فکری جمود کا نشہ

تحریر = گلزار حسین .... 

      بھنگ ایک ایسی قسم کا نشہ ہے جو چڑھ جاۓ تو دماغ سن ہوجاتا ہے, رگوں میں لہو دوڑنا بند ہوجاتا ہے, جسم پہ سستی و کاہلی چھا جاتی ہے اور پینے والے کو چکر آنے لگتے ہیں,  کبھی وہ ہنستا ہے تو پھر رونے لگتا ہے,  بات کرتے ہوۓ بات میں ہیر پھیر کی کیفیت بنا لیتا ہے, کوئ اسے گالی بھی دے تو وہ قہقے لگاتا ہے,  یعنی بھنگ اس شخص کے دماغ پہ اثر انداز ہوکر سوچنے سمجھنے کے عمل کو تو متاثر کرتی ہی ہے اس کے جسم کو لاغر اور ادھ مویا سا کر دیتی ہے,

آج یہی کیفیت ہمارے پڑھے لکھے طبقے کی ہوچکی ہے, سب کچھ جاننے کے باوجود جان بوجھ کر بہتے ہوۓ لہو سے نظریں چرا لی جاتی ہیں,  جاہل اور ان پڑھ لوگ تو اپنی موت آپ مارے ہی جاتے ہیں لیکن علماء کرام اور پروفیسرز کا آۓ روز قتل اور صحافت کو ٹارگٹ کرنا سمجھ سے بالا تر نہیں, 

یہ سب ہماری خاموشی سے, ہماری چپ کی وجہ سے ہورہا ہے ہمارا مقصد حیات

یا عالم فاضل, دانشور کا مقصد حیات روزی روٹی کمانے سے کہیں آگے ہے,

جس ادارے میں بھی دیکھیں, عدالتیں,  افواج,  تعلیم, صحت, ہر کہیں پڑھے لکھے افراد موجود ہیں ہر ادارے سے درجہ 4 کے ملازمین بھی پڑھے لکھے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حالات بگڑتے ہی جارہے ہیں,

وجہ جو سامنے دکھائ دیتی ہے وہ  ہے ملک سے محبت کی کمی, وہ ہے بھنگ پی کر زندگی تمام کردینا,  کیونکہ بھنگ نے ہمارے دماغوں کو سن کر دیا ہے,  ہمارے اندر سستی و کاہلی بڑھتی جارہی ہے ,

ہم بس پی ایس ایل ہو تو ہنستے رہتے ہیں اور اگر زینب یا ذیشان کا قتل ہو تو رونے لگتے ہیں,

فکری جمود جیسی بیماری کا ہم شکار ہوچکے ہیں,  ہمارے اذہان سے وسعت کا خاتمہ ہوگیا ہے اور فکری جمود کا شکار ہوچکے ہیں,

آج بھی ایسے لوگ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو فکری جمود کو توڑ کر ہمیں فکر مند کرنا چاہتے ہیں لیکن افسوس یہ کہ

یہ انمول لوگ,  یہ انمول تحفے

ہمیں نشے سے تو جگا دیتے ہیں لیکن خود سو جاتے ہیں یا پھر ایسے جگانے والوں کو زبردستی سلا دیا جاتا ہے,

اگر کوئ بھی پاکستانی چاہے وہ جس مقام پہ ہے اگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو یقیناً اس پر سے بھنگ والا نشہ اتر گیا ہوگا,  ہر باہوش اور سلجھا ہوا شخص اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ قومیں نشے پی کر سوجانے سے نہیں

بھوکے رہ کر محنت و لگن سے ترقی کے زینے طے کرتی ہیں, 

اور وہی قومیں زندہ رہنے کی مستحق قرار پاتی ہیں جو ہمیشہ کام کام اور بس کام کرتی ہیں,  جن میں اتحاد و بھائ چارہ ہوتا ہے جن کے ایمان مضبوط ہوتے ہیں,  مجھے لگتا ہے کہ ہم تو ایک قوم بھی نہیں رہ سکیں گے اگر

ایمان,  اتحاد اور تنظیم کا سبق بھول گۓ تو,,,,

اگر ہمارے اداروں نے خود کو اسی طرح سن کیے رکھا تو حکمرانی صرف ظالم کریں گے,

اب وقت ہے کہ فکری جمود توڑ کر فکر و فلسفہ کی طرف قدم بڑھایا جاۓ,  یہ قوم پاکستانی قوم ہے یہ عظیم قوم ہے بس اسے مارا تو نہیں جاسکتا اس لیے نشے پلا پلا کر مدہوش کیا جارہا ہے اور بے ہوشی کے عالم میں سب کے سامنے قتل عام کروایا جارہا ہے, 

پہلے سرخ اندھیریاں آتی تھیں

اب تو اتنے قتل ہوۓ ہمیں محسوس ہی نہیں ہورہا. 

وجہ یہی ہے فکری جمود,

ہمارے زہنوں پہ قدغن لگا کر جسموں کو مرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے اور ہاں

ظالم جانتا ہے کہ اس قوم نے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن رونا ہے پھر ہنسنا ہے,  پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہم روۓ

پھر کمی ہوئ ہم ہنسے, باالکل بھنگ کے نشے والی کیفیت کا شکار ہوچکے ہیں ہم, 

ہم من حیث القوم فکری جمود کا شکار ہیں جس کی وجہ سے تباہی و بربادی میں دن دیہاڑے اضافہ ہوتا جارہا ہے, 

ہمیں اپنے مفکرین اور فلاسفر , سکالرز, پروفیسرز اور شعرا سے مدد لینی چاہیے جو اس جمود کو توڑ سکتے ہیں,  اب وقت ہے کہ سکالرز, مفکرین, فلاسفرز اور پروفیسرز سے رہنمائ لی جاۓ, 

خدا کی قسم یہ واحد طبقہ ہے جن کا نام و نشان ملک سے مٹایا جارہا ہے,  ہمارا دشمن ہماری نئ نسل میں مفکر, فلاسفر, ڈاکٹر,  پروفیسر یا دانشور یا شاعر نہیں  دیکھنا چاہتا بلکہ مشینیں دیکھنا چاہتا ہے, ٹیکنالوجی کےنام پہ ملک میں نئ نسل کو چلتی پھرتی لاشیں بنایا جارہا ہے,

تاکہ ان مشینوں کا بٹن دشمن کے پاس رہے, اور وہ دشمن کوئ اور نہیں ہمارا حکمران طبقہ ہے جو نشے میں دھت پڑا غل غپاڑے میں مشغول ہے اگر مفکر و فلاسفر و دانشور بن جائیں تو ان کی حکمرانی ان کی بادشاہت کو خطرہ ہوگا

اس وقت تک تو ہمارا دشمن خوش ہے,  اور ہم اسی طرح فکری جمود کا شکار پڑے, کبھی اس کروٹ تو کبھی اس کروٹ. 

ذیشان مرحوم کا قتل بھی فکری جمود کو توڑ رہا ہے, 

ہر طرف سے ایک آواز آرہی ہے

کہ صحافی کے قاتل کو سرعام تختہ دار پہ لٹکایا جاۓ,

..........

 


افکار و نظریات: فکری جمود کا نشہ