سماجیات کے دس اصول

1۔ ایمان 

جتنا ایمان مضبوط ہوگا، اتنے ہی کام آسان اور ہم ہدف کے نزدیک تر ہوتے چلے جائیں گے۔ اپنے اندر ایمان کو کبھی کمزور نہ ہونے دینا، ایمان روز بروز مضبوط ہونا چاہیئے۔

2۔ عملی پروگرام

 ایسے عملی پروگرام تشکیل دیں کہ جن میں اسلامی اصول اور مومن و متدین افرادی قوت نمایاں نظر آئے۔ ایسے پروگرام تشکیل دیں کہ جس طرح ہمارے مومن بھائی اور مومنہ بہنیں دینی عمل میں اپنے غیر مسلمان ہم عصر لوگوں سے صالح ہیں، اسی طرح معاشرے کے لیے بھی ان سے زیادہ فائدہ مند ہوں۔ اگر آپ لوگوں کا عمل لوگوں کے لیے فایدہ مند ہوگا تو آپ ہمیشہ کے لئے ان کے دلوں میں زندہ رہیں گے، یہ قرآن کا وعدہ ہے (فاماالزبد فیذھب جفإ و اما ما ینفع الناس فیکمث فی الارض) سب بہہ جانے والا ہے اور وہ جو انسانوں کے لیے فائدہ مند ہے باقی رہے گا۔(رعد ۱۷) لہذا اپنی انفرادی خود سازی اور اجتماعی خود سازی میں اپنی انجمنوں اور تنظیموں کے ایسے پروگرام ترتیب دیں کہ لوگوں کی خدمت کے میدان میں سب سے نمایاں نظر آئیں، مگر یہ کام لوگوں سے تعریف وصول کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ خدا کے لئے ہو۔

3۔ اپنے رابطوں کو مضبوط بنائیں

جب ایک گروہ اقلیت میں ہو تو اسے کوشش کرنا چاہیے کہ اپنے وسیع اور مضبوط رابطوں سے وہ اپنی افرادی قوت میں اضافہ کریں۔ آپ جتنے زیادہ متحد اور تعداد میں زیادہ ہوں گے، طاقت کا احساس کریں گے۔

4۔ نئے افراد کو جذب کرنا

 ایک مسلمان قوت جاذبہ اور دافعہ دونوں کا حامل ہوتا ہے۔ تنظیمی لوگوں کی قوت جاذبہ بہت زیادہ ہونی چاہیئے۔ تنظیمی لوگوں کا کردار اور گفتار ایسی ہونی چاہیئے کہ اردگرد رہنے والوں کو ایک ایک کر کے اپنی طرف جذب کرے، بلکہ افراد کو اپنی طرف جذب کرنے کا آپ کے پاس پروگرام ہونا چاہیئے۔ کبھی ایسا نہ سوچیں کہ یہ جو ہمارے مخالف ہیں، بس ان کا کام ختم ہوچکا ہے اور اب یہ درست نہیں ہوسکتے، ایسا بالکل نہیں ہے، انسان تبدیل ہوسکتا ہے۔ بہت سارے اچھے اور نیک لوگ لڑکھڑانے لگتے ہیں اور بہت سارے برے افراد تبلیغ اور اچھے برتاو سے اچھے انسان بن جاتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات آپ کو نہیں بھولنا چاہئیں، اسلام کہتا ہے کہ زندگی کے آخری لمحات تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

 

5۔ نظم و ضبط

جو بھی کام انجام دیں وہ تنظیمی نظم و ضبط کے مطابق ہو۔ ہم مسلمان نظم وضبط کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں، نظم وضبط کو زیادہ اہمیت دیں مگر فرعونی نظم و ضبط نہیں، کیونکہ بعض اوقات نظم و ضبط طاغوتی ہوجاتا ہے۔ ہمارا نظم و ضبط الٰہی و نورانی ہونا چاہیئے۔

6۔ صلاحیتوں کی شناخت اور نکھار

باصلاحیت افراد کی شناخت جو تنظیم کے کلیدی اور اہم عہدوں کے لئے موزوں ہوں اور قابلیت رکھتے ہوں بہت اہم ہے۔ بعض اوقات ہم ایک بہت متقی اور دین دار فرد کو ایک اہم عہدہ دے دیتے ہیں مگر کیونکہ وہ اس عہدے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہوتا، برا اثر چھوڑتا ہے۔ آپ لوگ اپنے اگلے دس سال کے لیے باصلاحیت افراد کی شناخت کریں اور ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں تیار کریں۔

7۔ اپنی معلومات میں اضافہ کریں

 اسلامی تعلیمات کا بہت مطالعہ کریں، اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل مطالعہ بھی ہونا چاہیئے۔ آپ میں سے ہر ایک کا شرعی وظیفہ ہے کہ ہفتے میں کچھ وقت اپنے شعبے سے متعلق ٹیکنکل مطالعہ ضرور کریں۔ اس مطالعہ سے آپ کی ٹیکنکل صلاحیتوں میں اضافہ ہونا چاہیئے۔

8۔ دشمن اور مخالفین سے درست طریقے سے پیش آنا

 اپنے مخالفین سے درست طریقے سے پیش آنا سیکھیں۔ بعض اوقات ہمارے برادران و خواہران مخالفین کے ساتھ سخت رویی سے پیش آنا چاہتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے معاشرے میں خود ہی قصوروار ٹھہرتے ہیں۔ مخالفین سے پیش آنے کا طریقہ درست ہونا چاہیئے ، اپنے مخالفین سے پیش ّآنے کے طریقوں پر مل بیٹھیں، آپس میں بات کریں اور درست طرز عمل کو اپنائیں۔

9۔ اپنے اوپر تنقید

مجھے نہیں معلوم آپ تنظیموں اور انجمنوں کے افراد کبھی آپس میں اکٹھے ہو کر بیٹھتے اور یہ سوچتے ہوں کہ اس ہفتے میں ہمارے کاموں کے نقائص اور عیب کیا تھے۔ اس طرح بیٹھ کر ایک دوسرے کی غلطیوں کے بارے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (المومن مرآت المومن) یعنی مومن مومن کا آینہ ہے، آئینے کا ایک کام یہ ہے کہ وہ انسان کے عیب اسے بتاتا ہے۔ لہذا ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد ایک گھنٹہ اکھٹے بیٹھیں، خندہ پیشانی کے ساتھ ہر کوئی اپنے عیب خود بیان کرے، پھر جو رہ جائیں وہ دوسرے بیان کریں، پھر سب کے عیب اور خامیاں بیان کی جائیں۔

 10۔ مستقبل کے بارے پرامید رہیں

کسی بھی مسلمان کو ناامید ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مسلمان سراپا امید ہے۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ لوگ ہیں کہ مشکلات میں مایوس ہو جاتے ہیں۔ ایک مومن کو ہمیشہ پرامید ہونا چاہیئے۔ قرآن اور اسلام کی تعلیمات نے ہمیں کس قدر تاکید کی ہے کہ کوئی چیز پا لینے پر خوشی کا اظہار کریں.


افکار و نظریات: سماجیات کے دس اصول