شیعوں کے تکفیری سرپرست

ابو فجر لاہوری

متحدہ مجلس عمل، عملی طور پر ایک بار پھر معرضِ وجود میں آچکی ہے۔ اس بار اس مجلس میں صرف پانچ جماعتیں رہ گئی ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے اس ’’گناہ‘‘ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے اس ’’اتحاد‘‘ کو نجانے کس زعم میں ’’گناہ‘‘ قرار دیا ہے، یہ تو وہی بتا سکتے ہیں، لیکن مبصرین اور مذہبی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار بھی اس اتحاد کی بیل کو منڈھے چڑھتا نہیں دیکھ رہے۔ اس اتحاد کے بظاہر مقاصد تو کچھ اور بتائے جا رہے ہیں جبکہ پس پردہ اہداف کچھ اور ہیں۔ اس اتحاد کی زمام مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ میں دیدی گئی ہے یا انہوں نے خود رکھ لی ہے جبکہ سیکرٹری جنرل شپ جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ دوسرے لفظوں میں تمام شریک جماعتوں نے ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ عہدے بانٹ لئے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی اور علامہ ساجد میر کو نائب صدور بنایا گیا ہے جبکہ جے یو پی کے شاہ اویس نورانی کو سیکرٹری اطلاعات نامزد کیا گیا ہے۔ اس اتحاد میں جے یو آئی(ف)، جماعت اسلامی، جے یو پی، تحریک اسلامی اور جمعیت اہلحدیث پاکستان شامل ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اتحاد میں شمولیت اختیار کرنیوالی جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور تحریک اسلامی کے حالات ویسے نہیں جو 2002ء میں اس اتحاد کے پہلے جنم کے وقت تھے۔ جمعیت علمائے اسلام اس وقت تین دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ دو دھڑے نظریاتی و سمیع الحق گروپ ہیں، جو اس بار ایم ایم اے کا حصّہ نہیں بنے۔ جمعیت علمائے پاکستان جو بریلوی مکتبہ فکر کی جماعت ہے، اس کا نورانی گروپ مزید دھڑوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، صاحبزادہ حامد رضا اور سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے دھڑے بھی اس اتحاد کا حصّہ نہیں ہیں۔ علامہ ساجد علی نقوی کی تحریک اسلامی (تحریک جعفریہ) کی بڑی تعداد مجلس وحدت مسلمین میں جا چکی ہے۔ علامہ ساجد نقوی کے پاس بھی وہ افرادی قوت اب نہیں جو پہلے تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کے نظریاتی و سمیع الحق گروپ پاکستان تحریک انصاف کے قریب ہیں۔ اس اتحاد میں جے یو پی ابوالخیر زبیر گروپ، صاحبزادہ حامد رضا گروپ، نظام مصطفٰی پارٹی، حامد سعید کاظمی اور حنیف طیب گروپ بھی شامل نہیں، جو جے یو پی نورانی کے ہی دھڑے ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اس اتحاد سے تحریک لبیک یارسول اللہ، سنّی تحریک پاکستان، سنّی اتحاد کونسل، پاکستان عوامی تحریک بھی دور ہیں، جو سنّی بریلوی جماعتیں ہیں۔ شیعہ مذہبی جماعتوں میں تحریک اسلامی سے الگ ہو کر مجلس وحدت مسلمین بننے والی پارٹی بھی اس اتحاد کا حصّہ نہیں ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ شیعہ اور سنّی بریلوی کا مذہبی ووٹ بینک بہت زیادہ تقسیم ہے، لیکن ایم ایم اے میں شامل جے یو پی اور تحریک اسلامی کے پاس کوئی ایسا ووٹ بینک نہیں، جو آنیوالے انتخابات میں کوئی بڑا فرق پیدا کرسکتا ہو۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی 2012ء کے بعد کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے اس سارے عرصے میں مسلم لیگ نواز کیساتھ اتحاد بنایا۔ وہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کیخلاف بننے والے نیشنل ایکشن پلان اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے شروع ہونیوالے فوجی آپریشنوں کی کھل کر مخالفت میں تو سامنے نہیں آئے، لیکن انہوں نے دینی مدارس میں اصلاحات اور جن مدارس پر دہشتگردوں کی سہولت کاری کا الزام ہے، ان کیخلاف کارروائی کو ہر صورت روکنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے جہاں دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والی 26 جماعتوں کا ایک اتحاد بنوانے میں مدد دی، وہیں انہوں نے سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو استعمال کیا۔ عمران خان کے طویل دھرنے میں انہوں نے نواز شریف کا کھل کر ساتھ دیا، جس کے عوض انہیں وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں سے بہت فائدہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمان کی دیوبندی سیاست میں دوسری کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بتدریج ایسے اقدامات کئے ہیں، جس سے خاص طور پہ پنجاب، اندرون سندھ، شہری سندھ، ہزارہ ڈویژن اور جنوبی کے پی میں اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان) کی قیادت سے ان کے تعلقات میں بڑی بہتری آئی ہے۔ اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) کراچی، جھنگ اور ہزارہ ڈویژن میں اپنے جو امیدوار سامنے لائے گی، وہ یا جے یو آئی فضل الرحمنٰ گروپ کے امیدوار ہوں گے یا پھر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے اور جے یو آئی (ف) ان کو سپورٹ کرے گی۔ اس کے بدلے میں یہ جماعت ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت اور ٹانک وغیرہ میں جے یو آئی (ف) کو سپورٹ کرے گی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اندرون سندھ میں پہلے ہی اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان) کا سیاسی چہرہ بن چکی ہے۔

مولانا سمیع الحق کی پارٹی کے پاس اس وقت عملی طور پر جے یو آئی (ف) جتنی طاقت موجود نہیں۔ دیوبندی مذہبی ووٹ پر مولانا فضل الرحمان، محمد احمد لدھیانوی اور اورنگ زیب فاروقی وغیرہ کی زیادہ گرفت نظر آتی ہے۔ البتہ جمعیت علمائے اسلام نظریاتی گروپ بلوچستان خاص طور پہ قلات ڈویژن میں جے یو آئی (ف) کے مقابلے میں دیوبندی مذہبی ووٹ پہ اثرانداز ہوگی۔ ایسے آثار بھی موجود ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ نواز اور عسکری اسٹیبلشمنٹ سے اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان) کو سیاست میں مین سٹریم کرنے کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اسے باجوہ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے، اس میں اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) اور جماعت الدعوۃ کو مین سٹریم کرنے کا ایجنڈا سرفہرست ہے۔ متحدہ مجلس عمل میں مولانا فضل الرحمان اور پروفیسر ساجد میر کی مسلم لیگ نواز کیساتھ انڈرسٹینڈنگ بہت اچھی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے سینیٹ کے حالیہ الیکشن اور اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی کے انتخاب میں مسلم لیگ نواز کو ووٹ دے کر یہ تو واضح کر دیا تھا کہ ان کا جھکاؤ بھی مسلم لیگ نواز کی جانب ہے۔

جے یو پی نورانی گروپ کی جماعت اسلامی کیساتھ بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ ہے۔ نورانی گروپ کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے منتشر ہو جانے سے پیدا شدہ صورتحال میں اپنے لئے کوئی امکان دیکھ رہی ہے۔ جے یو آئی (ف)، جماعت اسلامی اور جے یو پی (نورانی) 70ء کی دہائی میں کراچی کی سیاست میں اپنا اثر رکھتی تھیں، انہیں کسی حد تک اس کی بحالی کی امید ہے۔ اسی لئے اس اتحاد کا ایک فوکس کراچی بھی ہے۔ متحدہ مجلس عمل پنجاب کی سیاست میں جھنگ کو چھوڑ کر جہاں مولانا فضل الرحمان اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان) کی ایک قومی اسمبلی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مقابلے میں جیت کا امکان دیکھتے ہیں، مسلم لیگ نواز کی بالواسطہ سپورٹ کے خواہاں ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ شیخ وقاص گروپ کے پاس نواز لیگ کا بظاہر ٹکٹ بھی ہو۔ اس کے بدلے میں جے یو آئی(ف) اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) نواز شریف کو نہ صرف باقی پنجاب میں سپورٹ کریں گے بلکہ وہ پشاور وادی اور ہزارہ ڈویژن میں بھی مسلم لیگ نواز کی حمایت کریں گے۔ بدلے میں مسلم لیگ نواز ایم ایم اے کو جنوبی خیبر پختونخوا، بلوچستان، کراچی میں سپورٹ فراہم کرسکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اسی لئے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز سے کراچی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ جماعت اسلامی اور فضل الرحمان گروپ کا بنیادی ٹاسک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اتنی نشستیں حاصل کرنا ہوسکتا ہے، جس کے بعد ان صوبوں میں کسی بڑی پارٹی کے لئے حکومت بنانا ممکن نہ ہو اور ایسے ہی قومی اسمبلی میں ان کی حاصل کردہ نشستیں معلق پارلیمنٹ کے اندر بھی فیصلہ کن حثیت حاصل کر لیں۔ اگر پنجاب میں مسلم لیگ نواز کسی بڑے اپ سیٹ کا شکار نہ ہوئی تو ایم ایم اے، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور کسی حد تک عوامی نیشنل پارٹی کی 2018ء میں کے پی اور بلوچستان میں کارکردگی مسلم لیگ نواز کے مستقبل کا تعین کرسکتی ہے۔ مسلم لیگ نواز نے پنجاب میں اپنے سامنے اٹھنے والے مذہبی چیلنج کیخلاف ابھی تک کافی کامیابی سے مزاحمت کی ہے۔ پیر حمید الدین سیالوی کی شکل میں سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن سے ملنے والا چیلنج کاؤنٹر ہوچکا ہے۔ سیالوی گروپ نواز لیگ کیساتھ کھڑا ہے۔ بریلوی مذہبی سیاست میں نواز شریف اور شہباز شریف نے جس طرح سے جامعہ نعیمیہ، بھیرہ شریف، سیال شریف، شرقپور شریف سمیت اہم سیاسی پیروں اور گدیوں کو اپنے کنٹرول میں کیا ہے، اس سے بظاہر مسلم لیگ نواز کو اس محاذ پہ کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ اشتہاری قرار پا چکے ہیں اور ان کی سیاست بھی 2018ء کے الیکشن میں چار سے پانچ سیٹوں سے زیادہ پر اثر انداز ہوتی نظر نہیں آرہی۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ملک سے باہر ہیں اور ان کی پارٹی 2018ء کے الیکشن سے دُور ہی نظر آرہی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا بھی پُراسرار طور پہ خاموش ہیں جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی ہمدردیاں پاکستان تحریک انصاف کیساتھ دکھائی دی رہی ہیں جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے قائدین مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم کا پی ٹی آئی یا (ق) لیگ کیساتھ ہی اتحاد متوقع دکھائی دے رہا ہے۔ اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ایم ایم اے کی سیاست کا زیادہ اثر جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے روایتی حمایتی حلقوں پہ تو بہت زیادہ ہوگا۔ کراچی میں یہ اتحاد کیا قومی اسمبلی کی دو سے تین نشستوں پہ مقابلہ کر پائے گا؟ اس سوال کا جواب کسی کو معلوم نہیں۔ کیا پاکستان تحریک انصاف پنجاب سمیت پورے ملک میں ایم ایم اے کے مدمقابل کوئی دوسرا مذہبی اتحاد بنوانے اور اس کیساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی سوچ رکھتی ہے؟ کیا وہ ایسا کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی ابھی آنا ہے۔

مسلم لیگ نواز کی ایم ایم اے سے بھی قربت ہے اور دوسری طرف اسے پاکستان میں طاقتور لبرل، لیفٹ، سول سوسائٹی لابی کی حمایت بھی حاصل ہے، جو کم از کم پنجاب کے شہری حلقوں میں جسے پنجابی اربن مڈل کلاس کہا جاتا ہے، کی رائے نواز شریف کے حق میں کرنے میں پہلے ہی مصروف ہے۔ ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کام اور بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کا کراچی اور اندرون سندھ کی چند نشستوں پہ پیپلز پارتی سے دو بدو مقابلہ ہوگا۔ پنجاب میں ایم ایم اے اور ایم ایم اے میں شامل نہ ہونیوالی مذہبی جماعتوں کے ووٹر کا بھی پیپلز پارٹی کی جانب رجحان نہیں۔ ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ یہ سوال بھی قابل غور ہے۔ زمینی حقائق اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خاص طور پر پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ قاف اور پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ نواز کا راستہ روکنے کیلئے باہمی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا آپشن اختیار کرنا پڑے گا، جس کی جانب سید خورشید شاہ اور نبیل گبول نے اشارہ کیا ہے، ورنہ غالب امکان یہ ہے کہ نواز لیگ آسانی سے الیکشن جیت جائے گی۔

ایم ایم اے کا ایک مقصد جہاں سیاسی مفادات کا حصول ہے، وہاں یہ بھی واضح لگ رہا ہے کہ وہ تکفیری گروہ اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) کو مین سٹریم میں لانے کیلئے سپاہ صحابہ کی قیادت کو یقین دہانی کروا چکی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ سپاہ صحابہ کو چھتری فراہم کی ہے۔ جھنگ سے ایم پی اے منتخبت ہونیوالے مولانا مسرور جھنگوی نے اسمبلی میں پہنچتے ہی جے یو آئی (ف) میں شمولیت کا اعلان کر دیا، حالانکہ انہیں ووٹ سپاہ صحابہ کے بانی رہنما حق نواز جھنگوی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے پڑے تھے۔ اہلسنت والجماعت اور جے یو آئی (ف) میں ایک اتحاد بہرحال موجود ہے۔ دونوں جماعتوں نے اس اتحاد کا کھلے عام اعتراف تو نہیں کیا، لیکن زمینی حقائق یہی بتا رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے انہیں تحفظ دینے اور انہیں سیاست کی مین سٹریم میں لانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) نے کافر کافر کا نعرہ بھی بند کر دیا ہے اور سیاست میں تسلیم کئے جانے کیلئے علامہ ساجد نقوی سے بات چیت کا بھی عندیہ دے رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان علامہ ساجد نقوی اور مولانا لدھیانوی کو ایک میز پر لانے میں کب کامیاب ہوتے ہیں۔