شہیدِ صحافت ذیشان بٹ

گلزار حسین

صحافت ایسا ستون ہے جس پہ صرف پاکستان کی نہیں ہر ریاست کی عمارت کھڑی ہوتی ہے, صحافی ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنے فرض کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کام کرتا ہے,  یہ سچ ہے کہ اگر صحافت چاہے تو ملک میں حکومت گرا دے,  چاہے تو آگ لگا دے,  چاہے تو آندھیاں لے آۓ,  چاہے تو سیلاب لا کر جرائم کو ملیا میٹ کردے, اور چاہے تو ہر قسم کے جرائم میں اضافہ کردے,

اگر ذیشان مرحوم و مغفور کو شہید کر دیا جاتا ہے تو یہ حکومت کا ہی قصور نہیں بلکہ صحافی تنظیموں کا بھی ہے ایسی تمام تنظیمیں جو صحافت کے لیے کام کرتی ہیں ان سب کے منہ پہ زور دار تمانچہ مارا گیا ہے.

کہتے ہیں نا بندہ ڈھیٹ ہو, عزت آنی جانی چیز ہے,  ایسی صحافتی تنظیمیں بھی آج اس قتل میں باالواسطہ یا بلا واسطہ شامل ہیں کیونکہ انہی تنظیموں کے عہدے دار مک مکا کی پالیسی اپنا کر خاموش تماشائ بن جاتے ہیں یا مقتولین کے ورثاء کو بلیک میل کرکے حالات کا بھیانک چہرہ دکھا کر چپ سادھنے پہ مجبور کر دیتے ہیں, جس ملک کے لکھاری شادی بیاہ کی لزیز ڈشز کے اتار چڑھاؤ لکھنے میں ماہر ہوں وہ کسی شہید کو زندہ کیونکر ثابت کرسکیں گے, 

کیا صحافی اچھے عہدوں پہ نہیں بیٹھے ؟

کیا پارلیمنٹ میں صحافی نہیں بیٹھتے ؟

کیا بڑے بڑے سیاستدانوں,  وزیروں, مشیروں سے روابط نہیں ؟

آپ بخوبی اس بات سے آگاہ ہیں کہ یہ پہلا قتل نہیں

اور شاید آخری بھی نہیں

میں ابھی زینب قتل کیس کو دیکھ رہا تھا کہ اسے ہم نے چند دنوں میں کیسے فراموش کردیا اور اس جیسی کتنی معصوم بچیوں اور بچوں کی سسکیاں مجھے سونے نہیں دیتیں.

کلیجہ باہر نکلنے لگتا ہے,  سینے پہ دھڑکن بڑھ سی جاتی ہے خدا کی قسم

ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے,  آج ایک صحافی کو قتل نہیں کیا گیا,  بلکہ دنیا میں رہنے والے سب انسانوں کو قتل کیا گیا ہے,  ہم تو اپنے قلم سے امن کے دیے جلانے نکلے ہیں,  ہم سے کیوں حسد کرتا ہے ظالم, 

اے ظالم تیرے بھی بچوں کا بھلا چاہتے ہیں,  تیری ہدائیت چاہتے ہیں, ہم تو وہ قلمکار ہیں جو اپنے لہو سے ایک تاریخ رقم کرتے ہیں جس پہ آنے والی نسلوں کو ناز ہوتا ہے کرب ہوتا ہے

تم کیا چھوڑ جاؤ گے,  تمغہ غداری اور کیا,

اے مرحوم شہید

اے میرے بھائ

تو زندہ ہے

کیونکہ شہید زندہ ہوتا ہے اور جب اس کے جسم سے سانسیں نکلنے لگیں وہ اپنے رب کا دیدار کرتا ہے,  تو خوشنصیب ہے مجھے اور میری قوم کو تجھ پہ ناز ہے , ہمیں کوئ غم نہیں

جان دی دی ہوئ اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا,

بات کو طول کیا دینا

پورے ملک کے صحافی اور صحافتی تنظیموں کا قتل عام ہوا ہے, 

صحافت کی غیرت پہ سوالیہ نشان ہے ؟

میرے دوستو!

صحافت تو ایک ایسا شعبہ ہے جس نے نئ نسل کا ہاتھ پکڑ کر انگلی پکڑ کر ملک کی باگ ڈور ان کی ہاتھ میں دینا ہوتی ہے

وقت ہے کہ اپنے فرض کو سمجھا جاۓ ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آوے گا

موت تو آنی ہے کیوں نہ زندگی اپنوں کے نام کر جاویں,

ابھی سے قدم اٹھائیں,  اپنے حق کی خاطر,  اپنے چمن میں بہار لانے کی خاطر ایک اور قربانی تیار کریں, 

میں خود کا لہواپنے چمن کے ہر پھول پہ بہانے کا وعدہ کرتا ہوں

اللہ کرے مجھے بھی ایسی موت آۓ کہ حق پہ, خدمت خلق کرتا ہوا,  ظالم سے لڑتا ہوا مارا جاؤں,  مجھے کوئ خوف نہیں, مجھے کو ئ غم نہیں, 

کیونکہ میں زندہ ہوں,  زندہ رہونگا,  مجھے کوئ مار نہیں سکتا,  میں امر ہوچکا,  میں ذیشان ہوں,  ہر دل کی دھڑکن, 

صحافت کا معیار مجھ سے ہے,

میں باتونی نہیں,  جان دینے والوں میں سے ہوں,

......

اللہ تعالی ہم سب کو سیدھی راہ پہ قائم رکھے اور اسی راہ پہ موت دے اور کچھ نہیں چاہیئے, آمین


افکار و نظریات: شہیدِ صحافت ذیشان بٹ