ہمارے اہم قومی مسائل

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

عوام  ،ممالک کے تحفظ کی ضامن ہوتے ہیں۔باشعورحکمران  اپنے عوام  پر فخر کرتے ہیں،استعمار جب بھی کسی ملک کو توڑنا چاہتاہے تو سب سے پہلے اس کے عوام  کو فکری و علمی نیز اخلاقی طور پر کمزور کرتاہے،چونکہ صرف کمزور  اور عقب ماندہ عوام  ہی استعمار کے آلہ کار بنتی ہیں۔جب تک کسی ملک  کے عوام علمی و فکری لحاظ سے مضبوط رہتے ہیں ،اس ملک  کا پرچم سربلند رہتاہے۔

یہاں پر ہم یہ نکتہ بیان کرتے چلییں کہ کوئی بھی شخص جتنا باصلاحیت اور لائق ہوتا ہے ،اس کی اپنی حکومت سے توقعات بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہیں۔  مملکت پاکستان ہمارے پاس ایک الٰہی نعمت ہے اورہمارے مسئولین کے پاس  اس کی اہم پوسٹیں ایک خدائی امانت ہیں۔چنانچہ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں مملکت خداداد میں  دین اور ملک و قوم کی خدمت کا شرف حاصل ہوتاہے۔

اس وقت ہمارا ملک جن مسائل میں گھرا ہوا ہے ان  کے حل کی اصلی کلید پاکستان کے  ریاستی اداروں کےپاس ہی ہے۔لہذا ملت پاکستان اپنے  اداروں سے یہ امید رکھتی ہے کہ وہ  اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئےاس ملت کو مسائل سے نجات دلائیں۔

اس وقت ہمارے اہم مسائل کی فہرست ہم پیش کئے دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ہمارے  ریاستی ادارے ،ان مسائل کو حل کرنے میں اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کریں گے۔

۱۔مسئلہ کشمیر

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی  ملت کبھی بھی غیرجانبدار نہیں رہ سکتی لیکن اس مسئلے کو کشمیری عوام کی منشا  اور رضایت کے بغیر حل بھی نہیں کیاجاسکتا۔دشمنوں کی چالوں اور اپنوں کی نااہلی کے باعث گزشتہ چند سالوں سے اس مسئلے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اس وقت کنٹرول لائن پر پائی جانے والی کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن اس کے باوجود یہ جان لیجئے کہ موجودہ کشیدگی کسی مسئلے کا حل نہیں۔پاکستانی ریاستی اداروں کو اس حقیقت کو درک کرنا چاہیے کہ پاکستان میں ہونے والی فرقہ وارانہ قتل و غارت کا براہِ راست اثر اہلیانِ کشمیر پر پڑا ہے۔کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کو اپنا جزوِایمان سمجھنے والے کشمیری اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ پاکستان میں شامل ہوتے ہیں تو کسی ہندو کی گولی کے بجائے کسی تکفیری کے فتوے کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔

پاکستان کو اپنی آخری اور اصلی منزل سمجھنے والے کشمیریوں کی نئی نسل اپنے ابا و اجداد کے فیصلے پر نظر ثانی کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔اس وقت پاکستان میں پائے جانے والے تکفیری عناصر کے حوالے سے پاکستانی علمائے کرام اور عوام  کو فیصل کن کردار ادا کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے مرحلے میں مسئلہ کشمیر کے سلسلےمیں پاکستان سے تکفیریت کا خاتمہ ضروری ہے۔

دشمن پاکستان میں ہونے والی فرقہ وارانہ قتل و غارت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہاہے،لہذا پاکستانی علمائے کرام اور عوام  کو بھی  تکفیریت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

۲۔جہادی گروہ ضرورت یا مصیبت

بلاشبہ پاکستان نے کسی دور میں روس اور ہندوستان سے نمٹنے کے لئے جہادی گروپوں کو تشکیل دیا تھا۔اب یہ گروپس اپنے اصلی خطوط سے منحرف ہوچکے ہیں اور اپنے اصلی محازوں کو چھوڑ کر گلی کوچوں میں نہتے عوام کا خون بہارہے ہیں۔

اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ جو گروپس آئین پاکستان  اور افواج پاکستان کی تابعداری کرتے ہیں اور اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہیں انہیں باقی رہنا چاہیے لیکن جو قائد اعظم کو کافر اعظم ،پاکستان کو کافرستان، ملت پاکستان کو کافر و مشرک ،آئین پاکستان کو شرک اور پاک فوج   کو ناپاک فوج  کہتے ہیں ،ایسے گروپوں کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔

ایسے گروپ، ہماری نوجوان نسل کو نظریہ پاکستان کے خلاف  ابھارتے ہیں،اپنے ہی ملک کے خلاف اکساتے ہیں اور خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نہتے اور بے گناہ لوگوں کا خون بہاتے ہیں۔

ایسے گروہوں  کو فعالیت کی اجازت دینا در اصل پاکستان کی جڑوں کو کاٹنا ہے۔لہذا ریاستی اداروں  کو سب سے پہلے اپنے ان اندرونی دشمنوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

۳۔ملکی اثاثوں کی حفاظت

ملکی اثاثوں میں صرف ایٹمی اثاثہ جات نہیں آتے بلکہ ہمارے ملک کے اصلی اثاثہ جات وہ دانشور ،پولیس آفیسر اور آرمی کے جوان ہیں جو اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔گزشتہ کئی سالوں سے ہمارے ملک میں شعرا،ادبا،دانشمندوں اور پولیس و فوج نیز علمائے کرام اور عوام  کی قیمتی شخصیات اس کے علاوہ سکول کے بچوں کو شہید کیا جارہاہے۔

موجودہ صورتحال ہم سب  کے سامنے ہے،اب فوج، علمائے کرام اور عوام  کو چاہیے کہ ایٹمی اثاثوں کی طرح اہم شخصیات اور مراکز کی حفاظت کو بھی اپنی اولین ترجیح قرار دیں۔

۴۔دوسرے ممالک کے نفوز کا خاتمہ

پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد اور سرپرستی کے حوالے سے،افغانستان ،ہندوستان اور سعودی عرب کا نفوز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔دہشت گرد گروہ جہاں اندرونی طور پر ہمیں کمزور کرتے ہیں وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو دھچکا لگتاہے۔پاکستان کی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں پاکستان کے مفاد کے خلاف  دیگر ممالک کے اشاروں پر چلنے والے تمام  نیٹ ورکس کو توڑا جائے اور ایسے اداروں کو سیل کیاجائے۔ یہ کام علمائے کرام اور عوام  کی مدد و حمایت کو بروئے کار لائے بغیر نہیں ہوسکتا۔

۵۔پاکستان آرمی سے فرقہ واریت کا خاتمہ

اگرچہ پاکستان آرمی بظاہر ہرقسم کی فرقہ واریت سے پاک ادارہ ہے لیکن یہ حقیقت اظہر من الشّمس ہے کہ  جنرل ضیا الحق کے زمانے میں ایک مخصوص فرقے کی تبلیغ کو آرمی میں رائج کیاگیا۔اس کے اثرات سے انکار نہیں کیاجاسکتا،لہذا پاکستان آرمی سے فرقہ وارانہ سوچ کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ختم کرنے کی ضرورت ہے اور فرقہ واریت کی جگہ بھائی چارے،اخوت اور مواخات کی عملی ٹریننگ کے لحاظ سے اقدامات کئے جانے چاہیے۔

۶۔کرپشن کا خاتمہ

پاکستان ایک اسلامی و نظریاتی ملک ہے۔جولوگ اس ملک میں کرپشن کرتے ہیں وہ در اصل ملک و قوم کے غدار ہیں۔ان غداروں سے نمٹنے کے لئے پاکستانی ریاستی اداروں خصوصا نیب کے پاس شفاف اور بااختیار مانیٹرنگ سیل ہونا چاہیے۔

یاد رکھئے !کرپشن صرف بڑی سطح پر نہیں ہوتی بلکہ میڈیسن کمپنیوں،پلاٹوں کی خریدوفروخت، تھانے، کچہری ،نادرا ،برقیات اور دیگر اداروں میں میں چپراسی اور اردلی  کی سطح سے شروع ہوتی ہے اور اوپر کی سطح تک جاتی ہے۔

لوگ پریشان حال ہیں،کہیں میرٹ نہیں کہیں شنوائی نہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔برقیات والے بغیر میٹر ریڈنگ کے بل دیتے ہیں،واٹر سپلائی والے  کئی ہفتوں تک پانی ہی نہیں دیتے،دہشت گرد دندناتے ہیں،عدل بکتا ہے،انصاف سسکتاہے،مخلوق خدا بے بس ہے۔

ایسے شکایات سیل ہونے چاہیے جہاں لوگ اپنی چھوٹی موٹی شکایات سے لے کر بڑے  بڑےمسائل تک سب کچھ لے کر جائیں اور کسی  دیانتدار ادارے کی زیر نگرانی  عوامی مسائل حل کئے جائیں۔اس طرح سے ریاست پر عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہوگا اور جذبہ حب الوطنی میں بھی  اضافہ ہوگا۔

۷۔قبائلی علاقہ جات

قبائلی علاقہ جات کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔جب تک قبائلی علاقہ جات قومی  دھارے  کے وجود کے قائل نہیں ہوتے اس وقت تک ملکی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ قبائلی علاقوںمیں نصاب تعلیم اور میڈیا کے ذریعے اجتماعی اور قومی شعور کو پروان چڑھایاجائے۔اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقہ جات کی تعمیروترقی میں بھی وفاق اور صوبوں  کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور وہاں کےعوام کے ساتھ مکالمے کی فضا کو بہتر بنانا چاہیے۔

۸۔شمالی علاقہ جات کے آئینی حقوق

پورے ملک خصوصا شمالی علاقہ جات کے عوام اور علمائے کرام یک جان دو قالب ہیں۔پاکستانی علمائے کرام اور عوام  کو شمالی علاقہ جات کے عوام کے آئینی حقوق کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور چونکہ   جنرل باجوہ کو کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے لہذا شمالی علاقہ جات کے لوگ اپنے آئینی حقوق کے حوالے سے ان سے امیدیں لگانے میں حق بجانب بھی ہیں۔

۹۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد

نیشنل ایکشن پلان کو اس کے حقیقی اہداف کی طرف پلٹانے کی ضرورت ہے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ملکی تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں۔علمائے کرام اور عوام  کی سب سے اہم ذمہ داری ملکی تحفظ ہے اور یہ تحفظ نیشنل ایکشن  پلان پر عملدرآمد کے بغیر ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ عوام اور ریاستی ادارے ،ممالک کے تحفظ کے ضامن ہوتے ہیں۔جو عوام اور ادارے اس امتحان میں پورے اترتے ہیں آئندہ نسلیں ان کی عظمت کے گن گاتی ہیں اور جو اس امتحان میں پیچھے رہ جاتے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

 


افکار و نظریات: عوام کی اہمیت