ کا آغاز تحریک پاکستان کے دوران ہی ہوگیا تھا۔ اس کا نمایاں ترین نشانہ مولانا ابوالکلام آزاد بنے تھے، جن کے ذی علم اور ذی وقار ہونے میں کس کو شک ہوگا۔ علی گڑھ کے طلبا نے ریلوے اسٹیشن پر ان سے بدتمیزی کی تھی ۔ برسوں بعد اس واقعہ کے بارے میں ممتاز علیگ اور نامور نثر نگار مختار مسعود نے قلم اٹھایا تو اس کی مذمت تو وہ خیر کیا کرتے ، الٹا اس واقعہ کا حصہ نہ بننے پر تأسف کا اظہار کیا، جیسے وہ کسی بہت بڑی سعادت سے محروم رہ گئے ہوں۔ اپنی مشہور کتاب ’’ آواز دوست ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر جب طلبہ نے مولانا کے ساتھ گستاخی کی تھی، میں بھی طالب علم تھا اور اس گروہ میں شامل تھا ،جو کمک کے طور پر اسٹیشن پہنچا تو گاڑی چھوٹ چکی تھی ۔ مجھے دیر تک اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا افسوس رہا۔ ہم قائد اعظم کے مقتدی تھے ، ہمیں امام الہند کی امامت گوارا نہ تھی ‘‘

مختار مسعود یہ سادہ سی بات سمجھ نہ پائے کہ کسی سیاسی رہنما کا مقتدی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کے سیاسی حریف کی تذلیل کی جائے۔ ابوالکلام آزاد سے روا سلوک سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گستاخی پر آمادہ شخص کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ سامنے کس پائے کا حریف ہے، وہ تو اپنی ذہنی اور سیاسی تربیت کا اسیر ہوتا ہے، اس لیے اس کی نفرت کسی اخلاقیات کی پابند نہیں ہوتی۔

ابوالکلام آزاد کے ساتھ اصل میں ہوا کیا تھا. اس باب میں ایک عینی شاہد سمیع اللہ قریشی، جو بعد میں پاکستان کے سفارت کار رہے، ان کی کتاب ’’ ایک دور کی کہانی ‘‘ کا یہ اقتباس پڑھ کر سر پیٹ لیں:

’’ 1942میں مولانا ابوالکلام آزاد پر طلبا نے دست درازی کی جب ان کی ریل گاڑی چند منٹوں کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم پر رکی۔ تاریخ کی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس طالب علم لیڈر نے مولانا کے ریل کے ڈبے میں زبردستی گھس کر ان پر تھوکا تھا اور ان طلبا کی رہنمائی کی تھی ،جنھوں نے ان کی ڈاڑھی کو نوچا تھا ’’ وہ مچھل ‘‘ایک آسامی بنگالی طالب علم عثمانی تھا، جو پنجابی اور پشتو ایسی روانی سے بولتا تھا جیسے اپنی بنگالی زبان، اس نے 1971 میں بنگلہ دیش کی بغاوت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میں ریلوے اسٹیشن پر موجود تھا اور متنفر ہو کر ان سے ہٹ گیا، جب انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد پر تھوکنا شروع کیا ، مجھے یہ نہایت مکروہ فعل لگا کہ ایک مشہور عالم دین اور خاصی عمر کے آدمی کے ساتھ یہ برتاؤ کیا جائے۔ ‘‘

 

 

ابوالکلام آزاد کی بات تو ہوگئی، اب آپ کو اس سے پیچھے لیے چلتے ہیں۔ 1926 علامہ اقبال پنجاب لیجسلیٹو کونسل کا الیکشن لڑے تو مدمقابل ملک محمد دین اور اس کے حامیوں نے ان پر وہ کیچڑ اچھالا کہ الامان والحفیظ۔ان کے مذہبی عقیدے سے لے کر ذاتی زندگی تک کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف پوسٹر دیواروں پر چسپاں کئے گئے۔ یہ باتیں سنی سنائی نہیں ، انھیں فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال نے علامہ اقبال کی سوانح ’’ زندہ رود ‘‘ میں حوالوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ایک مختصر اقتباس دیکھیے:

’’ انتخابی مہم میں ملک محمد دین، اقبال پر مختلف سمتوں سے حملہ آور ہوئے۔ اُن کا ایک زاویہ یہ تھا کہ اقبال کے عقائد قابلِ اعتراض ہیں۔ یعنی وہ وہابی العقیدہ ہیں لیکن ملک محمد دین اہل سنت و الجماعت ہیں۔ یہ پہلو اس لیے فائدہ مند تھا کہ اقبال نے اسرار خودی میں حافظ شیرازی پر تنقید کر کے بعض مشائخ سے دشمن تصوف کا خطاب پایا تھا۔ نیز سلطان ابنِ سعود کے حق میں بیان دے کر علماء کے ایک طبقہ سے انہوں نے کفر کا فتویٰ بھی حاصل کر رکھا تھا۔ ملک محمد دین کا دوسرا زاویہ یہ تھا کہ اقبال کشمیری برادری سے تعلق رکھتے ہیں مگر چونکہ ملک محمد دین آرائیں ہیں ،اس لیے ارائیں برادری کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آرائیں ہی کو اپنا نمائندہ چننا چاہیے۔ ان کا تیسرا زاویہ اشتہارات کے ذریعہ اقبال کے ذاتی کردار پر کیچڑ اچھالنا یا ان کی کردار کشی کرنا تھا۔ ملک محمد دین کی انتخابی مہم کا یہ پہلو نہایت افسوسناک تھا۔ اس قسم کے چودہ اشتہار سوالات کی شکل میں دیواروں پر چسپاں کیے گئے اور ان کا اسلوب الزام تراشی یا بہتان طرازی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اقبال کی طرف سے اِن اشتہارات کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔ اُن کے جلسوں میں اسلامی اتحاد و اتفاق برقرار رکھنے کی تلقین کی گئی، ذات برادری کی غیر اسلامی قیود کے خاتمہ کی ترغیب دی گئی اور اختلافاتِ عقائد سے احتراز کیا گیا۔ کسی جلسہ میں کسی کے خلاف کچھ نہ کہا گیا اور اگر کسی کے منہ سے جوش میں آکر کوئی نازیبا کلمہ نکل بھی گیا تو اسے روک دیا گیا‘‘

علامہ اقبال کے حریف جس رنگ میں گفتگو کررہے تھے وہ تو آپ نے دیکھ لیا، دوسری طرف اقبال اپنی تقریروں میں مذہب جیسی مقدس چیز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کر رہے تھے ایک مجمعے میں انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا : ’’ میں ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانا بدترین گناہ سمجھتا ہوں۔ میں عنقریب نوجوانوں کا ایک جیش تیار کروں گا جو مسلمانوں کے درمیان فرقہ پرستی کی موجودہ لعنت کو بیخ و بنیاد سے اکھاڑ دے گا‘‘

علامہ اقبال الیکشن جیت گئے لیکن اس سے پہلے انتخابی مہم کے دوران ایسا واقعہ ہوا کہ وہ بجھ کر رہ گئے۔ ایک دن وہ حفیظ جالندھری کے ہم راہ اندرون شہر کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے، رستہ میں جو ملتا اسے سلام کرتے جیسا کہ امیدواروں کا عام طور ہوتا ہے، ایک صاحب سے جو ان کے حریف کا سپورٹر تھا اسے سلام کیا تو اس نے جواب میں اپنی دھوتی اٹھا دی اور ننگا ہوگیا۔ اس حرکت نے اقبال کی طبیعت مکدر کردی اور انھوں نے حفیظ جالندھری سے کہا :

’’ اس قوم کے مصائب کے سبب میری راتوں کی نیند اچاٹ ہے لیکن اس کے افراد اخلاق اور مروت کی دولت سے کیوں محروم ہیں؟‘‘

اس واقعہ کے چوالیس سال بعد علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال نے الیکشن میں حصہ لیا تو ایک مولانا صاحب نے انھیں حضرت نوح علیہ السلام کے نافرمان بیٹے کے مصداق قرار دیا جبکہ ایک دوسرے مولانا صاحب انھیں پہلے ہی مرتد قرار دے چکے تھے۔


افکار و نظریات: سیاسی مرتد اور کافر