اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات سیاستدانوں کا مسئلہ آیاز امیر فوج ایک طاقتور ادارہ ہے۔ اُس کا اثر ہر اُمور میں کسی نہ کسی حوالے سے ہونا ہی ہے۔ لیکن مسئلہ زیاد تب ہو جاتا ہے جب سیاسی ادارے کم عقلی کا مظاہرہ کریں‘ اور اُن کا دامن بھی صاف نہ ہو۔ کرپشن کے الزامات میں آپ گھرے ہوں۔ طرح طرح کی کہانیاں آپ کے بارے میں گردش کر رہی ہوں۔ ایسی صورت میں جرنیلوں سے آپ خاک اعتماد سے بات کر سکیں گے۔ سویلین بالا دستی کی بات کرنا آسان ہے۔ سیاستدان محَل بے محَل آئینی شقوں اور تقاضوں کا حوالہ دیتے رہتے ہیں‘ لیکن کون سا آئین آپ کی بات میں وزن پیدا کرے گا‘ اگر کسی زیر بحث موضوع کا آپ کو صحیح ادراک ہی نہ ہو؟ مثال کے طور پہ فوجی کمان اور سویلین حکومت کے درمیان افغانستان پہ گفتگو ہو رہی ہے۔ آپ کو افغانستان کا صحیح طور پہ جغرافیہ ہی معلوم نہ ہو۔ مناسب مطالعہ کی آپ نے کوشش نہ کی ہو، بس عمومی فقروں سے زوردار تقریر فرما رہے ہوں۔ اس کے برعکس افواج کے لوگ پوری تیاری سے آئے ہوں، مسئلے کی باریکیوں پہ اُن کا نسبتاً عبور زیادہ ہو، تو پلڑا کس کا بھاری رہے گا؟ میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ‘ دونوں کا حصہ رہا ہوں۔ تجربے کی بنیاد پہ کہتا ہوںکہ مجال ہے کہ کسی پارٹی میٹنگ میں پیچیدہ قومی یا فارن پالیسی کے کسی مسئلے پہ سنجیدہ گفتگو ہوئی ہو۔ پیپلز پارٹی میں تھا تو بینظیر بھٹو اور بھٹو خاندان کی تعریفوں کے پُل باندھے جاتے۔ ایک دفعہ 70 کلفٹن میں یوں ہوا کہ بینظیر بھٹو تشریف لائیں‘ اور کہنے لگیں کہ میں آج بہت خوش ہوں۔ میں نے وجہ پوچھی۔ بتایا کہ آج میری سالگرہ ہے اور پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مجھے بطور برتھ ڈے گفٹ پارٹی کا تاحیات چیئرپرسن نامزد کر دیا ہے۔ مجھے صحیح یاد رہے تو تاحیات چیئرمینی کی تجویز میر ے دوست افضل سندھو کی طرف سے آئی تھی۔ نون لیگ کے اجلاسوں کا حال اِس سے بھی زیادہ مزاحیہ ہوا کرتا تھا۔ پارٹی اجلاسوں میں میاں نواز شریف کو قائدِ محترم کہہ کے مخاطب کیا جاتا۔ پہلے سے تیار فنکار ہوتے‘ جن کی طرف میاں صاحب کی اُنگلی اُٹھتی۔ ان فنکاروں میں نہال ہاشمی لازماً ہوتے۔ خوشامد کی ایسی چوٹیاں سَر کی جاتیں کہ انسان حیران رہ جاتا۔ پہلا جملہ یہ ہوتا کہ قائدِ محترم اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام (تب ہماری آبادی یہی تھی) آپ کے منتظر ہیں اور پھر مزید اس قسم کی گفتگو ہوتی۔ ایک میٹنگ مجھے یاد ہے‘ جو لاہور 90 شاہر اہ قائد اعظم پہ ہوئی۔ بات نون لیگ کی عوامی مقبولیت کی ہو رہی تھی۔ ایک دو حاضرینِ مجلس نے دانشورانہ گفتگو شروع کرنے کی کوشش کی۔ ایک اور صاحب نے‘ جو آج کل وفاقی کابینہ میں ہیں‘ نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ قائدِ محترم‘ نون لیگ کے سارے ووٹ آپ کی ذات سے جڑے ہوئے ہیں‘ ہم اُن ووٹوں کے صرف مجاور ہیں۔ میاں صاحب کے منہ پہ خوشی کی لہر دوڑ گئی اور دانشورانہ بحث وہیں پہ ختم ہوگئی۔ یہ بات نہیں کہ افواج میں چاپلوسی نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے اس واضح قسم کا مکھن نہیں لگایا جاتا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں سنجیدہ گفتگو کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہاں کور کمانڈرز اپنی معروضات ایسے جملوں سے شروع نہیں کرتے کہ جنابِ جنرل باجوہ! آپ کا مقام فیلڈ مارشل رُومیل اور منٹگمری سے اُونچا ہے اور آپ کا باجوہ ڈاکٹرائن جیسا دانشورانہ تحفہ ملٹری تاریخ میں ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ فوج میں تابعداری ہے، کئی اونچی پوزیشنوں پہ پہنچنے والے خوشامد کے ماہر ہوتے ہیں‘ لیکن جو حال سیاسی پارٹیوں کا ہے وہ بہرحال افواج کا نہیں۔ سلیقے اور ڈھنگ سے بات کی جاتی ہے۔ پھر سیاست دان کہتے ہیں کہ فوج بالا دست ہو گئی۔ ہماری نہیں سُنی جاتی، فوجی اپنی منواتے ہیں۔ کچھ اپنے طور طریقے تو بدل لیں۔ پارٹیوں کا اندرونی کلچر تو بہتر ہو جائے۔ خوشامد کی مقدار میں تھوڑی سی کمی آ جائے۔ فوجیوں کی ٹریننگ ہوتی رہتی ہے۔ مختلف کورسز اُنہیں کرنے پڑتے ہیں۔ سٹاف کالج کوئٹہ نہ جا سکیں تو اُونچی پروموشن کی راہ بلاک ہو جاتی ہے۔ جرنیل بننے کیلئے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا کورس اچھے نمبروں سے پاس کرنا لازمی ہوتا ہے۔ سیاست دان کسی سٹاف کالج میں نہیں جاتے۔ سیاست کا میدان ہی اُن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ہوتی ہے۔ لیکن تاریخِ عالم دیکھ لی جائے، جو سیاست کی اُونچائیوں پہ پہنچتے ہیں وہ اپنی تعلیم خود کرتے ہیں۔ جو بڑے نام تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں‘ وہ بیشتر سیلف ایجوکیٹڈ (Self-Educated) ہوتے ہیں۔ کتابوں کے بغیر اُن کا وجود ناممکن ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ روایت رہی ہے۔ چوٹی کے سیاستدان کتابوں اور مطالعے کا شوق رکھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی لائبریری پہ ناز تھا۔ کوئی نئی کتاب مارکیٹ میں آتی تھی تو کراچی صدر میں ٹامسن اینڈ سنز نام کے کتب خانے کو ہدایات تھیں کہ اُن تک ضرور پہنچائی جائے۔ یہی حال سردار شیر باز مزاری کا تھا۔ کراچی میں اُن کی لائبریری جانے کا اتفاق ہوا۔ کیا شاندار ماحول تھا، اُوپر نیچے کتابیں اور اصلی چمڑے کے شاندار صوفے بیٹھنے کو تھے۔ گزرے دنوں میں مرحوم میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کی لائبریری مشہور تھی۔ مشرقی اور مغربی کلاسیکی موسیقی کے بھی دلدادہ تھے۔ اب نہ اُن کا لاہور سینٹ میری سکول کے متصل گھر رہا اور نہ وہ کُتب اور موسیقی کا ذخیرہ۔ افواج پہ سبقت زور سے حاصل نہیںکی جا سکتی۔ بندوق اور توپ و تفنگ تو افواج کے پاس ہوتے ہیں۔ سیاست کے اوّلین ہتھیار فکر اور دانش ہیں۔ لیکن جب اِنہی چیزوں کا مکمل فقدان ہو تو سیاست عسکری میدان پہ کیا سبقت حاصل کر سکتی ہے۔ مزید برآں جب سیاست کا نعرہ و منشور یہ رہ جائے کہ جس طرح ممکن ہو مال بناؤ اور عزت و وقار اُسی میں ہے تو جرنیلوں پہ رعب کیسے جھاڑا جا سکتا ہے؟ جب آپ پہ فائلیں کھلی ہوں اور اُن فائلوں میں آپ کے تمام کارناموں کا تفصیلاً ذکر موجود ہو تو کاغذوں میں درج آئینی بالا دستی کی شقوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ قائد اعظم کے پاس تو پستول کا لائسنس بھی نہیں تھا۔ بات کرتے تو بڑے سے بڑے جاگیردار اور نواب سہم جاتے۔ جلسوں میں انگریزی میں تقریر کرتے تو سامعین بات نہ سمجھتے ہوئے بھی ہمہ تن گوش رہتے۔ یہ عظمت کردار کی بدولت تھی۔ لیکن اگر قائد اعظم کے بارے میں یہ عام ہوتا کہ باہر جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں، درُوغ گوئی میں اُن کا کوئی ثانی نہیں، قطری خطوط لہراتے کہ میری دولت وہاں سے آئی ہے، تو اُن کی بات کون سُنتا؟ اُن کو کوئی قائد اعظم کہتا؟ جب وہ فوجی افسروں سے مخاطب ہوتے اور اُنگلی ہلاتے‘ کہتے کہ آپ کا کام ملک کا دفاع ہے اور اِس سے زیادہ کچھ نہیں تو اُن کی بات ذہنوں میں اُتر جاتی۔ اُس اعتماد سے آج کل کے سیاسی لیڈران بات کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں افواج نے پاکستانی سیاست کو برباد نہیں کیا۔ پاکستانی سیاست نے اپنا مقام پہلے خود گرایا اور فوج کی بالادستی بعد میں قائم ہوئی۔ گورنر جنرل غلام محمد اور سکندر مرزا سیاست کے علمبردار تھے۔ اُنہوں نے وہ کچھ کیا جس سے سیاست بے توقیر ہوکے رہ گئی۔ کس حکیم لقمان نے یہ نسخہ دیا تھا کہ جنرل ایوب خان کو پہلے چار سال کیلئے اور پھر مزید چار سال کیلئے فوج کا کمانڈر اِن چیف بیٹھائے رکھیں؟ مدتِ ملازمت میں توسیع ایوب خان نے بندوق کے زُور پہ نہ لی۔ سویلین وزیر اعظموں نے اُنہیں یہ عطا کی۔ فوج نے بہت غلطیاں کیں۔ بہت غلط فیصلے کیے لیکن یہ بھی ماننا چاہیے کہ حالیہ سالوں میں ملک کی بقا اور سلامتی کی ضامن افواج کے جوان اور نوجوان افسران رہے ہیں۔ اُن کے خون کی قربانی سے حالات سنبھلے ہیں‘ نہیں تو افغانستان سے بھاگی القاعدہ کی قیادت نے اب تک پاکستان کو برباد کر دیا ہوتا۔ ماضی کی غلطیوں کا اَزالہ افواج نے اپنے خون سے کیا ہے۔ سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں کا اَزالہ کیا کیا ہے؟
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: سیاستدانوں کا مسئلہ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں