خوف کس کا؟ سازش کس کے خلاف؟

عبدالوحید

میرا ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کہ میں سفارتی کاری کے معاملات میں عقل کل ہوں مجھ کو پورا احساس ہے کہ سفارت امور بہت نازک ہوتے ہیں تاہم میر ی اور میری تحریر کی ایسی حیثیت نہیں کہ اس نقار خانے میں سنی جائے گی او ر پھر میری سوئی جو اٹکی ہے وہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور امریکہ کے نائب صدر کے ملاقات پر ہے میں اس طرف شایدمتوجہ نہ ہوتا لیکن جس طرح ہمارے وزیر اعظم نے یہ ملاقات کی وسوسوں سے بھر ا میر ا دل و دماغ عرض کرنے کی جرات کر رہا ہے 
ہمارے وزیر اعظم جب پاکستا ن سے روانہ ہوئے تو ا س کوخالص نجی دورہ قرار دیا مقصد یہ بتایا گیا کہ شاہد خاقان عباسی اپنی ہمشیرہ کے حوالہ سے گئے ہیں ان کی ہمشیرہ کا امریکہ میں آپریشن ہے او روہ اس موقع پر وہاں موجود ہونا چاہ رہے ہیں اس وجہ سے ہی پاکستان کے وزارت خارجہ کواعتماد میں لینا تو دور کی بات سرے سے ہی لاعلم رکھا گیا۔

واشنگٹن میں بھی غالب امکان یہ ہی ہے کہ پاکستان کے سفارت کاروں کو اطلاع نہیں دی گئی چونکہ وزیراعظم نجی دورے پر ہیں اس لئے پاکستان کے سفارت خانہ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں جس میں پروٹوکول یاصحافیوں سے ملاقات وغیرہ کے معاملات ہوتے ہیں اس سارے چھپ چھپانے کے بعد واشنگٹن سے اطلاع موصول ہوئی کہ ہمارے وزیر اعظم نے امریکہ کے نائب صدر سے ملاقات کی ہے جو کہ 30منٹ تک جاری رہی۔

 سفارتی معاملات میں مکمل اناڑی ہونے کے باوجود اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس یا اعلامیہ جاری ہوتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا ہاں البتہ اس ملاقات کے تین گھنٹے بعد ایک بریفنگ دی گئی بریفنگ امریکی وزارت خارجہ میں مامور اس شخصیت جس کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ ہمارے خطے پر نظر رکھے انہوں نے کہاہے کہ اگر پاکستان نے وہ کچھ نہ کیا جو کہاگیاہے تو امریکہ خود کرے گا باالفاظ دیگر دہشت گردوں کے گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے جیسا کہ امریکہ کی خواہش ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیوں کہ گذشتہ چھ ماہ سے امریکہ اس نقطہ پراڑا ہوا ہے اور ہماری کوششوں اور قربانیوں کو اس طرح دیکھنے کے لئے تیار نہیں جس طرح کہ ہم بیان کر رہے ہیں۔

اس ملاقات کا پاکستان کے میڈیا میں بھی کوئی زیادہ چرچا نہیں ہوا تاہم ایک چینل پر ایک اینکر نے اس ملاقات کو کارگل کے بعد نواز شریف کی امریکی حکام سے ملاقات کے پس منظر سے تقابل کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے 
سفارت کار اور ایسے امور کے ماہر ہی اس حوالہ سے رائے دے سکتے ہیں کہ اس ملاقات کے نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں جوسامنے کی بات ہے وہ میں نفسیات کے شعبہ کی ابجد کے ابتدائی لفظ جانتے ہوئے کہوں گا کہ خفیہ میں جوہوتا ہے اس میں تین امکانات ہوتے ہیں جویہ ہیں

1۔عبادت 2۔خوف 3۔سازش

اس ملاقات میں عبادت تو ہوئی نہیں البتہ ہمارے وزیراعظم کوشاید کوئی خوف ہو جس کی وجہ سے اس سارے معاملہ کوخفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی یا پھر سازش ہے لیکن یہ ساز ش کس کے خلاف اور کیوں 
اس ساری صورت حال میں وزیر اعظم سے ہی سوال کیا جا سکتا ہے کہ ان کو خوف ہے تو کس کااور ساز ش ہے تو کس کے خلاف

 


افکار و نظریات: خوف یا سازش