اشرافیہ اور سینٹ انتخابات

ڈاکٹر حفیظ ارحمان ،پی ٹی آئی ،پشاور

عمران خان صاحب نے بر ملا پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کے ھمارے ایم پی ایز بکے ہیں ،یہ یقیین ایک ایسے شخص کے لیے زہنی اور روحانی حوالے سے کس قدر اُزیت ناک ھو گا ،جس کی سیاسی جنگ ھی ھمیشہ سے کریپشن کے خلاف رہی ھو -

اشرافیہ نے اپنا کھیل کھیلا ،خان صاحب کو یہ باور کرایا گیا کے ایک چھوٹے صوبے کو نمائیندگی ملے گی ،پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نواز اور آزاد ،تینوں نے اشرافیہ کے نمائیندے کو لانا تھا لیکن چونکے اشرافیہ کی اپسمیں میں بھی برتری کی جنگ رہتی ھے کیونکے زیادہ سے زیادہ کون لوٹے گا تو پیپلز پارٹی کو پی ٹی آئی کے ووٹ چائیے تھے تو پھر کارڈ بلوچستان کا استعمال کر کے پی ٹی آئی کو اخلاقی حوالے سے پھنسایا گیا ۔

اشرافیہ پی ٹی آئی کو اپنے لیے مخلص نہیں سمجتھی اور اس کا اندازہ انھیں خان صاحب کے تیوروں سے بھی ھوتا ھے ورنہ تو جب پی ٹی آئی نے اپنا اپوزیشن لیڈر سینٹ میں لانے کی بات کی تو اشرافیہ نے منہ پھر لیا اور پھر یہ سیٹ بھی اشرافیہ کے پاس ھی گئی ،مسلم لیگ نواز کا بھی یہ سارا ڈرامہ تھا ورنہ تو پھر انکے سینیٹر وں نے سنجانی کو ووٹ کیوں دیا ،

اشرافیہ بڑی خوبصورتی سے عوام کو یا پھر غیر اشرافیہ کو بیوقوف بناتی ھے ،بظاہر یہ اپ سے میں لڑتے دکھائی دیتے ہیں لیکن بندہ انہی کا ھی آئے گا ۔

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ایک بھی ایسا لمحہ نہیں آیا جب کوئی بھی فرد ،گورنر ،وزیر اعلا،اسمبلی اسپیکر ،چیر مین وزیر اعظم ،صدر کے عہدے پہ دو کمروں میں رہنے والا آیا ھو ۔ھمیشہ ایک سے ایک بڑھ کر دولت مند آئے گا اور اس کے ذرایع آمدن کبھی  بھی شفاف نہ ھونگے ۔

ھمارے سامنے اشرافیہ کی آنے والے انتخابات کے حوالے سے چار صورتیں دکھائی دے رہی ہیں پی پی پی ،پی ایم ایل این ،ایم ایم اے اور آزاد ،جبکے پی ٹی آئی ان کے مقابلے میں تنہا ھے اور شائد پی ٹی آئی میں بھی اشرافیہ کے کچھ لوگ شامل ھو کر ٹکٹ حاصل کریں اور پشت سے وار کریں ،سینٹ کے چیر مین کے انتخابات سے ھمیں بہت کچھ سیکھنا چائیے ۔

 

پی ٹی آئی کی طاقت غیر اشرافیہ ھے ،خان صاحب کو اپنی اس قوت پہ انحصار کرنا چائیے ،ھمیں تو اب اس بات کا بھی اندازہ ھو رہا ھے کے کے پی کے کی حکومت بھی پی ٹی آئی کو ناکام کرنے کے حوالے سے دی گئی کیونکے ایک پہلو انتہائی غور  طلب ھے کے اجتک کے پی کے میں پی ٹی آئی  سے پہلے ایسی حکومت نہیں بنی جس کے تعلقات مرکز سے کشیدہ یا  مخالفت میں رہے ھوں تو اصل میں پی  ٹی آئی کو  کے پی کے کی حکومت میں  جماعت اسلامی سے الائینس کر کے انا ھی نہیں چائیے تھا جبکے مرکز میں حقیقی اپوزیشن پی ٹی آئی ھی  کر رہی تھی تو ایک چھوٹے صوبے کی حکومت کا  کیا فائدہ ،اس حکومت سے شاہد چند افراد کی سیاسی ساکھ کو تو فاہدہ پہنچا ھو لیکن پی ٹی آئی کو کوئی فاہدہ نہیں ھوا ۔

پی ٹی آئی جیسی قومی سطح کی جماعت اور عمران خان جیسی لیڈر شپ جو اشرافیہ کو للکار رہی ھو اور تبدیلی ،انقلاب کی بات کرے اسے مرکز سے کم راضی ھی نہیں ھونا چائیے ۔

پھر سب سے اھم کے پاکستان تحریک انصاف ایک تحریک ھے ،جس کاتحریکی تشخص  زیادہ نمایاں ھونا چائیے بہ نسبت پارلیمانی جماعت۔


افکار و نظریات: اشرافیہ اور سینٹ انتخابات