اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات رزق کی فراوانی لینہ ناصر ڈسٹرکٹ بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی یونین کونسل جمال پور میں جمال بس نام کا ہی ہے۔ موسم کے اعتبار سے علاقہ سراسر جلال ہے۔ گرمی کے موسم میں تو مانو سورج اس فراوانی سے برستا گویا خود دھرتی کے سینے میں سما جانا چاہتا ہو۔ یہ تو بھلا ہو صدیوں سے رواں ستلج کے ظرف کا، اسکا دامن گرمی سے بلبلائے ہوؤں کے لیے ایک آسرا رہتا ہے۔ مون سون میں البتہ ستلج کے تیور بگڑ جاتے ہیں۔ اسکا سینہ، جھکے ہوئے کندھوں والے چرن داس کی آنکھوں جتنا بھر آتا۔ کناروں سے موج در موج آ کر ٹکراتا نمکین پانی چھلکنے کو بپھرا ہوتا، لیکن چرن داس کی آنکھوں سے بند ستلج کے بھاگ میں کبھی نہیں رہے، سو وہ چھلک جاتا ہے۔ حدود قیود کی ترتیب سے غافل۔ اپنے بپھرے جذبات کے ساتھ ستلج پھر ایک جنوں جولاں گدائے بے سروپا کی طرح نکل پڑتا ہے۔ بستیاں اجاڑتا، آبادیاں روندتا۔ سوچتے سوچتے ادھیڑ عمر چرن داس نے جھرجھری لی۔ وہ درگا دیوی کا پجاری ضبط کی منڈپ کا مرتبہ سمجھتا تھا۔ قوت کے قاعدے کلیے کے سبھی ضابطے یہ بتاتے ہیں کہ تیر وہی کارآمد ہوتا ہے جو ابھی چلنے کو دستیاب ہو۔ بچپن میں اپنی ماں سے اس نے یہی ایک سبق سیکھا تھا۔ ضبط کے ترکش کو پر رکھنے کا۔ کتنی سخت زندگی کاٹی تھی اسکی ماں نے۔ اناتھ پیدا ہونے والے چرن داس نے تمام عمر ماں کے ھاتھ خالی اور آنکھیں بھری ہوئی دیکھیں تھی۔ ایسا نہیں تھا کی دنیا میں انکا کوئی نہیں تھا۔ کوئی بڑا خاندان نہ سہی، مگر جمال پور کی اس بستی میں وہ، اسکی ماں، چاچا، چاچی اور انکے چھ بچے کل مل کر دس ہندو جی ابھی بھی باقی رہ گئے تھے۔ اچھا بھلا چھوٹا سا جتھا، گر سوچنے پہ آؤ تو۔ مگر مرتبے کی تفریق جب جوش کی بنیاد پہ ہونے لگے، تو ہوش والوں کے لیے صرف گند سمیٹنا ہی رہ جاتا ہے۔ چرن داس کی ماں اور چرن داس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پچھلوں کے وقت کا ایک مندر گزری تہزیب کی علامت کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ دونوں ماں بیٹا کسی گناہ کی طرح اس کھنڈر سے ملحقہ تاریک کوٹھڑی میں دھکیل دیئے گئے۔ سال پر سال بیتتے گئے اور بستی میں کلمہ گو آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ چرن داس کا کنبہ سکڑتا گیا۔ ماں چل بسی اور اسکے دو سال بعد چاچے کا بھی کریا کرم ہو گیا۔ چاچی نے اپنے بچے پروں میں سمیٹے اور اپنے بھائیوں کے پاس بہاولنگر چلی گئی۔ بہاولنگر میں آج بھی ہندومت کے نام لیواؤں کی بڑی آبادی تھی۔ کون مورکھ اس بات کا منکر ہو سکتا تھا کہ بستی میں گناہ کی ایسی کالک پل رہی ہو تو بھلا کونسی دعا آسمان تک جا سکتی تھی۔ ہر دعا تو چرن داس کی گندگی کی سیاہی نگل لیتی تھی پیچھے رہ گیا چرن داس۔ کچھ جی دھرتی پر پیچھے رہ جانے کے لئے ہی اترے ہوتے ہیں۔ جیسے کسی بھی بلاک بسٹر فلم میں نامی گرامی کتنے ہی فنکار ہوں، فلم ایکسٹراز کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔۔۔ بالکل ویسے ہی اس دنیا کے مالک کا نظام ہے۔ کچھ انسان صرف ایکسٹراز کا کردار لکھوا کر آئے ہوتے ہیں۔ بے نام چہرے، بے زبان ہست۔ بستی میں بےضرر چرن داس لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی، جوانی سے ادھیڑعمری کی سیڑھیاں ایسے ہی بےمکالمے کردار کی خاموشی سے چڑھتا گیا۔ بستی کی گلیوں میں جھاڑو پھیرتے پھیرتے کب اسکا اپنا سر ملگجا ہوگیا، کسی کو پتہ نہ چلا۔ بستی میں کچے مکان اب پہلے سے کم تھے۔ آبادی بڑھ گئی تھی۔ گھر بھی اب زیادہ تر پختہ تھے اور دل بھی اب زیادہ پتھریلے تھے۔ چرن داس پڑھا لکھا نہیں تھا۔ وہ توشاید شعور کے کسی کلیے کے بھی حساب سے صاحب رائے ہونے کا اہل نہیں تھا۔ لیکن شکرکہ وہ خود یہ بات نہیں جانتا تھا۔ زبان کبھی کھولتا ہی نہ تھا کہ کسی اور کو خبر ہوتی کہ چرن داس بھی چپکے چپکے سوچ کا روگ پالتا ہے اور یہ کہ ایسی حرکت کی کما حقہ بیخ کنی کی ضرورت پڑتی۔ سو, اس کے گونگے خیال میں جیسے جیسے بستی کی مسجد کا صحن پھیلا تھا، ویسے ویسے نمازیوں کے ایمان کی بنیادیں کمزور پڑی تھیں۔ پہلے اسکو دیکھ کر ان دیکھا کر دینے والے اب اس پر نگاہ پڑنے سے اپنا اسلام ناپاک ہو جانے کی شکایت کرنے لگے۔ مردود ہندو۔ اوپر سے منحوس۔ اوپر سے ایک آسیب زدہ مندر میں بدروحوں کے ساتھ جانے کس کس طرح کی بد مستیوں میں مگن رہتا ناپاک جی ۔۔۔ یہ سب کیا کم تھا کہ جمال پور کے بس سٹیشن کے پیچھے واقع کچرا کنڈی سے کسی کا پھینکا ہوا گناہ بھی اٹھا کر لے ایا۔ ایک کہرام ہی تو مچ گیا تھا۔ مسجد کے امام صاحب جو بڑی مرتبہ دبے دبے الفاظ میں یہ عندیہ دے چکے تھے کہ انکے خیال میں مسلمانوں کی اس آبادی میں ایک مندر کی عمارت، بمع اپنے اکلوتے وارث کے، کسی بھی طرح جواز نہیں رکھتی تھی؛ اب کھل کر میدان میں اترے۔ مسجد کی نالی سے گندگی سمیٹتا چرن داس خاموشی سے سنے گیا۔ قوت کے قاعدے کلیے کے سبھی ضابطے یہ بتاتے ہیں کہ تیر وہی کارآمد ہوتا ہے جو ابھی چلنے کو دستیاب ہو۔ اس جمعے جب جمال پور کے فرزندان توحید ہفتے میں ایک بار حاضری کی رشوت لے کر رب کی بارگاہ میں پیش ہوئے تو مولوی صاحب نے سب کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انکی نمازیں انکے منہ پر دے ماریں اور انکی سب دعاؤں کو آسمان سے دھتکارے جاتے بھی دیکھ لیا۔ بات میں دم بھی تھا. اب کون مورکھ اس بات کا منکر ہو سکتا تھا کہ بستی میں گناہ کی ایسی کالک پل رہی ہو تو بھلا کونسی دعا آسمان تک جا سکتی تھی۔ ہر دعا تو چرن داس کی گندگی کی سیاہی نگل لیتی تھی۔ امام صاحب نے رمضان سنار سے پوچھا کہ اسکے گھر اب تک اولاد نہ ہونے کی وجہ اسے سمجھ نہیں آتی۔ امام صاحب نے ایکسین ریٹائر ہو کر گاؤں میں آ بسنے والے ریاض الدین سے پوچھا کہ انکو اب تک پتہ نہ چلا کہ اللہ نے انکا جوان جہاں بیٹا کس لیے ان سے چھین لیا۔ چوھدری اشرف کی چار بھینسیں اس برسات میں سانپ کاٹے سے مر گئی تھیں۔ انکو کیوں نہ وجہ سمجھ آئی؟ امام صاحب کا گلا رندھ گیا۔ اللہ اپنی ناراضگی کا اظہار کیے چلا جا رہا تھا اور یہاں کوئی کان دھرنے کو ہی تیار نہیں تھا۔ “کیا چاھتے ہو تم سب، میں اکیلا ہی تم سب کی غفلت کا بوجھ اٹھائے رکھوں یا تم لوگوں نے کچھ خود بھی کرنا ہے اس بستی کو پاک کرنے کے لیے؟“ مولوی صاحب دھاڑے۔ سب مومنین کا دل اور اسلام لرز گیا۔ ایک طرف ایک ملیچھ لاوارث، دوسری طرف رب کائنات۔ اپ خود بتائیں کس کا ساتھ دینا انصاف ہوتا؟ عشاء تک چرن داس کا مندر عرق گلاب سے دھل چکا تھا۔ صفایاں ہو گئی تھیں۔ جالے اتار دیے گئے تھے۔ مورتیوں کے کندہ نقوش پہ ایمان والوں نے سفیدی پھیر دی تھی۔ چرن داس اور اسکا گود لیا گناہ کا ڈھیر گاؤں سے باہر پھینک دیے گئے تھے۔ قوت ایمانی کا ایسا مظاہرہ بہت سے دلوں کو گرما گیا تھا۔ رمضان سنار کے کانوں میں تو مانو ننھے بچوں کی کلکاریاں ابھی سے گونجنے لگیں تھی۔ پارسائی ایسا ہی نشہ ہے۔ تیز اور گہرا۔ عشاء کے بعد امام صاحب نے اکابرین سے مشورے کے بعد اعلان کیا کہ سوموار سے مندر ڈھانے کا مرحلہ شروع ہو گا اور اگلے جمعے کو اس جگہ مدرسے کا سنگ بنیاد مولوی صاحب خود رکھیں گے۔ مدرسے کا نام چوهدری اشرف کے نام پر مدرسہ اشرف رکھا جائیگا۔ چوهدری صاحب نے کسر نفسی سے ایسا کرنے سے بار بار منع کیا، اور ہر بار مولوی صاحب کی معاملہ فہمی کی تعریف بھی کی۔ سب چوهدری صاحب کی منکسر المزاجی کے قائل ہو گئے۔ کچھ جی دھرتی پر پیچھے رہ جانے کے لئے ہی اترے ہوتے ہیں۔ جیسے کسی بھی بلاک بسٹر فلم میں نامی گرامی کتنے ہی فنکار ہوں، فلم ایکسٹراز کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔ سوموار کو تکبیر کے نعروں کی گونج میں مندر ڈھانے والوں میں منہ پر ڈھاتا باندھے چرن داس بھی تھا۔ اسے پہچان لیا گیا اور پکڑ کر مسجد میں کوتوالی کے لیے پیش کر دیا گیا۔ مولوی صاحب بہت جزبز ہوئے۔ یہ معاملہ اچھا بھلا نمٹ چکا تھا۔ انہوں نے چبا چبا کر چرن داس کو ادھر سے غائب ہو جانے کو کہا۔ چرن داس انکے قدموں میں آ بیٹھا۔ اسکا سر انکے پاؤں کے انگوٹھوں پہ ٹک گیا۔ “مائی باپ، میں تو سب پاپ ہوں۔ مگر اب جب آپ اپنے اللہ کو ادھر لا کر بسانے لگے ہو تو میں ساتھ مزدوری کرنا چاہتا ہوں۔ اپ مجھے بس اس کے بدلے اتنی اجازت دے دو کہ جب وہ بڑا ہو میں اپنے بچے کو مدرسے بھیج سکوں۔“ “پاگل ہوئے ہو داسے؟“ مولوی صاحب پاؤں جھٹک کر گرجے۔ چرن داس گھگھیاتے ہوئے پھر انکے پاؤں کی طرف لپکا۔ “اس پورے علاقے میں اور کوئی بھرشٹ مذھب نہیں ہے میرے سرکار۔ وہ بچہ مسلمان ہے۔ اس سے اسکا رب نہ لو. میں مندر اکیلے ہی گرا دوں گا۔ کوئی مزدوری نہیں مانگوں گا۔ بس اس بالکے کو اپنا اللہ دے دو میرے مالک۔“ کہنے والے کہتے ہیں مسجد سے اس دن جب چوهدری اشرف کے بندے چرن داس کو لے کر گئے تو اس کے بعد ڈسٹرکٹ بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی یونین کونسل جمال پور میں وہ کبھی کسی کو نظر نہیں آیا۔ وہ پہلے بھی ان دکھا رہتا تھا، سو اب کیا فرق پڑنا تھا۔ جمعے کو مدرسے کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ مولوی صاحب کے چہرے پر ایک پر اعتماد مچھیرے کی سی رونق تھی. رات انہوں نے اپنے بیٹے کو سانگھڑ تار بھیجا: “اللہ نے رزق کا بندوبست کر دیا ہے۔ اب تمہیں پردیس میں خوار ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ فورا چلے آؤ۔“ رب ایک اور عمارت میں قید ہو گیا تھا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: رزق کی فراوانی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں