ہم اور اشرافیہ

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان)

اشرافیہ کا محل وقوع ،

شائد ھمارے کئی قارئین یہ سمجھ رہے ھو نگے کے اشرافیہ میں کچھ بہت ھی خاص قسم کے ،چند ایک مخصوص لوگ ھونگے لیکن انھیں یہ جان کر حیرت بھی ھو سکتی ھے کے عین اس وقت کے جب یہ سطور انکی نگاہوں تلے گزر رہی ھوں ،وہ بھی اسی اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا کردار ھو سکتے ہیں ۔

چونکے انسانی جبلت میں طاقت کا حصول ،اختیارات کی قوت اور دولت کی چکا چاند شامل ھے تو اشرافیہ کی چمک بھی مد ھوش کن ھے اور غیر اشرافیہ کا فطری خواب ھی اشرافیہ میں شامل ھونا ھے ۔

یہ ھی وجہ ھے کے کئی غیر اشرافیہ کے سیاسی قائدین اور ورکر چاہے کتنا ھی تبدیلی اور ابقلاب کے نعرے لگایں ،بلاخر اشرافیہ کے در پہ ھی ماتھا ٹیکتے دکھائی دیتے ہیں ۔

دنیا کی ابتدا سے لے کر آج تک جتنی بھی الہامی اور غیر الہامی تحریکیں وجود میں ائیں ،وہ اشرافیہ ھی کے خلاف رہیں اور اس کی بنیادی وجہ بھی یہ ھی ھے کے اشرافیہ انصاف کے ترازو کو ھمیشہ اپنی خواہشات اور منشا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ صرف کرتی ھے بلکہ تا دم ایں کامیاب بھی ھے ۔

اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی تا وقت انصاف کے ترازو اپنے فطری توازن کو حاصل نہیں کر پاتے ۔

پاکستانی معاشرے میں ھر وہ شخص اشرافیہ کا کردار ھے جو یہ سمجتھا ھے کے ریاست کے زرائع جو وہ استعمال کر رہا ھے وہ اسے اقلیتی طبقے میں رکھ رہے ہیں ،پاکستان میں آبادی کے تناسب میں کتنے فی صد لوگ صاف پانی ،آرام دہ مکانات ،بجلی،تعلیم ،علاج معالجے کی سہولیات اور سیرو  تفریع سے مستفیض ھوتے ہیں ،جبکے ھماری آبادی کا بیس فی صد حصہ صرف شہروں میں رہتا ھے تو بالفاظ دیگر اس بیس فی صد میں بھی پانچ فی صد ایسے ھونگے جو ایک پرسکون یا خوشحال زندگی بسر کر رہے ھونگے تو اس سے مراد یہ ھی لی جا سکتی ھے کے اس ملک کی پچانوے فی صد آبادی غیر اشرافیہ میں ھی شمار ھو گی ۔

اب اگر اس پانچ فی صد اشرافیہ کے محل واقع کا تجزیہ کریں تو ان میں ھر پڑھا لکھا شخص اور ان پڑھ دولت مند شامل ھے ۔

ان میں سرکاری افسران اور ملازمین سے لے کر ڈاکٹر ،انجنیئر ،اساتذہ ،تاجر ،سیاست دان غرض ھر وہ فرد شامل ھے جو ریاست کے زرائع پہ شیر مادر کی طرح حق جتاتا ھے ،جبکے وہ یہ بھی جانتا ھے کے ان زرائع پہ جس طرح اس کا حق ھے بلکل اسی طرح ان پچانوے فی صد کا بھی حق ھے لیکن نہ تو آواز اٹھاتا ھے اور نہ ھی احساس شرمندگی کا بوجھ محسوس کرتا ھے تو ھم اسے اشرافیہ کا بد ترین کردار گردانیں گے ،اس کی واضع اور عملی مثال ھم اس کی اپنے گھریلو ملازمین ،مزدور اور کسانوں سے رویّے کو لیں گے جنہیں پاکستانی معاشرے میں دوسرے درجے کے  شہری سے  بھی  زیادہ بد تریں سلوک  کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔


افکار و نظریات: ہم اور اشرافیہ