پاکستان اور اشرافیہ

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

تخلیق پاکستان درآصل متحدہ ھندستان کی مسلمان اشرافیہ کی مرھون منت رہی ھے ،پاکستان کی تخلیق میں کبھی بھی غیر اشرافیہ کا کوئی کردار نہیں رہا اور نہ ھی ان میں اتنی سکت تھی کے ایک ایسی تحریک کا آغاز کرتے جو ایک جداگانہ ملک پہ منتحج ھوتی ۔

البتہ یہ ضرور ھوا کے غیر اشرافیہ نے اشرافیہ کا ساتھ ضرور دیا اور وہ بھی اس خواب کے حصول کے لیے کے انکی زندگی ایک جداگانہ ملک میں بہتر ھو گی ۔

بد قسمتی سے اشرافیہ نے پاکستان کو اپنی ڈھال اور پناہ گاہ کے طور پہ لیا اور آج تک اس ملک میں حقیقی راج اور امور مملکت میں اشرافیہ کا ھی اھم کردار ھے یا پھر دوسرے الفاظ میں ریاست پاکستان اشرافیہ کے ھاتھوں یر غمال ھے ۔

یہ بھی حقیقت ھے کے بوقت تقسیم ھندستان ،میں بھی سیاسی لیڈر شپ اشرافیہ ھی کے پاس تھی لیکن انکے پر خلوص عوامی جزبے کے تحت آج ھندوستان ایک مستحکم جمھوری ریاست کے روپ میں دنیا سے ،سب سے بڑی جمھوریت ،کا اعزاز منوا رہا ھے ۔

تقسیم ھند سے پہلے نہرو خاندان نے جو اس وقت کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ھوتا تھا باقاعدہ یہ عوامی اعلان کیا کے وہ اب کبھی بھی درآمد شدہ اشیا استعمال نہیں کریں گے ۔اندرا  گاندھی مرحومہ اپنی سانحہ حیات میں لکھتی ہیں کے میری عمر دس بارہ سال کی تھی ،جب ھمارے گھر کے وسیع و عریض صحن میں ھر وہ سامان لا کر جمع کیا گیا ،جس کا تعلق بیرونی ممالک سے تھا ،جن میں ھمارے کپڑے ،فرنیچر ،کراکری  اور یہاں تک کے میری ایک گڑیا تھی جو انگلستان سے لائی گئی تھی ،اسے بھی اس ڈھیر پہ ڈال دیا گیا اور آگ لگا دی گئی ۔

تقسیم ھند کے بعد جواہر لال نہرو نے ایک حقیقی جمھوریت کی بنیاد رکھنے کے لیے سب سے پہلے یہ کیا کے انتخابات کرائے تا کے تقسیم شدہ ھندستان کے عوام سے ایک نیا مینڈیٹ لیا جائے ،یہ ہی کام شیخ مجیب ارحمان نے بنگلہ دیش بننے کے بعد کیا جبکے قاعد اعظم اور بھٹو نے ایک نیا مینڈیٹ لینے کی کوشش نہیں کی ، نہرو نے ایک اور انقلابی قدم اٹھایا کے زرعی اصلاحات کے نام پہ ھندوستان کے جاگیر داروں کا صفایا کر دیا اور راجوں مہاراجوں کی ریاستوں کو قومییایہُ گیا ۔

جمھوریت کی جڑیں اس وقت اپنی گرفت لیتی ہیں جب جمھوری روایات کو پنپنے دیا جاتا ھے اور عوام کو جمھوری روایات سے آگاہی فراہم کی جاتی ھے ۔

پاکستانی اشرافیہ کا کردار جمھوری اقدار کے حوالے سے کبھی بھی قابل ستائش نہیں رہا بلکے یہ کہا جائے کے عوامی اور جمھوری حقوق کے نام پہ ریاستی خزانے کو لوٹا گیا ،ریاست کو بے دست و پا کیا گیا ،عوام کو سبز باغ دکھائے گئے ،پارلیمان کو اپاہج کیا گیا ،ملک کو تقسیم ھونے دیا گیا اور آج  یہ ایٹمی قوت کا حامل ملک بھکاریوں کی صف میں  کھڑا ھے ۔

بد قسمتی سے اس اشرافیہ کا ساتھ عدلیہ اور فوج نے بھی بھر پور دیا یا پھر یوں کہیے ان دونوں اداروں نے اشرافیہ کے ھاتھوں اور پاوں کا کردار ادا کیا ،آج بھی جو جنگ ھمیں عدلیہ اور اشرافیہ کے مابین دکھائی دیتی ھے ،دراصل وہ کوئی عوام کی خاطر نہیں کی جارہی بلکے اشرافیہ کی آپس کی ھی لڑائی ھے کے کون کس پہ برتری حاصل کرے گا ورنہ پانامہ میں تو اور بھی چار سو نام ہیں ۔

اشرافیہ کی یہ جنگ عدلیہ سے ھوتی ھوئی پارلیمان تک میں لڑی جاتی ھے ،عوام اس میں  تماشائی  ہیں یا پھرہاتھیوں  کی اس لڑائی میں پستی ھوئی گھاس ھے ۔

 


افکار و نظریات: پاکستان اور اشرافیہ