فوزیہ قصوری ایک شمع فروزاں

محبوب اسلم

یہ غالباً2013 کا قصہ ھے کہ میری پہلی ملاقات لاس اینجیلس میں پی ٹی آئی کے ایک فنڈ ریزنگ فنکشن میں فوزیہ قصوری صاحبہ سے ھوئی۔ مجھے اس بات کا زعم رھتا ھے کہ میں ایک اچھا مقرر ھوں اور حاضرین کو خوش اصلوبی سے محصور کر سکتا ھوں۔ لیکن جب فوزیہ قصوری نے اسٹیج پر بولنا شروع کیا تو مجھے میرے تنگی دامن کا احساس ھوا۔ فوزیہ قصوری نے بولنا کیا تھا انکی زبان نے انکا دل جیسے الفاظ میں ڈھال دیا۔ انکے پاکستان کے بارے میں حقیقی جذبات، عمران خان پر بھرودسہ، پی ٹی آئی پر اعتماد اور سب سے بڑھ کر تبدیلی کا خواب۔۔۔یہ سب جیسے انکے الفاظ میں ڈھل ڈھل کر حاضرین کے دل و دماغ کو چھو رھے تھے۔ میرا پی ٹی آئی کا ساتھ نیا نیا تھا لیکن فوزیہ قصوری کو سننے کے بعد دل جم گیا کہ پاکستان میں تبدیلی اگر آ سکتی ھےتو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے۔ میں نے اپنی محنت اور کاوشیں اور تیز کر دیں۔

پھر2012 کے آخیرمیں عمران خان خود فنڈ ریزنگ کیلئےلاس اینجیلس تشرف لاۓ۔ میری ٹیم لوکل صدر عثمان علی کی قیادت میں دن رات ایک کر چکی تھی اور ھمیں امید تھی کہ ھم امریکہ میں پی ٹی آئی کی فنڈ ریزنگ کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دینگے۔ لاس اینجیلس کی مشہور زمانہ یونیورسٹی یو۔ایس۔سی کا ھال سمندر پار پاکستانیوں سے کچھا کھچ بھرا ھوا تھا۔ میں اسٹیج پر ایم سی کے فرائض انجام دے رھا تھا۔ سلمان احمد نے اپنے گٹار پر قومی ترانہ چھیڑا اور حاضرین جیسے پاگل ھو گئے۔ پھر عمران خان کومیں نے اسٹیج کے پیچھے سے اسٹیج پر لا کھڑا کیا۔ پاکستانی جیسے دیوانے ھوگئے۔نئے پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بول رھا تھا۔

فوزیہ قصوری صاحبہ کو ھم نے نیچے اسٹیج کے قریب پہلی صف میں بٹھایا ھوا تھا۔ پھر عمران خان کی تقریر کے بعد ھم نے فنڈ ریزنگ شروع کی لیکن پیسے دیتے وقت پاکستانیوں کو مشکل نے آ لیا۔ پھر بھی ھم نے ھمت نہ ھاری اور سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن میں نے کن انکھیوں سے فوزیہ قصوری کیطرف دیکھا۔ فوزیہ قصوری مجھے اضطراب میں نظر آئیں۔ شاید وہ احساس کر چکیں تھیں کہ پاکستانیوں کے دل کو گرمانے کا موقعہ ھاتھ سے نکل رھا ھے۔ اور پھر دوسرے ھی لمحے وہ اسٹیج پر تھیں۔ میں نے دل ھی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور مائیک انھیں تھما دیا۔ اور پھر فوزیہ قصوری نے اپنا دل اور اسمیں موجود پاکستان کیلئے خوابوں کو الفاظ میں ڈھالنا شروع کیا اور پورا ھال ایکبار اب اپنے پاٶں پر کھڑا تھا۔ جہاں پہلے ھمیں صرف ایک ایک فرد چندہ دے رھا تھا۔ اب چھ چھ ۔۔۔دس دس لوگ بیک وقت کھڑے تھے۔ ھماری ٹیم پورے ھال میں دوڑتی پھر رھی تھی۔ تو یہ ھے وہ فوزیہ قصوری جو آج نئے پاکستان پر جو شب خون مارا جا رھا اس کیلئے آواز دے رھی ھے۔

 

یہی نہیں 2014 میں پارٹی فنڈز کی چوری اور غبن پر صرف نظر کرنے پر جب میں نے عمران خان کو للکارا تو یہ فوزیہ قصوری ھی تھیں جس نے سب سے پہلے مجھے ٹیلیفون کر کے صبر کی تقلین کی۔ لیکن میں شاید ان جیسا بڑا دل نہیں رکھتا تھا سو میں نئے پاکستان کی خاطر عمران خان سے بھڑ گیا۔ آج وھی سلمان احمد اور وھی فوزیہ قصوری اس جگہ کھڑے ھیں جہاں میں 2014 میں میں کھڑا تھا۔ مجھے یقین کامل تھا کہ یہ لوگ جلد یا بدیر عمران خان  کی ”مجبوریوں“ کو مزید سہارا نہ دے سکیں گے۔۔۔ یہ لوگ عمران کے پیچھے نئے پاکستان کیلۓ کھڑے تھے جب کہ عمران خان اس خوش فہمی میں تھا کہ شاید وہ کوئی بڑا افلاطون ھے۔

عمران خان نے نئے پاکستان کی جو بولی لگائی ھے وہ بہت ھی کم ھے۔۔۔کرپٹ پرویز خٹک، قرضہ مافیا جہانگیر ترین، لینڈ مافیا علیم خان، قاتل یار محمدرند اور اب سدا کالوٹا چوھدر فواد، چور نذر گوندل اور شیطان صفت عامر لیاقت۔۔۔یہ ھے وہ ٹیم جو عمران خان نے نئے پاکستان کیلئے تیار کی ھے۔

فوزیہ قصوری جو کر رھی ھے وہ بالکل ٹھیک ھے۔۔۔ان جیسی محب وطن سے امید بھی یہی تھی۔ بس ذرا دیر کردی۔ لیکن وہ جو کہتے ھیں نا کہ نیکی کے کام میں کوئی دیر نہیں ھوتی۔۔۔جب جاگو سویرا سمجھو۔۔۔

فوزیہ قصوری آپ کو میرا سلام!

 

 


افکار و نظریات: فوزیہ قصوری ایک شمع فروزاں