اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات خلافت یا جمہوریت تحریر : محمد حسن جمالی کوئی بھی ملک ٹھوس آئین اور مستحکم نظام کے بغیر ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا- قانون کے بغیر اجتماعی زندگی کا ہرج ومرج اور افراط وتفریط کا شکار ہونا قطعی ہے- چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کرہ ارض پر موجود چھوٹے بڑے تمام ممالک میں کوئی نہ کوئی قانون اور نظام ہے جس کے زیر سایہ معاشر ے کے افراد زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،آپ یوں سمجهیں کہ نظام اور قانون ہی اجتماعی زندگی کی بنیاد اور اساس ہے جس کے بغیر اس کا تصور ممکن نہیں - سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرتی زندگی کے لئے ہر طرح کا نظام مفید ہے یا کوئی خاص نظام ؟ دوسری شق صحیح ہونے کی صورت میں وہ خاص نظام کون سا ہے ؟ اس حوالے سے انسانوں کے آراء اور نظریات مختلف ہیں، البتہ مطلق نظام کہ جس میں جنگل کا نظام بهی شامل ہے کے قائل لوگوں کی تعداد محدود ہے - انسانوں کی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ انسانی معاشرے کی آسودگی خاص نظام سے جڑی ہوئی ہے ،لیکن اس نظام خاص کی تفسیر اور مراد کے بارے میں ان کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں - بعض کہتے ہیں وہ خاص نظام آمرانہ نظام ہے، کچهہ کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خاص نظام بادشاہی نظام ہے ،ان کے مقابلے میں ایک گروہ کا تصور یہ ہے کہ خاص نظام سے مقصود جمہوری نظام ہے کوئی دوسرا نظام نہیں- دنیا کے ممالک پر جب ہم طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر نظام آمریت ،بادشاہت اور جمہوریت کے مصداق نظر آتے ہیں - عرب ممالک جیسے سعودی عرب بحرین وغیرہ میں نظام بادشاہت حاکم ہے - مغربی ملکوں میں نظام آمریت مسلط ہے اور بہت کم ممالک میں جمہوری نظام دکهائی دیتے ہیں جن میں سرفہرست اسلامی جمہوریہ ایران ہے، اس ملک کے باسیوں کو عرصہ دراز نظام آمریت کے ماتحت غلامانہ زندگی گزارنے کے بعد نظام جمہوریت کی شیرینی اور حلاوت چکنے کا موقع میسر آیا - ایرانی قوم رضا شاہ جیسے متکبر مغرب کے غلام مطلق آمروں کے ہاتهوں طرح طرح کے مظالم برداشت کرنے پر مجبور تهی، ملت ایران کو نہ اظہار رای کی آزادی تهی اور نہ اظہار بیان کی - وہ نہ سیاسی امور میں مداخلت کرسکتی تهی اور نہ ہی خود مختار طریقے سے اپنے ملک کے نفع ونقصان کے بارے میں فیصلہ کرسکتی تهی، ایران کے حکمران بکے ہوئے تھے، وہ امریکہ کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے تهے، ایران کی ساری ثروت سے امریکہ بهرپور استفادہ کرتا تها اور اس ملک کے نظام کی زمام اسی کے ہاتهہ میں تهی- لیکن اس قوم کو اللہ تعالی نے امام خمینی رح کی شکل میں ایسی صاحب بصیرت شخصیت عطا کی جس نے نہ فقط ایرانی قوم کو بیدار کیا بلکہ تخت سلطنت رضا شاہ کو زمین بوس کرکے ایران کی سرزمین پر اسلامی عادلانہ نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوئے -امام خمینی نے ایران میں آمرانہ نظام کی جگہ جمہوری نظام نافذ کرکے ایرانی قوم کو عزت امن اور سکون سے لبریز زندگی سے مالا مال کیا اور آپ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس قوم کی ایسی فکری تربیت کی جو اسلامی دنیا میں بے نظیر قرار پائی- بلا مبالغہ آج کرہ ارض پر ایران وہ واحد ملک ہے جو استقلال اور آذادی کی نعمت سے مالا مال ہے، اس کے علاوہ باقی سارے ممالک خواہ اسلامی ہوں یا غیر اسلامی بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکہ واسرائیل کے دست نگر ہیں - آج بعض اسلامی ممالک تو اپنے کرتوت کے سبب اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ،اس میدان میں سعودی عرب سب سے آگے ہے جس نے اسلام کے سنہرے اصول اور روشن تعلیمات سے منہ موڑ کر مسلمانوں سے دشمنی اور امریکہ واسرائیل سے دوستی کررکهی ہے اور یمن کے مظلوم مسلمانوں کو فقط اپنے صمیمی دوستوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے عرصہ دراز سے بموں کا نشانہ بنارکھا ہے، جس کے نتیجے میں لاتعداد مسلمان شهید، بے شمار غریب مسلمان جس میں بوڑھے بچے اور عورتیں شامل ہیں کو زخمی اور مجروح کرکے ان پر عرصہ حیات تنگ کررکها ہے. معروف تحلیل گر عرفان علی لکھتے ہیں کہ دنیا کے غریب ترین عرب ملک یمن میں سعودی و اتحادی فوجی جارحیت کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے شعبے نے پچھلے سال جنوری میں رپورٹ دی تھی، جب اس جنگ کا دوسرا سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا، تب دس ہزار عام یمنی شہری شہید ہوچکے تھے جبکہ چالیس ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت جیمی مک گولڈ ریک کے مطابق ایک کروڑ نوے لاکھ یمنی شہریوں کو انسانی امداد کی شدید ضرورت تھی اور تیس لاکھ سے زائد یمنی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوکر دیگر علاقوں کا رخ کرچکے تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نقصان صرف اتنا ہی ہوا ہے جتنا اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ میں پچھلے سال یا اس کے بعد وقتاً فوقتاً ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ لیکن اگر اقوام متحدہ کے اعداد و شمار ہی درست مان لیں، تب بھی سعودی و اتحادی افواج کی اس جارحیت کے باوجود امریکہ و برطانیہ نے ان حملہ آور ممالک کو اسلحے کی فروخت منسوخ نہیں کی۔ پچھلے سال یعنی 2017ء میں ایک ارب دس کروڑ پونڈ مالیت کا اسلحہ برطانیہ نے سعودی عرب کو فروخت کیا جبکہ امریکہ نے خاص طور پر صرف یمن جنگ کے لئے سعودی عرب اور متحدہ امارات کو 65 کروڑ ڈالر کا مہلک اسلحہ فروخت کیا، جو امریکی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹ کمرشل سیلز پروگرام کے تحت براہ راست فروخت کیا گیا، دیگر اسلحہ اس کے علاوہ تھا۔ سال 2016ء میں متحدہ عرب امارات نے اس پروگرام کے تحت چھ کروڑ ڈالر مالیت کا چھوٹا اسلحہ امریکہ سے خریدا تھا جبکہ سعودی عرب نے ایک کروڑ دس لاکھ ڈالر مالیت کی مشین گنیں خریدی تھیں۔ حال ہی میں سعودی ولی عہد اور وزی دفاع محمد بن سلمان آل سعود کے دورہ برطانیہ و امریکہ میں اسلحے کی خرید و فروخت کے نئے عہد و پیمان بھی ہوئے ہیں۔ یعنی تاحال سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو یمن پر مسلط کردہ اس جنگ کو جاری رکھنے کے لئے مطلوبہ حمایت و کمک امریکہ و برطانیہ فراہم کر رہے ہیں - افسوس؛ مسلمانوں کی بے حسی اور سادہ لوحی پر ہوتا ہے کہ سعودی عرب بڑی ڈھٹائی سے یمن کے غریب مظلوم مسلمانوں پر اس قدر بربریت کا مظاہرہ کررہا ہے مگر مسلمان ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں- یمن کے مظلوم مسلمان صبح شام مدد کے لئے پکار رہے ہیں لیکن دنیائے کے مسلمانوں کی اکثریت کے دلوں پر ان مظلوموں کی آواز کا کوئی اثر نہیں ہورہا ،ان کے دل پتهر بنے ہوئے ہیں- اس سے بھی زیادہ تعجب ان نام نہاد مسلمانوں پر ہوتا ہے جنہیں یمن کے مسلمانوں پر سعودی عرب کے ظلم وستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بالکل نظر نہیں آتا، اس کے مظالم پر تو انہیں لب ہلانے کی توفیق نہیں ہوتی مگر شام میں بشار الاسد کا اپنے ملک کا دفاع کرنا بڑا ظلم دکھائی دے رہا ہے اور اس دفاعی جنگ میں مارے جانے والوں کی حمایت کے آڑ میں مسئلہ شام کو فرقہ واریت کا رنگ چڑهانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں- سوشل میڈیا پر ایک گروہ نے حلب, کشمیر اور برما کے مسلمان عورتوں اور بچوں کی تصویروں کے نیچے شام کے مظلوم مسلمانوں کے ساتهہ دل سوزی اور بشار الاسد کی مزمت پر مشتمل جملے لکهہ کر عوام کو بشار الاسد سے متنفر کروانے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے -اس گروہ کا ہدف فقط پروپیگنڈہ کرکے لوگوں کو حقائق سے بے خبر رکهنا ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے- صداقت اور امانت تو مسلمان کی پہچان ہے جس سے کسی بهی صورت میں فرار ممکن نہیں - دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد انسان کو بہت ساری چیزوں کا پابند ہونا پڑهتا ہے جن میں سرفہرست صداقت اور امانت ہے- سچ بولنا اور امانت داری کی پاسداری کرنا مسلمان کا فرض ہے- لیکن آج کل کے اس ترقی یافتہ زمانے میں جس طرح سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار پیشرفت نے پرانے زمانے میں لوگ جو کام سال میں انجام دے سکتے تھے اسے ہفتوں اور گھنٹوں میں انجام دینا ممکن بنادیا ہے، اسی طرح کرہ ارض پر دین کے کچھ ایسے ٹھیکیدار بهی پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے مسلمان ہونے اور مسلمانیت پر باقی رہنے کو بھی بہت ہی سہل اور آسان بنادیا ہے - جن کی منطق یہ ہے کہ جھوٹ بولو ،امانت میں خیانت کرو ،حق کو باطل اور باطل کو حق کہو، مسلمانوں کو کافر سمجھ کر قتل کرو کوئی بات نہیں اس سے نہ فقط انسان پکا مسلمان بن جاتا ہے بلکہ جنت کی ٹکٹ ملنا یقینی ہے- پاکستان کے کلی نظام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کا نظام ماموریت ہے نہ جمہوریت - چونکہ کسی نظام پر جمہوریت تو تب صادق آتی ہے کہ جس میں عوام کی آزادی رای سے حکمران منتخب ہوجائیں اور منتخب ہونے والے حکمران خود کو عوام کا خادم سمجهتے ہوئے قوم وملک کی فلاح اور ترقی کے لئے خدمات سرانجام دیں - ہمارے ہاں تو عوامی رای کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، ہمارے حکمران بهی دوسرے منتخب کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے اشارے سے ہی ملک کے لئے قانون اور نظام وضع کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک ترقی کے بجائے تنزلی اور پستی کی طرف رواں دواں ہے ،پاکستانی معاشرے میں انصاف کی بو تک نہیں، قانون پر عمل کرنا فقط غریب طبقوں کے لئے ضروری ہے، اقتدار اعلی پر براجمان رہنے کا حق صرف چند اشرافیہ خاندان کے لئے ہے ،موروثی سیاست اس ملک کا طرہ امتیاز ہے- پاکستان کا نظام جمہوریت کے بجائے ماموریت ہونے پر اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل چاہیے کہ سینٹ الیکشن شروع ہوتے ہی ہمارے نظام ماموریت کے آمر کا خاص نمائندہ پاکستان تشریف لاتا ہے اور اپنے مامورین سے ملاقات کرتاہے، انہیں دل کھول کر ہدایات سے نوازتا ہے- جن کی تشریف آوری کے اثرات میں سے ایک اثر یہ ہوا کہ بابائے طالبان فضل الرحمان علمائے متحدہ مجلس عمل کے صدر منتخب ہوئے، جس سے پاکستان کی سرزمین پر ایک بار پھر دہشتگردی کو تقویت ملنے کا قوی امکان پیدا ہوچکا ہے اور انہیں کے شہ پر ناچنے والے معروف کرکٹر عمران خان پاکستان کے افق سیاست پر نمایاں ہوکر پاکستان کی تقدیر بدلنے کا نعرہ لگا رہے ہیں- اسی طرح دوسری جانب سے قوم کا اثاثہ لوٹنے کے جرم میں معزول ہونے والے نواز شریف عدالت عظمے کی توہین کرنے کی نہ تهکنے والی جسارت کررہے ہیں - اگر پاکستان کا نظام جمہوری ہوتا تو اسے چوری کا جرم ثابت ہوتے ہی پهانسی پر لٹکا دیا جانا چاہئے تها مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا چونکہ ہمارا نظام ماموریت ہے، جس میں حکم کرنے والے دوسرے ہوتے ہیں، جس کے سبب نواز شریف اگر چہ ظاہری طور پر وزارت کے عہدے سے ہٹایا گیا لیکن ملک کا انصرام وانتظام اب بهی وہی چلارہے ہیں – اس نکتے سے بھی کوئی شخص آنکھ نہیں چرا سکتا کہ پاکستان میں جمہوری نظام عملی طور پر نہ ہونے کی وجہ سے آج تک پاکستان کی ہرجہت سے اہم ترین خطہ گلگت بلتستان آئینی حقوق سے محروم ہے جہاں کے عوام کی وفاداریوں کے سبب پاکستان کی حاکمیت قائم ہے – جہاں کے لوگ غیر آئینی ہونے کے باوجود پاکستان کے دفاع میں فرنٹ لائن فائنٹر سمجھے جاتے ہیں – کے ٹو پاکستان ، سیا چن پاکستان ، قراقرم پاکستان کا حصہ سمجھے جاتے ہیں مگر حقوق کی بات آتی ہے تو دوسروں کے اشارے پر رقص کرنے والے حکمرانوں کی نگاہوں سے یہ خطہ اور اس کے باسی اوجھل رہتے ہیں - ان تمام قرائن اور شواہد سے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ پاکستان کا نظام ماموریت ہے نہ جمہوریت اور مزے کی بات یہ ہے کہ مامور ملاوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ خلافت پر اکٹھے ہوئے ہیں یا جمہوریت پر۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: خلافت یا جمہوریت
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں