بلوچستان اور نئی حلقہ بندیاں

میر اسلم رند

بلوچستان میں مختلف پارٹیوں کی کمزور کارکرگی کی وجہ سے عوام اس وقت گو نہ گو مسائل سے دوچار ھے تعلیم اور صحت بلکل تباہ ہو چکی ھے بیروکریسی اور پولیس میں سیاسی مداخلت عروج پے ھے عوام حکمرانوں کے کارکرگی سے مایوس ہو چکے ہیں 2013 کے الیکشن میں وہ پارٹیاں برسرے اقتدار آئی جن کے کارکنوں نے گزشتہ 25 سالوں سے اپنے لیڈرز کے ہر آواز پے لبیک کہا  قربانیاں دی لیکن ان کی پارٹیوں نے 5 سال کے اقتدار میں اپنی پارٹی کارکنوں کے لئے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے منشور پے عمل درآمد کیا صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے کام کیا یا اپنے قریب کے درباریوں کو نوازہ اس لئے ہر پارٹی کا کا کارکن اپنی پارٹی سے بدزن ہو چکا ھے .

 ہم جب بھی کسی مجلس میں بیٹتے ہیں تو ہر پارٹی کارکن اپنی پارٹی سے دل برداشتہ ھے اب تین سے چار ماہ بعد قومی و صوبائی الیکشن ہونے والے ہیں پھر وہی پرانے نارے ہونگے ایک بار پھر قوم پرست پارٹیاں اپنے عوام کو اکسانے کا کردار ادا کرے گے فلا ہمارا حق کا گیا فلا بیروکریسی نے اپنے کام کرنے نہیں دیا کاش یہ لوک کارکرگی پے اگلا الیکشن لڑتے??

 لیکن میری ان پارٹیوں سے گزارش ھے عوام اب بہت باشعور ہو چکی ھے اب شاہد وہ ان باتوں کو سمجھ گئے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ھے ہمیشہ دیکھا گیا ھے عوام کا استحصال کرنے والے ان کے اپنے لوگ ھے یہاں صرف اقربا پروری ھے یہاں مفادات کی جنگ ھے اصولوں کی نہیں  سنا ھے بلوچستان میں ایک نئی پارٹی بن رہی ھے جو مختلف قبائلی لیڈر اس پے پالاننگ کر رہے ھیں۔

 اگر یہ پارٹی مختلف نوجوان ورکر بنا رہے ھے تو اس کا مسقبل بہتر ہو سکتا ھے اگر وہ پرانے چہرے جنہوں نے 5یا  6 باریاں گزاری ھے تو شاہد عوام ان پے بھروسہ نہ کریں , کچھ  برس پہلے جناب سعید احمد ھاشمی صاحب نے مجھ سے ایک ایسی سیاسی پارٹی کا ذکر کیا تھا جس میں بلوچستان کے ہر قوم ہر قبیلے کے لوگ شامل ہو جو جھوٹ کی نہیں سچ کی سیاست کریں جو بلوچستان کے حقوق کے لئے جہدوجہد کریں صرف مری ,کراچی ,اور اسلامآباد  میں بلوچستان کے فیصلے نہ کریں ?

 بلوچستان کے مفادات کے فیصلے بلوچستان میں ہو لیکن اس بات کو پانچ سال گزر گئے اگر نئی بننے والی پارٹی عوام کے مفادات کے لئے بن رہی ھے تو عوام سے رائے ضرور لینی چاہئے ڈرائنگ میں بیٹھ کر چند لوگ اس کا فیصلہ نہ کریں تمام بلوچستان کے نوجوانوں سے رابطہ کر کے ان کی رائے کو شامل کیا جائے اور ہمارے شامل ہونے والے لیڈران اللہ کو حاضرو ناظر جان کر یہ عہد کریں.

یہ پارٹی اور جہدوجہد عوام کے مفادات کے لئے ہو گی کسی ذاتی مفادات کے لئے نہیں ہو گی کیونکہ اب تو بازار میں یہ افواہ بھی اُڑ چکی ھے کہ شاھد نئی پارٹی کا نام بلوچستان مسلم لیگ ہو گا ,میری ان سے گزارش ھے کوئی نام بھی رکھے اس میں نئی سوچ شامل ہو نیا ولولہ ہو پرانے نام بدل کر بدل کر رکھنے سے شاھد وہ مقاصد حاصل نہ جو تمام لیڈر صاحبان چاہتے ھو ..آخر میں الیکشن کمیشن اور مختلف سیاسی پارٹیوں سے گزارش ھے یہ جو نئی حلقہ بندیاں شامل کی گئی ہیں بلکل صحیح نہیں ہیں  اس میں غیر فطری علاقے شامل کئے گئے ہیں شاید عوام کو یہ حلقہ بندی قابِل قبول نہ ہوں۔


افکار و نظریات: بلوچستان اور نئی حلقہ بندیاں