میری ایک مقتول بہن 

گلزار حسین

               ہم دنیا پہ پائ جانے والی افضل مخلوق ہیں,  پھر اسی مخلوق کے مختلف مذاہب بھی ہیں اور ان مذاہب میں افضل مذہب اسلام کے پیروکار بھی, ہم اللہ کے کرم سے مسلمان ہیں یہ معلوم نہیں بادل نخواستہ ہیں کہ نہیں  ....

میں جو بات کہنا چاہتا ہوں اس پہ دل دہل جانے چاہیئں,  زمین پھٹ جانی چاہئیے اور سورج سوا نیزے پہ آجانا چاہئیے, اسے آپ یلو جرنلزم کہیں یا کالا جرنلزم آپ کے اختیار میں ہے, 

      ,,,,,,,,,,   ....    میں جب چھوٹا سا تھا تب مدرسہ کے استاد محترم ہمیں بتایا کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا,  بیٹی پیدا ہوتے ہی مرد وحشی ہوجاتے تھے اور غیرت کے زور سے اس چھوٹی سی چاند جیسی بیٹی کا سر کاٹ دیتے تھے, بیٹی کو بوسہ دینا تو دور کی بات دیکھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے,  بلکہ جو عورت بیٹی کی خواہشمند ہوتی اسے بچے سمیت ہلاک کر دیتے تھے,  یاد رکھیے میں تاریخ نہیں جانتا جو استاد محترم بتاتے تھے وہی بتا رہا ہوں,

بادل نخواستہ بہت ہی مشکل سے جو بچیاں زندگی کے لمحے ادھار لے لیتیں ان کے سودے کیے  جاتے,  ان کا غلط استعمال کیاجاتا, انہیں مرد کی جوتی کے تلوے کے برابر بھی نہ سمجھا جاتا , جب شادی ہوجاتی تو مختلف قسم کی جسمانی و زہنی تکالیف دی جاتیں,

اگر خاوند بیک وقت سو بیویاں رکھتا تو حق حاصل تھا اور وہ سب اسکی غلام بن کے رہتی تھیں بلکہ خاوند مرجاتا تو اس کی لاش کے ساتھ بیوی کو بھی جلا دیا جاتا,  کہیں پہ تو مرد کی لاش کے ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی قبر میں رکھا جاتا اور بیوی کو بھی زندہ گاڑ دیا جاتا,

یہ فرسودہ رسوم اتنی پختہ ہوگئیں کہ عورتوں نے دل سے تسلیم کرلیا تھا کہ یہی زندگانی ہے.

بلکہ عورتیں اپنے خاوند کے ساتھ جل جانا یا دفن ہونے کو شرف سمجھنے لگیں  ,

لیکن

لیکن

اسلام کی آمد کے بعد عورت کو کیا مقام ملا اس سے آپ بھی اور ہم بھی واقف ہیں, 

ان مراحل کے بعد

آج ہم دیکھتے ہیں کہ عورت کا کیا مقام ہے,

کیا آج بھی زمانہ جاہلیت کی طرح کہیں عورت کے ساتھ وہی جاہلانہ سلوک تو نہیں ہورہا

جی یہ سچ ہے مجھے بتاتے ہوۓ شرم محسوس ہورہی ہے کہ ایسا ہمارے ملک میں ہورہا ہے

ظاہری طور پہ عورت کو حقوق حاصل ہیں لیکن حقیقت میں آج بھی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا ہے, 

بیٹیوں کی دیر سے شادی کرنا اور پھر کسی کھونٹے سے مرضی باندھ دینا,  سودے کرنا,  آنٹے سانٹے یا وٹے سٹے کرنا,  کلبز میں جسموں کی ارزانی کروانا,  جائیداد کے حق سے, اولاد کے حق سے محروم کردینا,, میرے ایک دوست نے اپنی کہانی سنائ دل کیا آپ کو بھی سنادوں, وہ کہتے ہیں

""مجھے جب معلوم ہوا کہ میری بیٹی پیدا ہونے والی ہے مجھے بہت شرم محسوس ہونے لگی,  کاش پہلا بیٹا ہوتا پھر بیٹی ہوجاتی, محلے میں دوست و احباب میں کیا منہ لے کے جاؤں,

 بیوی سے  کہا ابورشن کروادے ورنہ تیری جان کو خطرہ ہے وہ نہ مانی, 

میں نے گھر سے نکل جانے میں عافیت جانی اور کراچی نکل گیا ,لمبے عرصے بعد بھائ کی کال آئ کہ تیری بیوی کو ہاسپٹل لے کر گۓ ہیں دعا کرو, ڈاکٹرز کہتے ہیں بچہ مشکل بچے گا, 

یہ بات سن کر میں نے چھلانگ لگائ اور قہقے رکنے نہ پاۓ

تھوڑی دیر بعد کال آئ,  میں نے سوچا کہ بھائ اب کہے گا تمہاری بیٹی مر گئ ہے واپس آجاؤ, 

"آپ کو مبارک ہو زچہ و بچہ دونوں سلامت ہیں بیٹی پیدا ہوئ ہے بہت ہی پیاری ہے,

بھائ نے کہا. .

میری افسردگی پھر بھی ختم ہوگئ, بیٹی رب کی رحمت ہے یہ سوچ کر مجھے بہت خوشی ہوئ تو گھر جا پہنچا اور اب بیٹی سے جدا بھی نہیں ہویا جاتا,  سینے پہ سوتی ہے میرے,,,

اس طرح کی کتنی کہانیاں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ہم جانتے ہیں, 

میں نے ایک پڑھے لکھے امیر گھرانے میں دیکھا جہاں بیٹیوں کے بالوں میں چاندنی نے گھیرا تنگ کر دیا پھر وہ والدین کو کھو بیٹھیں اور بھتیجوں اور بھانجوں کے پاس رہنے لگیں ان کو یہاں سے طعنے بھی سننا پڑے اور بھابھیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں کی بیویوں کے پیر دھونا پڑے اور یوں کڑھتی کڑھتی مر گئیں,  یہ میں نے اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھا ہے, آج جب ایک ایسی ہی بہن بیٹی کو زندہ درگور کیا گیا تو میں خاموش دیکھتا رہا, 

جناب عالی  !!!!

آج بھی لوگ اپنی بیٹی کو اپنی بہن کو قتل کرتے ہیں اور کندھا بھی دیتے ہیں

بہن اور بیٹی کے ارمانوں کا قتل,  عورت کے جزبات کا قتل, اور عورت کی آزادی کا قتل عام بھی  زندہ گاڑ دینے کے مترادف ہیں ,

جان سے مار دینا تو عورت پہ احسان ہے لیکن تڑپا تڑپا کے, اس کے اندر اس کی خواہشات کا قتل جسم کے قتل سے بڑھ کر ہے, 

جو لوگ اپنی بہن یا بیٹی کی شادی دولت کے چلے جانے کے خوف سے نہیں کرتے ان کے خلاف 302 کے تحت مقدمات ہونے چاہیئں اور بہن بیٹی کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں, 

مجھے آپ جو بھی سمجھیں,

لیکن یہ سچ ہے کہ آج بھی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جارہا ہے,  دولت کے لالچ میں شادیاں نہیں کی جاتیں اور یوں انہیں اپنی بیگمات کی خدمات کرا کرا کے,  ترسا ترسا کے, انہی جیسی عورتوں سے بے عزت کرا کرا کے مار دیا جاتا ہے

اور پھر کہتے ہیں

اللہ دی مرضی,  میری بہن بہت خدمت گزار تھی اور عزت پہ حرف نہیں آنے دیا,  کاش کہ اس مرد کو بھی مرنے والی کی کوئ خبر ہوتی جو سب کے سامنے well planned murder  کرکے کہتا ہے بیٹی رب کی رحمت ہوتی ہے, 

کیا یہ سچ نہیں, 

عورتوں کو حقوق حاصل تو ہیںلیکن پیارے دوستو جو میری بہن بیٹیاں اپنی چار دیواری سے باہر کبھی نہ گئی ہوں انہیں کیا معلوم حقوق کیا ہوتے ہیں. بہتر یہی ہے اس زمانہ کو جاہلیت نہ بنایا جاۓ بلکہ مہذب و شائستہ بنا کے بہن اور بیٹی کی زندگی کو قیمتی سمجھا جاۓ,  اس کے احساسات کو, جزبات کو, اس کی خواہشات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاۓ جو اس کا مقام ہے وہ دیا جاۓ ایکسٹرا نہیں جو اسلام میں ہے جتنا بھی ہے وہ دیا جاۓ ورنہ خدا کی قسم میں اس معاشرے کو زمانہ جاہلیت کا معاشرہ کہوں گا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تحریر میری اس بہن کے نام جو فطری موت مری لیکن میں اسے ایک قتل سمجھتا ہوں.

یہ قتل سارے معاشرے نے کیا ہے,  ابھی بھی وقت ہے,  ,,,


افکار و نظریات: میری ایک مقتول بہن