ماں باپ سب کے سانجھے

تحریر: صدف اجمل

آج میری تحریر ان  لوگوں کے نام ہے ۔ جو ہر وقت کسی کی برائی دیکھ کر جھٹ سے ان کے ماں باپ کو اور انکی تربیت کو کوسنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاتے ماں باپ کی کردار کشی کرنے میں۔ مانا کے ایک فرد واحد کے کردار میں اس کے ماں اور باپ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اور انساں کی زندگی کے بہت سے اعمال میں اسکی تربیت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ پر انسان بہت کچھ معاشرے میں رہ کر بھی سیکھتا ہے۔ اور بہت سے فعال ایسے سر انجام دیتا ہے جس میں اسکی تربیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اور میں یہ بات سو فیصد یقین سے کہ سکتی ہوں کے آج کے دور میں ماں باپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں کہ انکی اولاد کیا کیا کرتی پھرتی ہے۔

 میں نے اپنی آنکھوں سے ماں باپ کو اولاد کے ہاتھوں روتا دیکھا ہے  چاہے وه لڑکیاں ہوں یا لڑکے دونوں کی وجہ سے ماں باپ آپ کو پریشاں دیکھائی دیں گئے ۔ بیٹے گھروں سے باہر بڑی بڑی  لڑائیاں کر آتے ہیں  بات قتل وغارت تک  پہنچ جاتی ہے والدین کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔  اور آخر میں ہم سیکنڈ بھی نہیں لگاتے ماں باپ کی کردار کشی کرنے میں ۔ غلط سراسر غلط ہے۔

میرا ماننا ہےآج کے دور میں اولاد خود ہی بہت ہودری ہے وہ ماں باپ کی بے عزتی کرتے وقت نہیں لگاتی ماں باپ خوف کے مارے ان کے سامنے  چپ کے چپ رہ جاتے ہیں تو باہر کے لوگ تو باہر کے ہیں۔والدین کو پتہ بھی ہو تو  اور وہ روکنے کی کوشش کریں ان کو سننے کو ملتا ہے آپ کو کچھ نہیں پتہ امی ابو۔باقی سب بھی کرتے ہیں۔

میری بس اتنی سی گزارش ہے کے ماں باپ کو اولاد کے ہر عمل کے لیے مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے اور نہ ہی آپ کی کسی بھی لڑائی کے پیچھے آپ  جھٹ سے ماں باپ کو بیچ میں لائیں اور انکی کردار کشی کرنا شروع کر دیں ماں باپ سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ آج آپ کسی کے والدین کی عزت کریں گئے تو کل کو آپ کے والدین کی بھی عزت کی جائے گی۔


افکار و نظریات: ماں باپ سب کے سانجھے