اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات جامعہ کراچی کی بد حالی تحریر: صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان 03219240110 تعلیم کے رحجان سے کسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مملکت خدادا د پاکستان میں تعلیم کا معیار دوہرا پایا جاتا ہے ، یہاں اشرافیہ کے بچے یا تو بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں یا پھر ایسے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے کہ جو بہت ہی زیادہ لگژری ہوتے ہیں کہ جہاں ایک عام اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری اپنے بچوں کو پڑھانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔اس کے بر عکس دوسرا نظام تعلیم یا طریقہ رائج یہ ہے کہ سرکاری سر پرستی میں چلنے والے تعلی ادارے اور درس گاہیں ہیں کہ جہاں بیٹھنے کو مناسب کرسی تک میسر نہیں ہوتی ۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی درسگاہوں کو آراستہ کیا گیا ہے لیکن کیا کیجئے کہ ان جدید تقاضوں کو پورا کرنے والی تعلیمی درسگاہوں کا نظم ونسق توآج بھی انہیں دقیانوسی ادوار کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے، یا شاید میں غلط کہہ گیا ہوں کیونکہ دقیانوس کے زمانے میں بھی تعلیمی درسگاہوں کے دوہرے معیار نہ تھے اور جو تعلیمی درسگاہیں ہوا کرتی تھی تو ان کا باقاعدہ نظم ونسق اچھے انداز سے چلایا جاتا تھا۔ لیکن آج ہم اپنے وطن میں موجود نہ تو یکساں تعلیمی نظام کو رائج کر پائے ہیں اور جب یہ کام ہم نہیں کر پائے ہیں تو پھر معاشرے میں دیگر بنیادی حقوق بالخصوص انصاف کی فراہمی بھی جاتی رہی ۔اور جب کسی معاشرے کے تعلیمی نظام میں ہی عدل و انصاف نہ ہو تو معاشرے کے افراد کو دیگر بنیادی حقوق کیسے حاصل ہو سکتے ہیں۔درا صل پاکستان میں تعلیم کے دوہرے معیار پر تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور اس کے نقصانات بتائے جا سکتے ہیں لیکن یہاں اس کالم میں در اصل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سب سے بڑی درسگاہ کی بد حالی کو بیان کرنا ہے کہ شاید ارباب اقتدار یا پھر دقیانوس کے زمانے کے حکمران جامعہ اس کا نوٹس لے لیں اور جامعہ کی بد حالی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی یونیورسٹی پاکستان کی بڑی تعلیمی درسگاہوں میں سر فہرست شمار کی جاتی ہے اور کراچی شہر کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ کراچی ہی کہلاتی ہے کہ جہاں لگ بھگ ایک وقت میں پچیس سے تیس ہزار طلباء و طالبات تدریس کے عمل سے گزرتے ہیں اور یہ سلسلہ ہر سال جاری رہتا ہے ۔اب آئیں ذرا کراچی کی سب سے بڑی درسگاہ کی کچھ معمولی نوعیت کی باتیں بیان کرتے ہیں اور فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے کہ کیا واقعی جامعہ کو ایسا ہونا چاہئیے ؟ یقیناًجامعہ کراچی میں بہت سی خوبیاں موجود ہیں لیکن یہ خوبیاں جامعہ کی بد حالی کو دور کرنے میں کسی طرح بھی اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہی ہیں۔ سب سے پہلے جامعہ کے نظم و نسق کی بات کی جائے تو یہاں کسی قسم کاکوئی نظم ونسق نہیں پایا جاتا ہے، یہاں کلاسوں میں موجود کرسیوں اور میزو ں پر مٹی کے ٹیلے جمے رہتے ہیں، یہاں کے تمام شعبہ جات میں تقریبا یکسر کیفیت موجود ہے۔ اسی طرح اگر جامعہ کراچی کے بات رومز کی کیفیت بیان کی جائے تو شاید پبلک باتھ روم جامعہ کراچی کے شعبہ جات کے باتھ رومز کی نسبت قدرے بہتر پائے جائیں گے، نظم و نسق کی ایک اور مثال اگر دیکھنا ہو تو ملازمین کا رویہ دیکھ لیجیے جو درا صل طلبہ و طالبات کی جانب سے جمعہ کرائے جانے والی فیسوں اور ٹیکسوں کی وجہ سے ہی برسرروزگار ہیں لیکن مشکل اوقات میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کرنے میں یہ عار سمجھتے ہیں۔ دفاتر میں نماز کے لئے اذان سے نصف گھنٹہ قبل اور نماز کے ایک گھنٹہ بعد حاضر ہوتے ہیں اور صبح کے اوقات کی تو بات ہی مت کیجئے کہ جامعہ کا وقت صبح نو بجے یا ۸ بجے شروع ہوتا ہے ، اکثریت کی صبح گیارہ بجے سے پہلے ہوتی ہی نہیں۔مزید اگر جامعہ کراچی کے زہر انتظام ہونے والے امتحانات کی حالت پر گفتگو کی جائے تو یہان ایم بی بی ایس سے لے کر ایل ایل بی، ایل ایل ایم، ایم اے، بی ایڈ اور ایم ایڈ سمیت بی اے بی کام وغیرہ کے امتحانات لئے جاتے ہیں ، حالانکہ یہ سب کی سب اہم ترین ڈگریاں ہیں لیکن کبھی ان امتحانات کے دوران کمرہ امتحانات کی صورت دیکھنا ہو تو یہاں بیٹھے طلباء کے لئے پنکھوں تک کی سہولت موجود نہیں ہوتے، درجنوں شعبہ جات میں اساتذہ اور اسٹاف کے کمروں میں ایئر کنڈیشنز بلا ضرورت استعمال ہوتے رہتے ہیں لیکن طلباء کے لئے امتحانی مراکز پر ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، میزیں اور سخت گرمی میں بغیر پنکھوں کے امتحان لیا جا تا ہے ، حالیہ دنوں ہونے والے امتحانات کے مراکز کا دورہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ مسکن کی طرف لگائے گئے شامیانوں میں کس طرح کی کرسیاں اور میزیں فراہم کی گئی ہیں اور آج کل پڑنے والی سخت ترین گرمی میں ان شامیانوں میں موجود بیٹھے کس قیامت خیز گرمی میں امتحان دے رہے ہوتے ہیں۔افسوس تو اس وقت اور زیادہ ہوتا ہے کہ جب جامعہ کی ان بدحالیوں پر کوئی طالب علم اٹھ کر شکایت کرے یا توجہ دلائے تو پھر اس کے ساتھ امتحانات میں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ایسی مثالیں قائم کی جا چکی ہیں،گزشتہ برس کرمنالوجی کے چیئر مین صاحب نے ایسا ہی کیا تھا جس کی شکایات متعدد طلباء نے کی تھی۔ بہر حال جامعہ کراچی میں نظم و نسق کے علاوہ تدریسی عمل میں بھی بڑی خامیاں موجود ہیں جن کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اسی طرح ایک اور اہم بات جو اس کالم کے ذریعہ بیان کرنے کا مقصد ہے وہ یہ ہے کہ جامعہ کراچی کہ جہاں پچیس سے تیس ہزار طلباء کہ جن کو آپ پڑھا لکھا انسان کہہ سکتے ہیں روزانہ کی بنیادوں پر آتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان ہزاروں طلباء میں شعور کی ایک پہلی کرن تک پیدا نہیں ہوپائی کیونکہ اگر آپ جامعہ کراچی کے اندر موجود کینٹین اور کیفے ٹیریا کے اطراف کے مناظر دیکھیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچر کنڈی کے ڈھیر پر گھوم رہے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہزاروں پڑھے لکھوں کو یہ تربیت نہیں دی گئی کہ کوئی چیز کھانے کے بعد اس کا کچرا یا فضلہ ڈسٹ بن میں ڈالا جاتا ہے یا کسی مخصوص جگہ پر جمع کیا جاتا ہے، اس عنوان سے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو بھی چاہئیے کہ ہوٹلوں اور کیفے ٹیریا کے اطراف میں ڈسٹ بن باکس لگائے جائیں اور طلباء کا فرض ہے کہ وہ جب کوئی لفافہ یا کاغذ استعمال کریں تو اسے مخصوص کچرا دان میں ہی ڈالیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کالم کا مقصد یہ ہے کہ جامعہ کراچی میں موجود جو بنیادی قسم کے مسائل ہیں ان کی نشاندہی کی جائے اور کوشش کی گئی ہے کہ چند ایک بنیادی مسائل کو بیان کیا گیا ہے، بڑے بوڑھوں کی کہاوت ہے کہ ’’کم کہے کو زیادہ جانو‘‘اب ضروری تو نہیں کہ کالم کے ذریعہ تمام تر مسائل کو بیان کیا جائے تو ہی نشاندہی ہو گی جامعہ کی انتظامیہ اچھی طرح سے تمام مسائل اور معاملا ت سے آگاہ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ’’Donkey Managment‘‘ سے نکل کر ایک اچھی اور پائیدار مثالی مینیجمنٹ قائم کی جائے تا کہ جو بھی بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں ان کا دیرینہ حل نکالا جائے، اور میری اس تحریرکا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔کیونکہ بذات خود ان چیدہ چیدہ مسائل کو دیکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی غیر ملکی کو اگر مجھے جامعہ کراچی کو دورہ کروانا پڑے تو شاید میں شرم کے مارے ڈوب مروں گا کیونکہ صورتحال کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ پس تعلیمی درسگاہوں کا تقدس باقی رہنا ضروری ہے، اساتذہ کا احترام معاشرے میں باقی رہنا بھی اہم ترین ضرورت ہے، لہذاٰ طلباء کو اپنی ذمہ داری انجام دینی ہے اور جامعہ کی انتظامیہ کو ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا ہو گا تا کہ مزید سنگین مسائل کو کالم اور مقالوں کے ذریعہ نشاندہی کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔جب تعلیمی درسگاہوں کا ماحول اچھا ہو گا تو یقیناًتدریس کا معیار بھی بلند ہو گا، اور ان درسگاہوں سے نکلنے والے مملکت خداداد پاکستان کا نام روشن کریں گے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: جامعہ کراچی کی بد حالی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں