قندوز ۔۔۔ حل کیا ہے!؟

محبوب اسلم

سنتے آئے تھے کہ مائیں، بہنیں اور بچے سب کے سانجھے ھوتے ھیں۔ قندوز میں افغانی اور امریکی طیاروں کی پھول جیسے بچوں پر بمباری ھمیں اسلام آباد کے اسکول میں ھونے والی درندگی کی یاد تازہ کروا گئی۔۔۔اس میں یمن، غوطہ، فلسطین اور کشمیر کے بچوں کو بھی شامل کر لیں تو پھر بتائیے کہاں ھمارے بچے محفوظ ھیں۔

یہ ظلم ھر آنے والے دن کیساتھ بڑھ رھا ھے۔ اور ھم صرف غم و غصے کا اظہار کر کے بیٹھ جاتے ھیں۔۔۔کیا یہ کافی ھے۔۔۔ حالات ھمیں اس قدر پیچیدہ اور پہاڑ جیسے بڑے نظر آتے ھیں کہ ایک آدمی غم و غصے کے اظہار کے علاوہ کر بھی کیاسکتا ھے۔ زیادہ کچھ کر لیا تو سڑک پر احتجاجی ریلی نکال لی یا پھر ایک جذباتی سا کالم لکھ دیا۔۔۔یہ سب درست ھے مگر یہ وہ کام نہیں ھیں جو ان مسائل کا حل ھیں۔

چلیئے پاکستان کی حد تک بات کر لیتے ھیں۔ کیا ھماری حکومت ھماری خواھش اور منشا کے مطابق پالیسیاں ترتیب دے رھی ھے۔۔۔بلکل نہیں۔ تو پھر اس ملک کے شہری کی حثیت سے ھمارا یہ فرض بنتاھے کہ ھم اس ملک میں ایسی حکومت کے نفاذ کیلئے کام کریں جو ھمارے احساسات اور جذبات کی نہ صرف آئینہ دار ھو بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اٹھائے۔۔۔مثلاً ھم شیعہ سنی باھمی میل جول اور امن پسندی سے رھنا چاھتے ھیں۔ ھم ایران اور سعودی عرب کو باھم دست وگریبان ھوتے نہیں دیکھنا چاھتے۔ ھم ملک میں اقلیتوں کو عزت اور تحفظ چاھتے ھیں۔ ملک کی دولت کو ملک کی عوام پر خرچ ھوتےھوۓ دیکھنا چاھتے ھیں۔ ھم غربت کا خاتمہ چاھتے ھیں۔۔۔یہ وہ مسائل ھیں جو ھم حل کرنا چاھتے ھیں اور ھمارے حکمران بشمول اپوزیشن پارٹیاں حل نہیں کرنا چاھتیں۔

تو اسکا حل صرف یہی ھے کہ جب تک ھم عوام اپنی مدد آپ کےتحت اپنے بیچ اچھے لوگوں کو سپورٹ نہیں کرتے جن کا کردار مضبوط ھے اور جو اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے ھم اسی طرح رو دھو کر اگلے سانحہ تک چپ ھو رھینگے۔

خدارا پاکستان کی عملی سیاست میں ایک نئے جوش اور جذبہ سے حصہ لیں اور نئے پلیت فارمز پیدا کریں۔ اس دقیانوسی ایلیکٹ ایبلز کی سیاست کو لات ماریں۔۔۔انھیں یکسر مستر کر دیں۔ تب جاکر آپ ایک مضبوط پاکستان بنا پائینگے جو اس طرح کے ظلم کو ھاتھ سے روک سکے۔

 

 


افکار و نظریات: قندوز ۔۔۔ حل کیا ہے