ذات کیا ہوتی ہے!؟

تحریر: صدف اجمل

آج میں جس موضوع خاص  پر بات کرنے جا رہی ہوں اس بات کو میں نے خود بہت فیس کیا ہے اور اب تک میں اس بات کو فیس کررہی ہوں۔ میری آج کی بات ہمارے ہم سب کے فیملی بیک گراوئنڈ سے ہے اور ساتھ ہی ساتھ جس بھی کاسٹ سے ہم سب تعلق رکھتے ہیں اس سے ہے۔  میں اس بات پر بہت حیران ہوں کے طبقے تو انساں کی شناخت کے لے بنائے گئے تھےنہ کے اس لیے کہ آپ لوگوں کی پہچان ہی انکی کاسٹ اور رنگ و نسل سے کرو۔

 میں اس بات پر بات کرنے پر اس لے مجبور ہوئی کے پچھلے چند ایک سالوں سے میں جہاں بھی جاتی ہوں یا جس سے بھی ملاقات کرتی ہوں ان میں سے۹۰% لوگوں کا مجھ سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے آپ کی کاسٹ کیا ہے؟ اور دوسرا ان کی نظر میں اہم سوال آپ کے والد کیا کرتے ہیں؟ پہلے پہل تو میں اس بات کو ایگنور کر دیتی تھی پر جب مسلسل مجھ سے یہ سوال پوچھا جانے لگا اور خاص طور پر کہیں پر انٹرویو کے دوران یہ سوال پوچھا گیا آپ کی کاسٹ کیا ہے میرا سوال ان لوگوں سے ہے جو یہ پوچھتے نہیں تھکتے کہ  آخر ذات ہوتی کیا ہے۔

 اور دوسرا سوال پوچها چانے والا آپ کے والد کیا کرتے ہیں تو ایک کو میرا جواب تھا آپ نے نوکری میرے والد کو یا میری ذات کو دینی ہے یا میری قابلیت کو۔ میں آپ یا ہم میں سے کوئی کون ہوتا ہے کسی کی ذات پوچھنے والا یا یہ سوال کرنے والا کے آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں کسی کے والد چاول چهولے کی ریڑھی لگاتے ہوں پر عزت سے تو کماتے ہیں نہ ان حرام خور افسروں کے طرح نہیں ہیں جن کو محنت کی الف ب بھی نہیں پتہ نہ ہی حرام اور حلال میں امتیاز ہےان کو۔

کسی کا کام ہی کیا و ہ کسی کی ذات پوچھے ہم ہو تے ہی کوں ہیں جب میرے پیارے نبی نے آخری خطبہ حجتل وداع میں فرمایا کے کسی عربی کو عجمی پر کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر فوقیت نہیں۔ تو ہم کوں ہو تے ہیں اپنی ذات کو ودیا اور دوسروں کو گھٹیا کہنے والے۔ میں آج ان سب لوگوں سے کہتی ہوں میں کسی ذات پات سے تعلق نہیں رکھتی نہ ہی کسی بھی زبان سے میری زبان ، مذہب اور میری ذات سب انسانیت ہے اور رہے گی۔


افکار و نظریات: ذات کیا ہوتی ہے