جنٹلمین یا اچھا آدمی

 

اچھے لوگوں  کو آزما نہ  نہیں  چاہیے ۔ اچھے  لوگ ہیرے  کی مانند ہوتے ہیں۔ ٹھوکرلگنے سے یہ ٹوٹتے  نہیں بلکہ پھسل  کر  دور چلے جاتے ہیں۔ جنٹلمین  انگلش  کا لفظ  ہے  اس  کا مطلب ایسا  انسان   جس کا تاثر  لوگوں  کے ذہنوں میں   مثبت  ہو ۔ اردو  میں جنٹلمین کو شریف النفس  کہا  جاتا ہے۔  جس سے شرافت   کی امید اور توقع   کی جائے وہ  جنٹلمین کہلاتا ہے۔

  ہمارا  معاشرہ تہذیب  و تمدن میں بہت پیچھے  رہ   گیا ہے اور  اس کاتہذیبی  ارتقاء بہت آہستہ ہے ۔ اگر تہذیب  کا  کوئی پیمانہ بنایا  جائے   تو شرم کے ساتھ کہنا پڑےگا  کہ اس حوالے سے  قوم  کی حالت  بہت عجیب ہو چکی ہے۔  دن بدن لوگوں  کے رویوں  میں شدت آتی جارہی ہے ۔  جنٹلمین  کی پہچان  اس   کا رویہ  ہو تا ہے  اب وہ  ناپید  ہوتا  جا رہا ہے ۔

جنٹلمین  کے موضوع  پر Fifty Things Every Young Gentlemen Should Now  بہت  اچھی  کتاب ہے۔  یہ کتاب دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں  میں سے ایک ہے۔ ایک جنٹلمین میں جو خوبیاں ہوتی ہیں  وہ اس کتاب   میں بیان کی  گئی ہیں۔  ان  خوبیوں  میں  چند  کا تذکرہ  یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

جنٹلمین  ہمیشہ  دوسروں کے کاموں  کی حوصلہ افزا ئی کرتا ہے۔ اگر  کسی   نے  اچھا کام ہے ،  اچھا پہنا ہے ، کسی  کا انداز اچھا ہے ،  کسی  کے پاس خوبصورتی ہے،  کام  کرنے کا اصلوب اچھا ہے تو  وہ  اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی ضرور  کرتا  ہے ۔ ہمارے  معاشرے میں تہذیب  ، تمیزاور آداب  اس لیے ختم ہو تے  جا رہے ہیں  کہ ہمارے معاشرے میں  شکریہ  اور حوصلہ افزائی  کم  ہوتی  جا رہی ہے۔  اپنے سے  جڑے ہوئے چھوٹے   لوگوں کی حوصلہ افزائی  ضرور  کرنی چاہیے۔  وہ  شخص  جوروز پانی  پلاتا ہے،  چائے پلاتا ہے اس  کی تعریف ضرور کرنی چاہیے ۔

حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں "اگر آپ اپنے ساتھ جڑے ہوئے  چھوٹے چھوٹے لوگوں  کو عزت دیں گے  تو اللہ تعالیٰ آپ  کی عزمت   اور مقام و مرتبے کو  قائم  رکھے گا۔"  جنٹلمین  میں "شکریہ" اور "مہربانی فرمائیے"    کے   الفاظ  ہوتے ہیں وہ  کہیں نہ کہیں ان  الفاظ کو استعمال ضرور  کر  تا ہے ۔

جنٹلمین  آنکھوں میں آنکھیں ملا کر دوسروں   کوسلام  کرتا ہے۔   بہت  سے  لوگ ایسے ہیں  جو  سلام    تو کر رہے  ہوتے ہیں  لیکن ان کی توجہ  کہیں اور ہوتی ہے۔ بعض سلام  کرتے وقت اس طرح  ہاتھ ملاتے ہیں  کہ   اگلا بندہ تکلیف محسوس  کرتا ہے۔ بعض صرف نام  کا ہاتھ ملاتے ہیں اوربعض ہاتھ ملانا پسند  ہی نہیں کرتے ۔جنٹلمین  ہمیشہ سلام میں پہل  کر تا ہے اگر  سلام  پہلے نہ  کر سکے تو  وہ چہر ے کی طرف دیکھ کر  پوری توجہ  کے ساتھ جواب  دیتا ہے ۔

    جنٹلمین ہاتھ ملاتے ہوئے محسوس  کراتا ہے کہ جیسے  اس  کا کوئی خاص  تعلق ہو ۔ ایک تحقیق کے مطابق  ہاتھ ملانے  سے  پوری شخصیت  کا پتا چل جاتا ہے۔  دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو چہرے  کو دیکھ کر   پوری شخصیت  کا پتا لگا لیتے ہیں۔   جو بندہ گرم جوشی  سے ملتا ہے  اس  کے کام بھی زیادہ ہوتے ہیں  اور  اس  کا سوشل حلقہ بھی زیادہ ہوتا ہے  ۔    ملنے کے  مختلف انداز  ہیں   ہر موقع  محل  کا اپنا ایک انداز ہے ۔ اگر   زیادہ  لوگ ہوں    تو ہاتھ ملانے کی بجائے   بہتر   ہے کہ سب کو ایک ہی دفعہ سلام کیا جائے۔  اگر  بات چیت    نہ ہو رہی   ہو تو  بہتر ہے  کہ   سب  کے ساتھ ہاتھ ملایا جائے۔  اگر  کسی  کے ساتھ  اچھا  تعلق  ہو تو  بہتر ہے  اس کے ساتھ گلے ملا جائے۔

  جنٹلمین  کو  اگر  کوئی  تحفہ دے  تو وہ   اس  کا شکریہ ضرور ادا  کرتا ہے  ۔ اگر  کسی نے آپ   کی زندگی  میں   کسی ویلیو  کا اضافہ  کیا ہے  تو اس  کا  شکریہ ضرور  ادا  کریں ۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں "سخی وہ ہے  جس کے پاس مال ہے  لیکن مال کی محبت  نہیں ہے۔" سخاوت  کا آسان    فارمولا یہ ہے کہ  مال   ہو لیکن  مال  کی محبت  نہ ہو ۔   جو مال  پر قبضہ  کر کے بیٹھا  ر ہے وہ  کنجوس  ہوتاہے  ۔  جنٹلمین  ناصر ف تحفہ  قبول  کرتا ہے  بلکہ تحفہ دیتا بھی  ہے۔  حدیث کا مفہو م ہے " تحفہ دینے سے محبت  بڑھتی  ہے"۔ تحفہ   بندے کے  تعلقات  کو مضبوط کرتا ہے  تحفہ دینے والا محسوس  کراتا ہے  کہ آپ مجھے مال و دولت سے  قیمتی  ہو۔

   جنٹلمین   دوسروں کے ساتھ  ملتے   وقت  مثبت  الفاظ کا استعمال  بہت  زیادہ کرتا ہے۔  لوگ اچھے  جملوں  اور اچھے الفاظ کے انتظار میں ہوتے ہیں ۔ اگر  چند  مثبت  بول بولیں  جائیں ، اچھی رائے  دی جائے،  ہمت  بڑ ھا ئی  جائے ،  غم  ہلکا کر دیا جائے  یا ہمدردی  کا اظہار  کیا جائے  تو دوسروں  کے ذہنوں میں اچھی اور مثبت  شخصیت  کا   تاثر قائم   ہوتا ہے ۔  بندہ  لوگوں کے  مسائل  تو  حل  نہیں کر سکتا  لیکن غم  ہلکا  ضرور کر سکتا ہے ۔ کچھ  لوگوں کی مشکلات   زیادہ  ہوتی ہیں ان مشکلات  کو حل   تو نہیں  کیا جا سکتا   لیکن دعا  ضرور  کی جا سکتی  ہے۔   اگر  کندھے  کے ساتھ کندھا ملایا جائے اور یہ  کہا  جائے  کہ  میں تمہارے ساتھ ہوں   تو   اس سے غم  کا بوجھ   بہت ہلکا ہو جاتا ہے۔

 دوسروں کی توجہ حاصل  کرنا ایک فن  ہے  یہ  ہر  کسی کو نہیں  آتا۔ جنٹلمین  کے پاس  توجہ  حاصل  کرنے  کے لیے مخصوص الفاظ ہوتے ہیں ۔  دوسروں  کی توجہ  حاصل   کرنے کے لیے جنٹلمین   محبت  بھر ے   ایسے  الفاظ کا استعمال  کرتا ہے "بھائی صاحب میری  بات سنیے""آپ  کی  تھوڑی توجہ چاہیے"۔ آج  دوسروں   کی توجہ ہتک    آمیز  الفاظ استعمال کر کے  کی جاتی ہے ۔ "اؤئے " جیسے  الفاظ استعمال  کو  دوسرے اچھا محسوس نہیں  کرتے  اور نہ ہی  اچھا تاثر  قائم  ہوتا ہے۔ مثبت الفاظ اچھا ثاثر    قائم  کرتے ہیں اور ایسے الفاظ  کا استعمال  کرنا  ہماری عادت ہونی چاہیے۔

  جنٹلمین  کو اپنی حدود و قیود  کا پتا ہوتا ہے ۔ اسے یہ   بھی معلوم  ہوتا ہے کہ  کون سی  بات کب ، کہاں اور کیسے  کرنی ہے، کس  بات میں  مداخلت   کرنی ہے  اور  کس بات  کو سنبھال  کر رکھنا ہے ۔ آ ج معاشرے  میں  یہ بد تہذیبی   آ گئی  ہے کہ اگر کہیں دو لوگ با ت  کر رہے ہوں  تیسرا شخص  درمیان  میں مداخلت  کرکے باتیں  کرنا شروع  کر دیتا ہے۔   معاشرے میں یہ خرابی  بھی  پائی  جاتی  ہے  کہ اگر    دو لوگ باتیں  کر رہے ہوں   تو تیسرا  شخص  ان  کو دیکھ  کر یہ سوچنا  شروع  کر دیتا  کہ  یہ ضرور  میرے خلاف باتیں  کر رہےہیں۔ شک اور بدگمانی    کی یہ   کیفیت بیماری کی شکل  اختیار کر چکی ہے۔  لوگوں    کی زبانوں پر شکوے  اور  شکائیتں  بڑھ گئیں ہیں۔  لوگوں نے اپنی حددود کو  پھلانگنا شروع  کر  دیا  ہے۔

ہر شخص  کسی  کے عقیدے  ، کسی  کی ذات  پر رائے دے رہا ہے ۔ معاشرہ  خود ٹھیک  ہونے کی بجائے تبلیغ   کی  طرف چل نکلا  ہے ۔خود پر اسلام  نافذ  نہیں ہو پا رہا  لیکن پور ی  دنیا  پر  اسلام  نافذ  کرنے کی باتیں  کر رہا ہے۔ ہر شخص مفتی ہے اور  وہ فتویٰ لگانے کے لیے تیار بیٹھا ہے ۔ جنٹلمین کا یہ  مزاج نہیں  ہے وہ  اپنے کام سے  کام رکھتا ہے  وہ  اپنے اخلاق سے تبلیغ  کرتا ہے۔

مخالف  علامت ہے  کہ  آپ صحیح راستے  پر  ہیں۔ مخالفت علامت  ہے کہ آپ بادِ مخالفت  چل رہے ہیں۔مخالفت علامت ہے   معاشرے  کو بد لنے کی کوشش  ہو رہی ہے۔ جب حاسد  اور بے وجہ تنقید  کرنے والے ہوں  تو  سمجھ  جائیں آپ  ٹھیک ہیں۔  جب  تک خوبی نہیں ہوگی  حسد نہیں ہوگا ۔ تنقید برائے تنقید  اگر موجود ہے  تو شکر ادا کریں  کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو  کسی  اچھے  کام  کے لیےمنتخب   کیا ہے۔   جنٹلمین مخالفت کے سامنے کھڑا ہو  جاتا ہے ۔ وہ ڈرتا  نہیں ہے  وہ فیصلہ کر لیتا ہے  کہ میں   نے مخالفت  کا سامنا کرنا ہے ۔ وہ نہ صرف  خود  ہمت  رکھتا ہے  بلکہ ہمت  تقسیم  بھی کرتا ہے۔

جو متاثر  کرتا ہے    اس میں ایسا کچھ  ضرور  ہوتا ہے  جو  اس    کی کامیابی  کا باعث  ہوتا ہے ۔  ضرور  اس    میں  ایسا  کوئی نہ  کوئی رویہ  پا  جاتا ہے  جو  اس  کو  ممتاز بناتا ہے ۔ اس  رویے  کو تلاش  کرنا اور اپنانا چاہیے۔  جیسے  جنٹلمین اپنے  سے  جڑے ہوئے لوگوں  کا  دوسروں  کے  ساتھ تعارف بہت  اچھے  طریقے  سے کرواتا ہے۔    تعارف اگلے کے ذہن  میں اچھا تاثر    قائم  کرتا ہے۔ جو  اپنے  سے  جڑے ہوئے  لوگوں  کو اچھے طریقے  سے  متعارف  نہیں   کرواتا  وہ   جنٹلمین  نہیں  ہو سکتا۔ جنٹلمین ہمیشہ  اس بات   کا خیال   رکھتا ہے  کہ کہیں میر ی وجہ سے   کسی کی عزت  کم نہ ہو ۔ تھوڑا سا جملہ ، تھوڑی سی تھپکی ، تھوڑی  سی حوصلہ افزائی    کسی کی عزت  کو بڑھا سکتا  ہے۔ 

طاقت کے ہوتے  ہوئے  طاقت  کا استعمال نہ ہونا  یہ  علامت   ہے  کہ آپ  بڑے انسان  ہیں ۔   جن   لوگوں کے  لنگر   اللہ  تعالیٰ  کی راہ  میں تقسیم ہو  تے ہیں   وہ  خود  سوکھی روٹی  کھاتے ہیں ۔   یعنی عاجزی  کو قبول کرنا  یہ  شیوا پیغمبری ہے ۔ عاجزی  اختیار   کرنے کا  مطلب ہے  کہ آپ  جنٹلمین ہیں ۔ جو ہمار ے دائرہ اختیار  میں ہےاگر اس میں بہتری  لائی جائے  تو تبدیلی ضرور آئے گی۔  بڑی تبدیلی  کے انتظار  کرنے کی بجائے چھوٹی سی تبدیلی کرنی چاہیے۔ یہ چھوٹی  سی تبدیلی  آنے والے دنوں   میں  بڑی تبدیلی کا  باعث  بنے گئی ۔


افکار و نظریات: جنٹلمین یا اچھا آدمی