نوٹ ـ ٹیکر

فرحان منہاج

جب کسی بھی ملک کے سربراہ یا وفد آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو وہاں آفیشل دونوں کی ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کو نوٹ کرتے ہیں جو یہ کام کررہا یا کررہے ہوتے ہیں وہ اس ملاقات میں نوٹ ـ ٹیکر کہلاتے ہیں.

اس نوٹ کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور خارجہ پالیسی اور ڈپلومیسی کا حصہ بن جاتا ہے ـ ممالک کے سربراہ رسمی ملیں یا غیر رسمی انکی ملاقات میں نوٹ ٹیکر ضرور ہوتا ہے.

آپ کو یاد ہوگا کہ ایک وکی لیکس کے نام سے ممالک کے درمیان گفتگو کا ڈیٹا لیک کیا گیا تھا جس پر بہت ہنگامہ بھی مچا تھا اس میں زیادہ تر ڈیٹا انہی نوٹ - ٹیکرز کا تھا جو ملاقاتوں میں ساتھ ہوتے تھے ـ

یہاں تک تو آپ سمجھ گئے ہوگے کہ نوٹ ٹیکرز کیا ہوتے ہیں اور انکی اہمیت کیا ہوتی ہے. یعنی نوٹ ٹیکرز ملاقات کی گفتگو کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہیں اور یاد رہے ون ٹو ون ملاقات میں بھی نوٹ ٹیکر موجود ہوتا ہے صرف میڈیا نہیں ہوتا.

اب آئیے آپ کو ایک مشکوک حرکت جو ہمارے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کی ہے اسکا بتاتے ہیں 17 مارچ کی ڈان میں ڈان اخبار نے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو کہ اس وقت امریکہ میں نجی دورے پر ہیں انکی غیر رسمی ملاقات امریکی نائب صدر مائیکل پینس سے ہوئی اس ون ٹو ون ملاقات میں امریکی نائب صدر کی جانب سے نوٹ ٹیکر امریکی نائب صدر کے جنوبی ایشیاء کے امور کے مشیر تھے جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم کی طرف سے کوئی بھی نوٹ- ٹیکر موجود نہیں تھا.

یہ بات انتہائی تشویشناک اور مشکوک ہے کہ امریکی نائب صدر نے اس ملاقات کو یاداشت اور ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے جبکہ ہمارے وزیراعظم نے ایسا کچھ نہیں کیا. آخر کیوں؟ اس وقت جب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی نازک موڑ پر ہوں یہ حرکت ناقابل فہم ہے. اور پھر عین الیکشن سے پہلے اس ملاقات کے بارے میں مزید شکوک پیدا ہوتے ہیں ـ.

اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر شاہد خاقان عباسی کا محاسبہ ہونا چاہیے اور ان سے جواب طلبی ہونی چاہیے لیکن افسوس پاکستان میں ایسا کبھی ہوا نہیں ہے اور نہ ہوتا نظر آرہا ہے.

#ضرب_تحریر.


افکار و نظریات: نوٹ ـ ٹیکر