کوئی نہ سر اٹھا کے چلے!!!

محبوب اسلم

اس پیارے پاکستان میں دن دھاڑے نواۓ وقت کے صحافی ذیشان بٹ کو سمبڑیال کی یوسی بیگووالہ کا نون لیگی چئیرمین اسلم چیمہ اور اسکے چیلے  گولیوں سے بھون دیتے ھیں۔ اور وہ بھی صرف اس جرم میں کہ وہ یوسی چیئرمین کیطرف سے دوکانوں پر جگا ٹیکس عائد کرنے پر اس سے سوال کرنے کی جسارت کرتا ھے۔

یہ اندوھناک خبر اس ملک کی تباھی کے اسباب بتانے میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتی۔ اس ملک میں سیاسی جماعتیں اور ان کے گماشتے صرف اور صرف پیشہ ور مافیا کا روپ ھیں۔ حرام کما کر پیسہ بناٶ اور پھر اس حرام کے پیسے کو سیاست میں لگاٶ اور طاقت حاصل کرو اور اس طاقت سے مزید پیسہ بناٶ۔ عوام کے پیسے کو اپنی جیب میں ڈالو اور وہ سوال پوچھیں تو جواب میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دو۔

کیا کوئی قانون اور کوئی ضابطہ اخلاق ھے اس ملک خدادا میں یا پھر جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا معاملہ ھے۔ ھمارے کتنے ھی معصوم ھم مذھب آج فلسطین اور کشمیر میں گولیوں سے بھون دیئے گئے۔۔۔سوچا تھا آج ان کی جانوں کے زیاں پر نوحہ خوانی کرونگا۔ لیکن کیا پتہ تھا کہ ھمارے اس آزاد ملک میں بھی ظالم اقتدار کے نشے میں اپنے ھی ھم وطنوں کیساتھ وہ کر رھا ھے جو یہودی اور بھارتی کتے ھمارے ھم مذھب معصوموں کیساتھ فلسطین اور کشمیر میں کر رھے ھیں۔ میں فلسطین اور کشمیر کا نوحہ کیسے لکھوں جب میرے اپنے ھی وطن میں سچ اور انسانیت کا قتل عام جاری ھے۔ کیا نواز شریف اور خواجہ آصف اپنی پارٹی کے اس درندے اسلم چیمہ کا احتساب کرینگے۔ کیا چیف جسٹس صاحب اسکا از خود نوٹس لینگے؟؟یہ وہ سوال ھیں جوھم میں سے اکثر کے دماغ میں آ رھے ھیں۔

لیکن میں ان سوالات اور ان کے جوابات سے تنگ آچکا ھوں۔ میراسوال اب اس قوم کے باسیوں سے ھےکہ کیا وقت نہیں آگیا کہ ان نام نہاد سیاسی لیڈروں اور اس ڈگڈگی پر ناچتی بیوروکریسی کو لات ماری جاۓ۔ اس جعلی تبدیلی کے ڈرامے کو مسترد کیا جاۓ۔ اس گالیاں دیتی مذھبی قیادت پر لعنت بھیجی جاۓ۔ اس شیعہ سنی تقسیم پر پلنے والوں کا بائیکاٹ کیا جاۓ۔ اس لسانی سیاست پر آگے بڑھنے والوں کا راستہ روکا جاۓ۔ اس اپنی ھی جمہوریت کو فتح کرتی فوج کو لگام دی جاۓ؟؟؟

 

اور اگر آپ کا جواب ھاں میں ھے تو پھر آپ متحد ھو کر سیاست میں قدم رکھیں اور یہ طاقت آپ۔۔۔اصل عوام حاصل کریں۔ آج سے اس ظلم کے نظام کے ھر نشان کو مسترد کر دیں۔ اپنی مدد آپ کی بنیاد پر اپنے دائیں بائیں دیکھیں اور اپنے سے بہتر انسان کو آ گے لائیں۔۔۔اپنے لیڈر اپنے آپ میں سے چنیں۔ وگرنہ یہ موجودہ سیاسی رھنما وہ ڈائن ھیں جو اپنے بچے تک کھا جاتی ھیں۔

اب اسدفعہ فیصلہ آپ نے کرنا ھے۔ ذلت یا عرت کی زندگی۔ اپنے لیئے اور اپنے لاچار و مجبور امتی بھائیوں کیلئے جو فلسطین، کشمیر، برما، یمن، شام اور سمبڑیال بیگووالہ میں اس درندگی کا شکار ھو رھے ھیں۔ کیونکہ یہ سارے ظالم ایک ھی گروہ سے تعلق رکھتے ھیں۔ سوال یہ ھے کہ کیا ھم مظلوم بھی اکھٹے ھو سکتے ھیں؟؟؟


افکار و نظریات: کوئی نہ سر اٹھا کے چلے