مذہبی احساس کمتری

فرحان منہاج

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے جیسے ہم احساس کمتری کا شکار ہوگئے ہیں. ہمارا بہت سے معاملات میں ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے.

حال ہی میں اسٹیفن ہاکنگ ایک سائنسدان اس دنیا سے چلا گیا. اس کی سائنسی خدمات کے پیش نظر پاکستان اور دنیا بھر میں اسے خراج تحسین پیش کیا جارہا تھا.

 ابھی یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ اچانک سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس کے مذہبی اعتقاد موضوع بحث بنے شروع ہوگئے اور پھر ایسا معلوم ہوا جیسے کہ اسٹیفن ہاکنگ کی سائنسی خدمات پر بات کرنے سے شاید کہ اسلام خطرے میں آگیا ہو ایک نا رکنے والا لمبی لمبی تاویلوں اور تحریروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں اس کے مذہبی اعتقاد کے بارے میں بتا کر اسکا رد کیا جانے لگا. واٹس اپ گروپ ہوں یا سوشل میڈیا کی کوئی سائیڈ ہم نے اپنی طرف سے اسلام کا دفاع اسٹفین ہاکنگ کے بارے میں بھرپور کیا ـ پھر ایک عرب جو کہ اسٹیفن ہاکنگ کی طرح معذور ہے اسکی تصاویر اور خدمات لے آئے اور یہ تاثر دینا شروع کیا کہ دنیا اس کو صرف اس لیے سہرا نہیں دے رہی کیونکہ یہ مسلمان ہےـ

اسٹیفن ہاکنگ کا مذہب یا مذہبی اعتقاد جو بھی تھا اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہم اسے سائنسدان کے طور پر جانتے تھے اس کے سائنسی علم پر ہم اسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں ـ

ہاں اب اگر وہ توحید و رسالت کی طرف نہیں آسکا تو میں اس میں اسکا قصور نہیں ہمارا قصور نکالوں گا کہ ہم اس تک دعوت نہیں پہنچا سکے.ـ

آپ یاد کریں وہ واقعہ کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رنجیدہ تھے کہ میں مکہ والوں کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہوں اور یہ ہیں کہ جہنم کی آگ میں جلنا چاہتے ہیں. آقا کریم کا دل انکے لیے کتنا نرم و رحیم تھا کہ ان کو جہنم کی آگ میں جلتا سوچ کر رنجیدہ تھے. اللہ پاک نے جب اپنے محبوب کو رنجیدہ دیکھا تو پیغام پہنچایا کہ میرے محبوب آپ رنجیدہ نہ ہوں آپ صرف دعوت دیں ہدایت دینا میرا کام ہے.

میرے آقا کریم نے کسی پر غصہ نہیں کیا نہ لعن طعن کی بلکہ افسوس کا اظہار کرتے اور رنجیدہ ہوتے کہ یہ راہ ہدایت پر نہیں آسکاـ

لیکن ہمارا طرز عمل کیا ہے کہ ہم لعن طعن کرتے ہیں اپنا محاسبہ نہیں کرتے کہ جو کام اللہ اور اسکے رسول نے ہمارے  ذمہ لگایا ہے وہ ہم احسن طور پر ادا نہیں کررہے اگر کرتے تو یوں لوگ راہ ہدایت سے محروم نہ رہتے.

یقیناً ہدایت دینا اللہ ہی کا کام ہے مگر کوشش کرنا دعوت دینا ہمارا فرض ہے.

اور دوسرا پہلو کہ جو شخص جس امور پر عبور رکھتا ہے اسے اس پر ہی پرکھا کریں سائنسدان کو سائنسدان کی نظر سے دیکھیں ـ کھلاڑی کو کھلاڑی کی.نظر سے معیشت دان کو معیشت دان کی نظر سے. جس میدان میں اس نے انسانی فلاح، بہبود اور علم میں اگر کوئی کارنامہ انجام دیا ہو تو بلاتفریق و امتیاز اسکی تعریف کرنی چاہیے.

مومن وسیع القلب اور فراست والا ہوتا ہے. تنگ نظر اور انتہاپسند مومن نہیں ہوسکتا.

#ضرب_تحریر.


افکار و نظریات: مذہبی احساس کمتری