اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات پاکستانیو! کب سوچو گئے! تحریر : عقیل احمد خان لودھی 70برس کا پاکستان آج تک کیوں خود مختار ، محفوظ، مستحکم ملک نہیں بن سکا۔ یہ بات کسی اور کے سوچنے کی نہیں اگر عوام اس بارے میں فکر نہیں رکھتے تو یقین جانئے 1ہزار70برس بھی گزر جائیں وطن عزیز میں ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ پاکستانیوں کو آج تک انصاف ، روزگار کے علاوہ صاف پانی ،علاج معالجہ،صحت عامہ جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان کس وجہ سے ہے ؟ عام آدمی کی اپنی نالائقیوں کی وجہ سے’ کہ جنہیں اپنے حقوق کی پہچان نہیں جنہیں یہ تک پتہ نہیں کہ آئین اور قانون کس بلا کا نام ہے وہ اپنے آئینی حقوق کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں ، 22 کروڑ پاکستانیوں میں سے18 کروڑ سے زائد تو ایسے ہیں جو صرف دن اور راتیں گزار کر وقت کاٹنے کو ہی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں باقی عوام بھی اسی طرح ہیں مگر کچھ حد تک اتنا شعور رکھتے ہوں گے کہ وہ انسان ہیں اور کسی باقاعدہ ریاست کے باشندے ہیں ریاست کے فرائض اور اپنے حقوق کے بارے میں قدرے سمجھ بوجھ رکھنے والے اس حد تک سمجھنے والے کہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں ، ناانصافیوں کی پہچان کرسکیں خواہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں یا نہ اٹھائیں مگر اتنا ضرور جانتے ہوں گے کہ کسی معاملہ میں ان کی حق تلفی ہوئی ہے تاہم مجموعی طوراگر دیکھا جائے تو کروڑوں پاکستانیوں نے خود کو چند خاندانوں کی رعیت سمجھ رکھا ہے اور ثواب سمجھ کر ان خاندانوں کی مدح سرائی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔ مذہب کے نام پر پیروں فقیروں کی غلامی میں اپنی عزتوں کے جنازے نکالے جاتے ہیں تو کہیں سیاسی پنڈتوں کی چوکھٹوں پر سر جھکائے انسانیت کی تذلیل کے مظاہرے عام ہیں۔ سات دہائیوں میں پاکستانی ایک قوم نہیں بن سکے بدقسمتی سے ہم اپنی نسلوں کی ذہن سازی اس انداز میں کررہے ہیں کہ وہ شعور کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل ہی اپنے پرکھوں کی پیروی میں غلامی کی تسبیح میں پروئے جاتے ہیں ، اچھے بھلے پڑھے لکھے خواتین وحضرات وکلائ، ججز اور دانشور حضرات چند خاندانوں کی تسبیح وتعریف کو باعث تسکین سمجھتے ہوئے کرپٹ ترین، غلیظ شخصیات کو قوم وملت کیلئے مفید قیاس کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کو جن کے ہاں خدا خوفی جیسے معاملات کچھ حیثیت نہیں رکھتے جو اپنے حسب نسب پر اس وجہ سے فخر کرتے ہیں کہ ان کے باپ دادا دوسروں پر حاکمیت کرتے رہے ماں جیسی ریاست سے کھلواڑکرکے اپنے لئے اثاثوں کے پہاڑ بنالئے ملکی خزانہ کو بظاہر ملکی ترقی کے استعمال کا دکھاوا مگر اندرون خانہ کمیشنوں اور مختلف منصوبہ جات میں غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے لوٹ مار کی اور کسی کی پکڑ میں بھی نہ آئے ، رشوت خوری ، نوکریاں فروخت کرنے کے علاوہ اپنے چہیتوں کو اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز کرواکے خود کو اس معاشرے میں ناقابل گرفت بنا لیا۔ ماورائے آئین اقدامات کے باوجود ریاستی اداروں کی پکڑ سے دور رہنے والے۔ ایسے افراد کو ہم کروڑوں پاکستانی (جن میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کی بھی ہے) اس قابل سمجھتے ہیں کہ یہی اقتدار میں رہنے کے شایان شان ہیں کوئی ایسا شخص اقتدار کے لئے ہماری سوچ کے قریب بھی نہیں پھٹکتا جس کے پاس اربوں کھربوں کے اثاثہ جات نہ ہوں جس کی افیکٹریاں، جاگیریں، اندرون، بیرون ملک کے بینکوں میں بھاری بھر کم اکائونٹس نہ ہوں۔ ہمیں اس وطن عزیز کے نظم ونسق کو چلانے کیلئے قابل بددیانت افراد کی ضرورت ہے جو کمال مہارت سے خزانہ سرکار کو چونا لگائیں ہمیں ایسے افراد کی ضرورت نہیں جو حرام خوری ، حق تلفی کوباعث گناہ سمجھیں ایسے افراد کا اقتدار میں آنے کا جواز ہی کیا ہے کہ جس کے پاس جھوٹ، بددیانتی، بے ایمانی جیسی دولت ہی نہ ہو۔ یہی ہماری سوچ ہے جس کے پیرائے میں چل کر ہم نے پاکستان کو ذلت، رسوائی،بدنامی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہمارے لیڈروں کی نیک نامی اور کامیابی کیلئے امریکہ برطانیہ کا سرٹیفائیڈ ہونا لازمی بنا دیا گیا ہے جس شخصیت پر ہمارے یہ نام نہاد دوست ممالک سرمایہ کاری کردیں اسے لیڈر تسلیم کرلینا ہمارے اپنے اوپر لازم کرنا پڑتا ہے۔ کون معصوم ہے کس کی قربانیاں تسلیم کی گئی ہیں اور کس کو قربان کیا جاناہے اس کے فیصلے ہم خود نہیں کرسکتے اس کیلئے بھی ہم اپنے لیڈروں اور ان کے گروئوں کے احکامات کو ماننے کے پابند ہیں۔ ہم کیا ہیں اور کیوں ہیں ؟ یہ جاننے کا حق ہمیں نہیں دیا گیا کہ ہم نے خود کو اپنے طور پر بھی انسان تک تسلیم نہیں کیا ہوا کیونکہ جس سطح پر عقل ودانش اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہمارے سیاسی لیڈروں کو عطا کی گئی ہے وہ ہم میں کہاں ؟ ہم نے عدالتوں کے فیصلوں پر پھانسی لگائے گئے مردوں کو زندہ رکھنا ہے اور ہر صورت رکھنا ہے۔ اگر ہم انہیں زندہ نہیں رکھیں گے تو ہم شاید عذاب الٰہی سے دوچار ہوجائیں گے یا کسی وبا کے ہاتھوں مارے جائیں گے ، ہم نے بے ایمانوں، جاہلیت کے علمبرداروں ، ملکی خزانے کھوکھلے کردینے والے ، ریاستی اداروں کو تباہ وبرباد کردینے والوں مگر اپنے ذاتی ناقابل تسخیرمحلات کھڑے کرنے والوں ، وسیع وعریض منافع بخش کاروباروں کو فروغ دینے والے لٹیروں ، بدمعاشوں کو شرافت کے پیکر ماننا ہے ورنہ ہم شاید زمین میں زندہ گاڑھ دیئے جائیں گے۔ یہ ہماری سوچ کے پہرے ہیں عقلوں پر حصار ہے۔ اپنی اپنی سوچ کے دائرے ہیں جن سے ہم باہر نکل کرسوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمیں اس ریاست سے علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں آسکیں ہم اپنے وطن کے ہسپتالوں میں اس لئے اپنے پیاروں کو لیکر جاتے ہیں کہ وہاں سے ان کے مرنے کے تصدیقی سرٹیفکیٹس لاسکیں، ہمارے تعلیمی ادارے ہمارے مستبقل کے زوال پرمہر تصدیق لگانے کیلئے ہیں ، ہمارے سرکاری ادارے ہماری نسلوں کو غلامی کا سبق سکھانے اور چند آقائوں کی پیروی کا پابند بنانے کیلئے ہیں۔ کیا ہیں ہم ؟ کیوں ہیں؟ یہ ہم نے کبھی نہیں سوچنا اور جب تک ہم نے اس بات کو نہیں سوچنا ہم نے ذلیل وخوار ہوتے رہنا ہے۔ ہم نے اپنی نسلوں کی ذلالت ، چند خاندانوں کی غلامی کاٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ ہم نام نہاد جمہوری سسٹم کو کبھی چند خاندانوں کیلئے بدمعاشی کا لائسنس نہیں سمجھیں گے ۔اس اشرافیائی جمہوریت کو کہ جس نے ہمارے تھر کے لوگوں کو تو صاف پانی کی فراہمی کا کبھی بندوبست نہیں کیا الٹا اسی اشرافیائی مخلوق کے ذاتی بزنس ، فیکٹریوں سے نکلنے والی کثافت نے ہمارے ماحول کو تباہ کردیا ہے۔ سیوریج کا مناسب بندوبست نہ ہونے اور نکاسی کے سسٹم کو کنویں بنا کر نیچے سما دینے سے زیر زمین پانی آلودہ ہو کر ہماری رگوں میں اترنے سے جواب دے رہا ہے مگر کہیں کسی بھی جگہ کوئی ادارہ بااثر افراد کیخلاف کاروائی نہیں کرسکتا۔ کیسے کرے ؟ کہ ان اداروں میں بیٹھے ہمارے لیڈروں کے چہیتے ہیں یا ان کے مرہون منت ہیں ۔ اگر ہم نے اپنی حیثیت کو منوانا ہے بحثیت انسان اس معاشرے میں کوئی پہچان بنانی ہے تو خدارا ہمیں سوچنا ہوگا۔ ہمیںاپنے بچوں کے مستقبل کیلئے سوچنا ہوگا ہمیں اپنی نسلوں کو چند خاندانوں کی غلامی سے نجات دلانا ہوگی۔ اپنے یرغمالی اداروں کو حقیقت میں عوام دوست اداروں میں تبدیل کرنا ہوگا،سوچیں ۔۔! کیا ہمیں اپنے ملکی اداروں سے وہ سہولیات میسر ہیں جن کی فراہمی مہذب ریاستیں یقینی بناتی ہیں؟ ہرگز نہیں!۔ ہمارے ہسپتالوں سے ہمیں علاج معالجہ ،سکون کی بجائے مزید بیماریاں ،اذیتیں ملتی ہیں مریضوں اور لواحقین کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے۔ ملکی اداروں سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ہمارے اپنے ہی ادارے تسلیم نہیں کرتے جبکہ فارن ڈگریوں کی حامل حکمرانوں اور دیگر چند فیصد خاندانوں کی اولادوں کو بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں سے جاری کردہ ڈگریوں پر بغیر کسی عذر اعتراض کے قبول کیا جاتا ہے اور انہیں لاء اینڈ آرڈرکیلئے مختص اداروں میں بطور آفیسر بھرتی کرکے ہر طرح کے انتظامی معاملات اور ملکی وسائل پر براجمان کردیا جاتا ہے۔ جمہوریت جمہوریت کے راگ الاپنے والے ہر طرح سے اقتدار پر قابض ہیں ۔مگر ہمارے لوگ اس قدر سادے ہیں کہ انہیں اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا بھی نہیں آتی ان کے سامنے حکمران اور ان کے خاندان ملکی اداروں سے علاج کروانا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ سوچو! اپنے لئے خود ہی مل بیٹھ کر طے کر لی جانے والی مراعات پر سرکاری خزانہ سے لاکھوں کروڑوں خرچ کرکے بیرون ممالک سے علاج کروانے والے اپنے عوام کے خیر خواہ کس طرح ہوں گے ؟انہیں کیا کوئی ان کی بلا سے مرے یا جئے ۔ مگر یہ عوام سوچ لیں ایکا کرلیں اپنے حقوق کیلئے ، یکجان ہوں ایک آواز ہوں ان حکمرانوں کی عیاشیوں، اللے تللوں کے خلاف ۔ہر سطح پر ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اس بات کا مطالبہ ہو کہ حکمرانوں اور ان کے خاندان کے کسی فرد کو بیرون ملک علاج معالجہ کی اجازت ہر گز نہیں ہوگی جس طرح عام افراد اپنے ملک کے ہسپتالوں میں لائنوں میں ،ایک ایک بستر پر دو دو چار چار مریض ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کیساتھ یکساں سلوک ہو۔بیرون ممالک علاج کیلئے گئے ہوئوں کو وطن عزیز میں لاکر یہاں کے ہسپتالوں میں داخل کروایا جائے ۔بیرون ممالک تعلیم پر پابندی لگا دی جائے سبھی افراد ملکی اداروں سے ایک جیسی تعلیم حاصل کریں فوری طور پر بیرون ممالک سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ملکی سیاست اور انتظامی محکموں میں تعیناتی پرپابندی لگائی جائے کہ اشرافیہ کی اولادوں کے پیش نظر مشن حاکمیت کے رحجان کو پروان نہ چڑھایا جاسکے ۔ وزیروں، مشیروں کو محکمہ کے اندرونی امور میں دخل اندازی کی اجازت نہ دی جائے کہاں محکموں کے سربراہان کیلئے پی ایچ ڈی، ایم فل ، ماسٹر ڈگری حامل ہونا تو لازمی ہوتا ہے مگر عوامی ہجوم کے ووٹوں سے منتخب ہو کر بعد میں وزارتیں بانٹنے والے میٹرک پاس بھی نہ ہوں اور ملکی اداروں پر اپنی نالائقی کے ڈھونگ رچاتے رہیں۔بیرون ممالک سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو خدمت خلق کے شعبوں،تعلیم ، صحت ،ڈاکخانہ جات اور دیگر ایسے محکموں میں تعیناتی کیلئے مختص کیا جائے۔ قوانین کے نفاذ کیلئے ہر طرح کے استثنٰی کو ختم کرکے سبھی قانون شکن افراد کیساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔غیر ممالک میں کاروبار رکھنے والوں کیلئے ملکی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے کسی ایک خاندان کے ایک سے زائد فرد کو ملکی سیاست میں حصہ نہ لینے دیا جائے۔ نااہل سیاستدانوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے عدالتی فیصلوں کا احترام کیا جائے کہ انہی عدالتوں کے فیصلوں کو عام لوگ من وعن تسلیم کرتے ہیں ۔اپنی افواج کا احترام کیا جائے۔ایسا ہوگا تو یقینا اس سے ملک کے حالات بہتری کی جانب آئیں گے۔ ورنہ یہ بات یاد رکھیں۔۔۔ بقول بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان ” خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کوخیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔۔۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: پاکستانیو, کب سوچو گئے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں