چودھری رحمت علی

بقلم: نذر حافی

سرسید کی وفات سے صرف ایک سال پہلے یعنی ۱۸۹۷ میں ،مشرقی پنجاب کے  گاوں موہراں میں گجر خاندان کے ہاں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس نے اٹھارہ برس کی عمر میں تقسیمِ برصغیر کا فارمولہ پیش کیا[1]،جسے پہلا پاکستانی کہاجاتا ہے اور جس نے پاکستان کا نام تجویز کیا۔اس نے ۱۹۱۸ میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ یعنی بی اے تک کی تعلیم ہندوستان میں ہی حاصل کی، بی اےکےبعد  محمد دین فوق کےاخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سےشعبہ صحافت میں عملی زندگی میں قدم رکھا۔

1931ء میں وہ انگلستان چلے گئے اور  کیمبرج اور ڈبلن یونیورسٹیوں سے قانون اور سیاست میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔

1933ء میں چودھری رحمت علی نے وہاں پر پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 28 جنوری، 1933ء کو انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران "اب یا پھر کبھی نہیں" (Now OR Never) کے عنوان سے چار صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ شائع کیا اور یہی پمفلٹ لفظ "پاکستان" کی تشہیر کا باعث بنا۔

1935ء میں آپ نے آپ نے زمانہ طالب علمی میں  ایک ہفت روزہ اخبار "پاکستان"  بھی کیمبرج سے شائع کیا اور تشکیل پاکستان کے لئے  امریکہ، جاپان ، جرمنی اور فرانس کے دورے بھی کئے اور اس سلسلے میں ہٹلر سے ملاقات بھی کی۔

آپ نے ہی "سب کانٹیننٹ آف براعظم دینیہ " کا تصور پیش کیاجس میں پاکستان ، صیفستان ، موبلستان ، بانگلستان ، حیدرستان ، فاروقستان ، عثمانستان وغیرہ کے علاقے اور نقشے بیان کئے گئے۔[2]

آپ لاہور میں ہونے والے  تئیس مارچ ۱۹۴۰ کے سالانہ اجلاس میں شامل نہیں ہوئے ، اس کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں:

ایک خاکسار تحریک اور پولیس میں تصادم کے باعث آپ پر پنجاب میں داخلے پر پابندی تھی  اور دوسری وجہ یہ کہ  آپ مسلم لیگ کے ساتھ آل انڈیا کے لفظ کے مخالف تھے،آپ  کے نزدیک انڈیا کے بجائے دینیہ یا برصغیر کا لفظ معقول تھا۔چونکہ آپ صرف  مسلمانوں کو ہی متحدہ ہندوستان کا وارث سمجھتے تھے۔

تئیس مارچ کی قرارداد میں کہیں بھی لفظ پاکستان استعمال نہیں ہوا تھا، ہندو پریس نے اسے طنزاً قرارداد پاکستان کہا اور پھر یہی نام مشہور ہو گیا۔

تئیس مارچ ۱۹۴۰ کا اجلاس قائداعظم کی زیر صدارت ہوا ، جس میں مسلمانوں نے علیحدہ وطن کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان بننے کے بعد چودھری رحمت علی دو مرتبہ پاکستان آئے تاہم پاکستان کی بیوروکریسی نے آپ کو قبول نہیں کیا اور آپ واپس لندن چلے گئے۔

3 فروری1951 ؁بروز ہفتہ آپ نے لندن کے ایک ہسپتال میں وفات پائی ، جہاں سترہ دن تک آپ کے ورثا کا انتظار کیا گیا اور بالاخر  20 فروری، 1951ء کو دو مصری مسلمان طالب علموں نےچودھری رحمت علی کو  انگلستان کےشہر کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی - 8330 میں لا وارث کے طور پر امانتاً دفن کیا اور آپ ابھی تک وہیں دفن ہیں۔[3]



[1] بزم شبلی کے 1915ء کے اجلاس میں آپ نے یہ نظریہ پیش کیا :

"ہندوستان کا شمالی منطقہ اسلامی علاقہ ہے ، ہم اسے اسلامی ریاست میں تبدیل کریں گے ، لیکن یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس علاقے کے باشندے خود کو باقی ہندوستان سے منقطع کر لیں۔ اسلام اور خود ہمارے لیے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ہندوستانیت سے جلد سے جلد جان چھڑا لیں"

[2] انہوں نے پاکستان، بنگلستان اور عثمانستان کے نام سے تین ممالک کا نقشہ بھی پیش کیا۔پاکستان میں کشمیر، پنجاب، دہلی سمیت، سرحد، بلوچستان اور سندھ شامل تھے۔ جبکہ بنگلستان میں بنگال، بہار اور آسام کے علاقے تھے اس کے علاوہ ریاست حیدرآباد دکن کو عثمانستان کا نام دیا۔

[3] تحریک پاکستان کا ایک مظلوم اور عظیم رہنما ۔ مولف حاجی نذیر تبسم گورسی  ص ۲۵


افکار و نظریات: یاد رفتگاں, چودھری رحمت علی