بچوں کے مستقبل کا سوال ھے ۔۔۔

 محبوب اسلم                                                 

  عمران خان کیساتھ ملکر اس قوم نے اکیس سال تبدیلی کا پہاڑ کھودا اور آخر میں نکلا تو ڈاکٹر عامر لیاقت جیسا شخص۔۔۔دوسری طرف نواز لیگ اور زرداری کی پی پی پی سے بیزار ھو کر ھی یار لوگوں نے عمران خان کو بڑا لیڈر بنایا تو اب بڑا ھو کر یہ تھانیدار ھماری ھی تواضع کر رھا ھے۔ اگر مزہ نہیں آ رھا ھوتو پیسے واپس!

میرے اکثر پی ٹی آئی کے دوست میری تحریروں سے نالاں رھتے ھیں کہ میں عمران خان کی کھنچائی بہت کرتا ھوں۔ دوسری طرف نون لیگ کے دوست اس مغالطے میں رھتے ھیں کہ میری توپوں کارخ اگر نواز شریف کیطرف نہیں تو پھر میں کم ازکم انکا خاموش سپورٹر تو ھوں۔

یہ دونوں ھی پارٹیاں بلکہ اسمیں اگر پی پی پی، مہاجرقومی مومنٹ، اے این پی، اور مولانا فضل الرحمن کی جمیعت علماالسلام کو بھی شامل کر لیں تو ان سب کی مثال میرے جیسےپاکستانی کیلئے اس اونٹ سوار کی ھے جس سے پوچھا جاۓ کہ آپ کو اوانٹ پر بیٹھ کر چڑھائی چڑھنا اچھا لگتا ھے یا اترائی اترنا؟؟؟تو اونٹ سوار بلاتردد چلا اٹھتا ھے کہ چڑھائی اور اترائی دونوں پر لعنت!!!

نواز شریف کے خاندان اور اس کے حواریوں کی کرپشن کی ھوشربا داستانیں نہ پہلے ھم سے اوجھل تھیں اور نہ آج ھیں۔ دوسری طرف زرداری نے بمبینو سنیما میں ٹکٹیں بلیک کرنےسے جو سفر شروع کیا وہ پہلے پاکستان کا خزانہ لوٹنے پر ختم ھوا اور آجکل سندھ کا پورا بجٹ ھڑپ کرنے میں طے ھو رھا ھے۔ دوسری طرف مہاجر قومی مومنٹ اپنی بدترین لسانی بربریت اور مہاجر قوم کے نام پر پیسہ لوٹنے کے بعد اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے۔لیکن اب بھی کچھ یار لوگ اس پرانی شراب کو نئی بوتل میں بند کر کے قوم کے حلق میں انڈیلنے کے درپے ھیں۔

تو پھر بیچاری قوم سے کالیے کیطرح یہ سوال تو بنتا ھے کہ اب تیرا کیا ھو گا کالیا؟؟؟

یہ لکھ لیجئے کہ موجودہ سیاسی ٹٹو جی ھاں جان بوجھ کر سیاسی لیڈر نہیں لکھا بلکہ سیاسی ٹٹو لکھا ھے کہ سینٹ کے انتخابات کے بعد اب یہی اصطلاح موزوں ترین ھے۔ یہ سب اپنے اپنے مفادات کو عوام کا بھلا جتا کرقوم کے وسائل پر بھوکے کتوں کیطرح ٹوٹ پڑے ھیں۔ تو پھر نزلہ بیچارے عمران خان پر ھی کیوں گرتا ھے؟ اسکا جواب بڑا آسان ھے۔ عمران خان وہ شخص ھے جو بتاتا توخود کو مسلمان ھے لیکن اسکے کرتوت وھی کافرانہ ھیں۔ پہلےپہل تو ھم اس کی اصلاح کے پہلو سے لکھتے تھے کہ شاید رضیہ غنڈوں میں پھنسی ھوئی ھے۔ لیکن رضیہ نے اپنے کرتوتوں سے ثابت کر دیا کہ رضیہ غنڈوں سے ملی ھوئی ھے۔ وقت پڑنے پر گدھے کو باپ بنا لینا تو سناتھا لیکن اقتدرا کی خاطر بندر کو باپ بنانے کی یہ پہلی مثال ھے۔ شاید اس میں پنکی پیرنی کے چلٍے کا کمال بھی شامل حال رھاھو؟ ویسے پیرنی کانام پنکی ایسا ھی جیسے ایک اچھے خاصے پرھیزگار مولوی کا نام البیلا ھو یا کم ازکم خادم حسین رضوی رکھ دیا جاۓ۔۔۔اوۓ تیری پین دی۔۔۔سری۔

تو اب سوال یہ ھے کہ اس عوام کا کیا ھوگا؟ اور جواب یہ ھے کہ جب تک یہ عوام ان سب چوروں اور منافقوں کا مکو نہیں ٹھپتی یہ مسئلہ حل ھونے کا نہیں اور یہ کرپٹ امیر سے امیر تر اور عوام غریب سے غریب تر ھوتے چلے جائینگے۔ لیکن اس کیلئے عوام کو سیاسی طور پر سرگرم ھونا پڑیگا۔ جب تک نئی قیادت عوام میں سے سامنے نہیں آتی یہ پرانے پاپی اور نئے منافق ھماری قوم کااستحصال کرتے رھینگے۔ انکے پیر اب عوام کی گردن پر ھیں۔

 جتنا پیسہ کرپشن کی نظر ھو رھا ھے وہ عوام کی بھلائی کیلئے خرچ ھونا انتہائی ضروری ھے۔لیکن یہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالتے چلے جا رھے ھیں۔ ھے۔ مثال کے طور پر لاڑکانہ شہر کے نوے ارب کے ترقیاتی فنڈز کو جو ڈائن کھا گئی اسکا نام فریال تالپور ھے۔ لندن میں نواز شریف کے پارک لین پر اربوں کے اپارٹمنٹز کوئی نواز شریف کے باپ کے پیسہ سے نہیں خریدے گئے تھے۔ اور عمران خان تو پارٹی کے فنڈزتک ڈکار گیا۔

لیکن مایوسی گناہ ھے کاکا۔۔۔ایک نئی جدوجہد کا آغاز ناگزیر ھے۔ لیکن اس دفعہ لیڈر اپنے بیچ میں سے اپنے جیسا عام درجے کا ھی چنیئے اور لیڈری کاتاج اس کے سر پررکھیں جو خود کو احتساب کیلئے پہلےدن سے ھی پیش کر دے۔

 لیکن یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ھے۔ پچھلے پانچ سال کے تجربے کی بنیاد پر کہاسکتاھوں کہ اب پاکستان میں سیاست پیسے کا کھیل بن چکاھے۔ عوام کے پاس پیٹ بھر کھانے کو نہیں ھے اور یہ سیاست مانگتی ھے پیسہ اور وہ بھی بے تحاشہ پیسہ۔ سو ھماری قسمت میں یہی چور اور منافق لکھ دیئے گئے ھیں۔۔۔آپ کا کیا خیال ھے؟

لیکن نہیں۔۔۔میرا دل نہیں مانتا۔۔۔کیا یہ عطیہ خداوندی۔۔۔کیا ھمارا پاکستان ان ظالموں کے ھاتھوں کھلونا بنتا رھیگا اور ھم خاموش تماشائی بنے صرف دیکھتے رھینگے۔ نہیں ھم عوام کو ایک ھونا پریگا۔۔۔ سیاست سے پیسے کی لعنت کو دور کرناھوگا۔۔۔اپنی مدد آپ کرنا ھوگی۔ یہ ھمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ھے۔

اللہ ھمارا حامی و ناصر ھو۔۔۔آمین

 

 


افکار و نظریات: بچوں کے مستقبل کا سوال ھے