تعزیت کے بجائے طنز

لاشوں کی راکھ سے ابھی دھواں اٹھ رہا تھا، انسانی ہڈیاں سلگ رہی تھیں، ہوا میں انسانی گوشت کے جلنے کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ ایسے میں مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی جاتی ہے، انہیں صبر دلایا جاتا ہے، ان کے آنسو پونچھے جاتے ہیں۔ یہی جذبہ ہمدردی انسانیت کا طرہ امتیاز ہے، ایسے میں کسی کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ کا مرنے والا عزیز لالچی اور ۔۔۔ تھا۔

اجتماعی طور پر یہ مہم چلانا کہ فلاں علاقے کے لوگ لالچ کی وجہ سے مرے ، کسی طور بھی شائستہ نہیں۔ایسے موقعوں پر ایسا کہنا انسانیت کی تذلیل اور مرحومین کی توہین ہے۔

بالکل ایسا ہی پارہ چنار کے شہدا کے ساتھ بھی ہوا ، ابھی ان کی لاشیں تڑپ رہی تھیں کہ اسی دوران ، ان کے لواحقین پر گولیاں چلا دی گئیں اور ابھی کسی نے ان کے مطالبات بھی نہیں سنے تھے کہ اس سے پہلے ہی بعض لوگوں کی طرف سے انہیں، انڈیا اور را کا ایجنٹ کہنا شروع کر دیا گیا۔

کیا پارہ چنار کے لوگوں کی حب الوطنی کسی سے ڈھکی چھپی ہے!؟ کیا انہیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے پیاروں کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کریں!؟

انہوں نے آج تک کتنی لاشیں اٹھائی ہیں اور ہمیشہ یہی نعرہ لگایا ہے کہ پاکستان بنایا تھا ، پاکستان بچائیں گے۔ ایک غیور اور شہید پرور قوم کو انڈیا اور را کا ایجنٹ کہنا سراسر ناانصافی ہے۔

سیاستدانوں سے گلے شکوے اپنی جگہ لیکن بحیثیت قوم ہمیں کیا ہوگیا ہے!؟ ہم ایک دوسرے سے ہمدردی اور تعزیت و تسلیت کرنا ہی بھول گئے ہیں!

ان سانحات میں اس دنیا سے جانے والوں کو اگر سونے میں بھی تول دیا جائے تو پھر بھی ان کے لواحقین کے اشک خشک نہیں ہو سکتے، ہمیں چاہیے کہ ہم ان رونے والوں کو طنز و تنقید کے نشتر لگا کر ان کے دکھوں میں مزید اضافہ نہ کریں۔

بحیثیت قوم یہ ہماری دینی ، اخلاقی اور قومی زمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے بہاولپور اور پارہ چنار کے بھائیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوں اور ان سانحات کے اصلی ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔

شہدا تو چلے گئے لیکن اس ملک کی بقا اور ہماری ملت کی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ ہم مل کر بےگناہ لوگوں کے قاتلوں کو سزا دلوائیں۔

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

مقبول ترین


افکار و نظریات: سانحات اور انسانی ہمدردی