آوے کا آوا بگڑا ہوا

تحریر: صدف اجمل

میرا آج کا موضوع کسی خاص شخصیت کے نام نہیں ہے اور نہ ہی کسی خاص طبقے  یا فقہ ہائے نظر سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ہے۔ بلکہ میرا آج کا موضوع ہر اس فرد کے لیے ہے جس نے اس  ملک کو تباہ و برباد کرنے میں اپنا بھرپور قردار ادا کیا ہے اور  مسلسل کر رہے ہیں۔

بڑے بڑے دعوی تو ہم سب منہ پھاڑ  کر کرتے ہیں  پر عمل ہمارا کوئی نہیں۔ اور اگر عمل ہے بھی تو صرف اپنے ملک کو تباہ و برباد کرنے میں۔ یہاں موجود ہر فرد دوسرے کو الزام دیتا نظر آئے گا پراپنے گریباں میں جھانکنے کی فرصت کہاں اور کسے ہے۔اور فرصت ہو بھی کیوں ہماری اکثریت  اول درجے کی نکمی اور کاہل ہے، یہاں ہمیں ایک کاغذ کا ریپر ڈسٹ بین میں ڈالتے موت آتی ہے اور باہر کے ممالک جا کر ہم اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بھی کام کرتے تھکتے نہیں۔

وہاں ہمارے پاکستانی بھائی جھاڑو پو نچا تک لگا تے ہیں اور یہاں وہ انتظامیہ کو گالیاں دیتے تھکتے نہیں ہیں۔ ایک بھائی صاحب روڈ پر چلتے مسلسل میٹروپولیٹن والوں کو کوسے جا رہے تھے کہ دیکھو کتنی گندگی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مسلسل پان کی پیک روڈ پر پھینکے بھی جا رہے تھے ہم مسلسل  اپنے اعلی حکام کو کوستے  جاتے ہیں  مانا وہ قابل بھی کوسوں اور طعنوں کے ہیں پر ان کو کوستے ہی رہنے سے کیا بہتری آئے گی؟

کیا چیزیں اور ملکی حالات بہتر ہونگے ؟ ان کو ان کرسیوں تک لانے واے بھی تو ہم پڑھے لکھے جاہل ہی ہیں۔ کوئی اپنا ووٹ چند پیسوں کے لیے بیچ دیتا ہے تو کوئی رشتے داری یا دوستی میں نا اہلوں کو حکمرانی  کی کرسی تک لے آتا ہے اوربعد میں ساری عوام سر پکڑ پکڑ کر روتی ہے پر اپنی غلطی کوئی نہیں مانتا کہ ان نا اہلوں کو لانے والا کون تھا۔

 قوانین ہم اپناتے نہیں اور الزام ہم  پولیس کو دیتے ہیں۔ آپ روڈ پر نکلیں آپ کو ایک بھی گاڑی رکشے والا قوانین کو فالو کرتا نظر نہیں آئے گا ایک طرف سے  ایک گاڑی والا آ رہا ہے تو درمیان سے ہی اچانک رکشہ ٹپک  پڑتا ہے۔ اور لے دے کر الزام پولیس پر۔  اصل میں یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اورتب تک بگڑا رہے گا جب تک ہرایک فرد اپنی غلطی نہیں مانے گا اور اس ملک کی بہتری میں اپنا کردار صرف بولنے کی حد تک نہیں بلکہ عملا ادا کرے گا۔

 


افکار و نظریات: آوے کا آوا بگڑا ہوا