اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات پانی کا مسئلہ آصف محمود سیاست، سیاست اور سیاست ۔ کیا ہمارے پاس اس جان ماری کے علاوہ اور کوئی موضوع نہیں جس پر بات کی جا سکے؟ کیا ہمیں احساس ہے ہم کن خوفناک مسائل سے دوچار ہیں؟ پانی کا مسئلہ سب سے اہم ہو چکا ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارے UNDP کے مطابق دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ پانی کی قلت کا شکار ہو چکا ہے اور یہی حال رہا تو 2025 تک پاکستان خشک ہو جائے گا اور اسے قحط جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ورلڈ بنک جیسا ادارہ چیخ رہا ہے کہ پاکستان ایک خوفناک صورت حال سے دوچار ہونے جا رہا ہے لیکن ہمارے اپنے ملک میں کسی کو اس معاملے کی سنگینی کا ابھی تک احساس ہی نہیں۔ ارساکا کہنا ہے کہ اس سال بارشیں کم ہوئی ہیں اوربرف بھی کم پڑی ہے اس لیے پاکستان کو پانی کے بحران کا سامنا ہے اور اس سال پاکستان کے پاس معمول سے 40 فیصد کم پانی ہو گا ۔ غور فرمائیے ، معمول سے چالیس فیصد کم ۔ یعنی ہم قریبا اپنے پانی کے آدھے ذخیرے سے محروم ہو گئے اور ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ہمارے غازیان دانش اس اہم قومی مسئلے پر قوم کی رہنمائی فرمانے میں لگے ہوئے ہیں کہ ملالہ یوسف زئی غدار ہے یا فخرِ ملت ہے ۔ ہمارے کمالات دیکھیے ، ہم اپنے حصے کے پانی کا صرف 10 فیصد ذخیرہ کر پاتے ہیں ۔ ہمارا 90 فیصد پانی سمندر میں جا کر غرق ہو جاتا ہے ۔ کیا ہمیں معلوم ہے ہمارا جو پانی سمندر میں جا کر غرق ہوتا ہے اس کی مالیت کتنی ہے؟ ارسا کے مطابق ہر سال ہمارا 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی ضائع ہو رہا ہے۔ ہم چند ارب ڈالر خرچ کر کے ڈیم نہیں بنائیں گے لیکن ہر سال اکیس ارب ڈالر مالیت کا پانی ضائع کر دیں گے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوگا ۔ بھارت سے ہمارا پانی پر تنازعہ ہے ۔ وہ نت نئے ڈیم بنا کر ہمارے حصے کے پانی پر ڈاکہ مار رہا ہے۔ اس کے پاس اس وقت قریبا ایک سال تک پانی ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ جب ہم صرف تیس دن پانی ذخیرہ رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے حصے کے دریا بھی خشک ہو رہے ہیں اور ان کا پانی بھارت استعمال کر رہا ہے۔کسی بین الاقوامی فورم پر ہم آواز اٹھائیں تو بھارت کہتا ہے پاکستان کو مزید پانی کیسے دیا جائے جب کہ وہ اپنے حصے کا 90 فیصد پانی تو سمندر میں غرق کر رہا ہے اور اس کے پاس اسے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہمارے نمائندے جواب میں ایک دوسرے کا منہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ورلڈ بنک بھارت کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو ہم اسے ’ یہود و ہنود ‘ کی مشترکہ سازش کا نام دے کر خاموش ہو بیٹھتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ارسا کے چیئر مین سے پوچھا پانی کا خاطر خواہ ذخیرہ کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ چیئر مین نے بتایا کہ ہمیں فوری طور پر منگلا ڈیم کے سائز کے تین نئے ڈیم بنانے ہوں گے۔ سااتھ ہی اس نے کہا کہ ابتدائی کام تو سارا ہو چکا ہم چاہیں تو کالا باغ ڈیم صرف پانچ سالوں میں تعمیر ہو سکتا ہے۔ اس پر ہمارے سینیٹر جہانذیب جمال دینی برہم ہو گئے کہ تم نے کالا باغ کا نام کیسے لے لیا ۔ ملک صحرا بننے جا رہا ہے مگر قوم پرستوں نے کا لاباغ ڈیم نہیں بننے دینا ۔ پارلیمان میں آج تک یہ نہیں ہو سکا کہ کالاباغ ڈیم پر ڈھنگ کی ایک بحث ہی کر لی جاتی ۔ قوم پرست قائدین کو بھی بلوا لیا جاتا اور سابق چیئر مین واپڈا شمس الملک سمیت دیگر ماہرین کو بھی ۔ اعتراضات سنے جاتے اور میرٹ پر دیکھا جاتا ڈیم بننا چاہیے یا نہیں ۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی یہ کام اب بھی ہو سکتا ہے ا ور یہ کارروائی پوری قوم کو براہ راست دکھانی چاہیے تا کہ اسے معلوم ہو سکے کالاباغ ڈیم کی مخا لفت کرنے والوں کے دلائل زیادہ طاقتور ہیں یا اس کے حق میں دیے گئے دلائل میں زیادہ وزن ہے۔ لیکن اپنے دائیں بائیں دیکھ لیجیے کیا کسی کو اس بات کا احساس ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمارے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ پارلیمان سے لے کر ٹاک شوز تک جو بحث ہو رہی ہے اس کا ذو ق اور معیار دیکھ کرافسوس ہوتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح دن بدن نیچے جا رہی ہے ۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے مطابق پنجاب کے درجن بھر شہر زیر زمین پانی کے 90 فیصدسے محروم ہو چکے ہیں یا وہ قابل استعمال نہیں رہا ۔ اسلام آباد میں مجھے یاد ہے سیکٹرز کے اندر چشمے ہوا کرتے تھے اب وہ گٹر بن گئے۔ تازہ پانی کی ندیاں تھیں ان میں سیوریج ڈال دی گئی ۔ ورلڈ بنک کے مطابق پانی کی یہ آلودگی پاکستان کو قریبا چھ ارب ڈالر میں پڑ رہی ہے، یعنی جی ڈی پی کا چار فیصد ۔ یونیسف کے مطابق دو تہائی سے زیادہ آبادی آلودہ پانی استعمال کر رہی ہے اور اکنامک سروے 2015- 16 کے مطابق ہر سال اسہال جیسی بیماریوں کی وجہ سے ہمارے اڑھائی لاکھ بچے مر جاتے ہیں ۔ کل بیماریوں کا 80 فیصد آلودہ پانی کی وجہ سے ہے اور ہر سال ہونے والی اموات میں40 فیصد اموات کی وجہ یہی آلودہ پانی ہے۔ تصور کیجیے ہم کن مسائل سے دوچار ہونے جا رہے ہیں لیکن اپنے قومی سیاسی بیانیے کو دیکھیے۔ کیا یہ مسائل کہیں زیر بحث نظر آ رہے ہیں؟ کیا ہم نے آج تک اپنی کوئی ’ واٹر پالیسی ‘ بنائی یا بنانے پر کوئی غور کیا؟ غیر سنجیدہ افتاد طبع کے غولوں کے غول سرشام چینلز پر اپنے اپنے سیاسی قائد کے فضائل و درجات بیان کرنے امڈ پڑتے ہیں لیکن سنجیدہ مسائل پر بات کرنے کی کسی کو فرصت نہیں ۔ دہشت گردی کو دیکھ لیجیے ، اس سے نبٹنے کا کام فوج کے ذمے لگایا گیا لیکن ساتھ ساتھ فکری سطح پر بھی بہت کچھ ناگزیر تھا ۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا کیا؟ نیشنل ایکشن پلان تھا، کیا کسی کو یاد ہے وہ کیا ہوا؟ جناب خورشید ندیم کے ادارہ برائے علم و تحقیق نے اگلے روز پیغام پاکستان کے حوالے سے ایک نشست کا اہتمام کیا تو یاد آیا ایک عدد پیغام پاکستان بھی آیا تھا ۔ بڑا شور مچا تھا کہ نیا فتوی آ گیا ہے ۔ اس پر تمام مکاتیب فکر کے جید علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں ۔ اٹھارہ سو علماء کے دستخطوں کے ساتھ یہ فتوی جاری ہوا ، صدر محترم بھی موجود تھے ، دنیا بھر کے سفراء بھی ، اہل علم بھی تشریف فرما تھا اور وفاقی وزراء بھی ۔ ایک تقریب ہوئی اور اس کے بعد کسی کو یاد بھی نہیں کوئی پیغام پاکستان بھی تھا ۔ کسی مذہبی شخصیت نے کبھی اس کا حوالہ دیا نہ ہی حکومت کے کسی وزیر نے کبھی اس کی بات کی۔ایک دستاویز بن کر لائبریری میں سجا لینے کا کیا فائدہ ؟ فائدہ تو تب ہو جب وہ آپ کے رویوں میں بھی ظہور کرے ۔ پیغام پاکستان کے ساتھ بھی وہی حسن سلوک کیا گیا جو نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ کیا گیا تھا۔کیا اتنے سنجیدہ معاملے سے اتنی غیر سنجیدگی کے ساتھ نبٹا جا سکتا ہے؟ سوال وہی ہے: کیاسیاست پرجان ماری کے علاوہ اور کوئی موضوع باقی نہیں بچا جس پر بات کی جا سکے؟ کیا ہمیں کچھ احساس ہے ہم کن خوفناک مسائل سے دوچار ہیں؟
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: پانی کا مسئلہ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں