اشرافیہ اور ثقافت

ڈاکٹر حفیظ ارحمان ،پی ٹی آئی پشاور

اشرافیہ نے ھمارے سماج میں خود غرضی پہ مبنی ثقافت کو روشناس کرایا اور خصوصا اس کے جراثیم کو سیاست اور سیاسی جماعتوں میں متعارف کرایا ،یہ اشرافیہ ھی ھے جس نے سیاست کو شارٹ کٹ طریقے سے دولت کمانے کا راستہ بنایا اور غیر اشرافیہ کے سیاسی کارکنوں کے زہنوں کو پراگندہ کیا ۔

سیاست اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں انکو یہ باور کرایا گیا کے دولت اور شہرت اور اختیارات چاہتے ھو تو سیاست کا رخ اختیار کرو اور اگر یہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ھو تو پھر ھمارے گروپ میں شامل ھو جاؤ ۔اس طرح سے اشرافیہ نے سیاسی جماعتوں میں گروپ بندیوں کے زریعے اپنے جتھے بنانے کی روایت ڈالی اور جب یہ جتھے بندی مستحکم ھو گئی تو پھر ان سے یہ کام لیا جانے لگا کے کیسے اور کس طرح دوسرے گروپوں کو نقصان پہنچایا جائے ،اس سارے کھیل میں اگر نقصان ھوا تو غیر اشرافیہ کے غریب ورکر اور اس گروپ کے لیڈر کے طور پہ فائدہ حاصل کیا تو اشرافیہ نے ۔

ریاست پاکستان میں سیاست اور سیاسی جماعتوں کو مسخ کرنے میں اشرافیہ کا سب سے بڑھا ہاتھ رہا ھے اور اس کی بنیادی وجہ چونکے اشرافیہ کو اس بات کا احساس ھے کے وہ تعداد میں کم ہیں تو اگر سیاست اور سیاسی جماعتوں کو جمھوری اقدار کے مطابق پنپنے دیا گیا تو غیر اشرافیہ سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ حاصل کر لے گی جس کے نتیجے میں انکی کرپٹ زہنیت کے ہاتھوں جو لوٹ کھوسٹ کا بازار گرم ھے وہ دکانیں بند ھو جایں گی اور انکی عیاشیاں کیونکر ممکن ھوں گیں ،اس حوالے سے ھم ثبوت کے طور پہ یہ کہتے ہیں کے مختلف جماعتوں میں ھونے کے باجود انکی اپ سے میں رشتے داریاں ہیں ،باہر نکل کر عام ادمی کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں اور اندر گلے ملتے ہیں ۔

یہ انکا سب سے پہلا وار سیاسی جماعتوں کے آئین پہ ھوتا ھے ،یہ ایسا آئین تشکیل دیتے ہیں کے سیاسی ورکر سے سیاسی غلام بن جاتا ھے اور لیڈر دیوتا ۔

دوسرا وار یہ ھوتا ھے کے سیاسی جماعت کو اقتصادی حوالے سے اپنے پاوں پہ کھڑا ھونے نہیں دیتے اور سیاسی جماعت کو اپنی دولت کی رحم و کرم پہ رکھتے ہیں تا کے سیاسی کارکن ھمیشہ انکی دولت کا غلام بن کر رہ جائے ،سیاست کو جان بوجھ کر دولت کا کھیل بنایا گیا تا کے غیر اشرافیہ کی پہنچ سے دور ھو جائے ۔

سیاسی جماعتوں میں انتخابات کا نہ ھونا ،موروثی سیاست کو فروغ دینا اور سب سے بڑھ کر نظریاتی سیاست کو مدفن کرنا ،اس کے ساتھ ھی اصولی اور اخلاقی سیاست کا خاتمہ کرنا ۔

اشرافیہ نے سیاست میں درباری کلچر کو فروغ دیا ،جس سے غیر اشرافیہ کے سیاسی کارکنوں کی عزت نفس کو بری طرح مجروح کیا گیا ۔

اشرافیہ کی خود غرضی پہ مبنی سیاست نے سیاسی کارکنوں کو یہ سکھایا کے ساتھ والے کو کہنیاں مارے ھوئے آگے بڑھتے جاؤ اگر اس سے کام نہیں بنتا تو ٹانگیں کھینچو کیونکے مقصد تو خدمت نہیں ھےملک و  قوم کو لوٹنا ھے ۔

پاکستان تحریک انصاف کی قابل اور لائق قیادت سے ھم بھر پور توقع رکھتے ہیں کے چونکے پی ٹی آئی پاکستان ھی  واحد قومی جماعت ھے کے جس نے اشرافیہ کے خلافت علم بغاوت  بلند کیا ھے تو یقینن اشرافیہ بھرپور کوشش کرے گی کے پی ٹی آئی کے خلاف  سازشیں کرے اور جو کے شاہد اب تک شروع بھی ھو چکی ہیں ۔


افکار و نظریات: اشرافیہ اور ثقافت