نوّے فی صد ادب

عبدالوحید

ادب کیا ہے؟ ادب اظہار ہے ایک فرد کے جذبات و احسات کا ۔۔۔ تجربات و مشاہدات کا ۔۔۔ فرد کا اپنے آپ سے اور دیگر افراد سے۔ لیکن یہ اظہار کیوں ہے ؟ کوئی بے چینی ہے ۔ عدم اطمینان ہے ۔ کوئی آسودگی ہے یا نا آسودگی ۔۔۔

لیکن اس اطمینان یا عدم اطمینان کا تعلق درون ذات سے ہے یا بیرون ذات سے؟ یا دونوں سے؟ درون ذات کا عدم اطمینان آخری تجزیہ میں بیرون ذات کے عدم اطمینان سے جا ملتا ہے اور وہیں سے پھوٹتا دکھائی دیتا ہے۔ بیروں ذات کا عدم اطمینان کیا ہے؟افراد کے درمیان عدم اطمینان ۔۔انسانی رشتوں کا عدم اطمینان ۔۔

انسانی رشتون میں عدم اطمینان کیوں ہے؟

سماج کی وہ کون سے بنت ہے جو انسانی رشتوں میں عدم اطمیان کو جنم دیتی ہے۔ اس بنت کی تلاش ضروری ہے اس کی تفہیم ۔۔۔ اور پھر اس بنت کو ایسے سماجی بنت میں ڈھالنے کا کام جس سے انسانی رشتوں میں عدم اطینان کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایسی سماجی بنت جو انسانی نفیسات میں لوٹ کھسوٹ کی فضا پروان چڑھاتی ہے اسے بدلا جائے تاکہ رشتوں مین عدم اطمینان کا خاتمہ کیا جا سکے۔

جو ادب پارہ اس سماجی بنت کے خدوخال واضح نہیں کرتا مصنوعی ادب پارہ ہے جو ادب پارہ سماج کی استحصالی بنت کے تضادات پر بات نہن کرتا جھوٹ ہے فریب ہے بددیانتی ہے ۔۔۔ ادب سے ۔۔۔ سماج سے ۔۔۔ اپنے آپ سے۔

یہ ہے وجہ ہے کہ مجھے دنیا کے 90٪ ادب کو پڑھنے سے سخت کوفت ہوتی ہے ۔ لفظوں کی جادوگری مجھے کبھی بھی مسحور نہیں کر پاتی ۔۔۔ محبت کا دکھ ۔۔۔ بے وفائی کا دکھ ۔۔۔ سب سے بڑا فریب ہے جس کے گرد ادب کی بیشتر اصناف گھومتی ہیں ۔۔۔۔ لیکن محبت کا دکھ کیا ہے ؟ اگر دو محبت کرنے والے ایک دوسرے کو نہیں پا سکتے تو یا تو دکھ بھری شاعری کرتے ہیں یا دوسروں کی شاعری پڑھ کے اپنے دکھ کے زخموں پر مرہم لگاتے رہتے ہیں ۔۔۔

لیکن اس دکھ کے گرد گھومنے والی کہانی یا نظم یا غزل کو لکھنے والے اس دکھ کی اصل وجہ پر ایک لفظ بھی نہیں کہتے ۔۔۔ یہ ہی ان کاجھوٹ ہے فریب ہے جو وہ خود کو بھی دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی۔

بے وفائی ۔۔۔۔ طبقاتی سماج کا سب سے بڑا افسانہ ۔۔۔ سب سے بڑا جھوٹ ۔۔۔

کوئی کسی سے بے وفائی نہیں کرتا ۔۔۔۔ سیاق و سباق بدل جاتا ہے دوسرے آدمی کا ۔۔۔ ہم سب ۔۔۔ ہمارا ہر فعل ۔۔۔ زندگی کا ہر مفہوم اپنے معروض کے سیاق و سباق سے متعین ہوتا ہے ۔ پھر ہم کسی کو بے وفائی کو طعنہ کیوں دیتے ہیں؟ کیوں بے وفائی کا رونا روتے ہیں ؟

مجھے نفرت ہے 90٪ ادب سے ۔۔۔ میرا دل ڈوب جاتا ہے جب بھی دنیا کے بڑے افسانوں اور بڑے ناولوں کو اٹھاتا ہوں ۔۔۔ نام نہاد بڑی شاعری کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں ۔۔۔ لیکن دو چار صفحات پڑھ کے رکھ دیتا ہوں کیونکہ میں ایک صفحہ پڑھتے ہی اس ادب پارے کا سارا مفہوم سمجھ جاتا ہوں کہ تان کہاں پر ٹوٹے گی ۔

میرے نزدیک نوّے فی صدادب لوگوں کو گمراہ کرنے کا بہت بڑا ہتھیار ہے۔


افکار و نظریات: نوّے فی صد ادب