آئینہ  انتخابات

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

انتخابات قریب ہیں ،شائد کچھ ووٹ دینے بھی جایں لیکن کچھ ایسے بھی ھونگے ،جن کے لیے چھٹی کا دن ھو گا ،شائد کچھ دوستوں ،رشتے داروں کے لیے دعوت کا اہتمام بھی کریں ۔سب اکھٹے ھونگے اور سب ملُکر سیاست دانوں کو برا بھی کہیں گے ،شائد کچھ اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایں گے اور کچھ ایسے بھی ھونگے جو اچھے لیڈر کا انتظار کا کہنے کا کہیں گے اور کچھ ایسے بھی ھونگے جو امت کے اعمال کا رونا بھی رویں گے ،شائد کچھ سپر طاقتوں کی سازشوں کا زکر کریں گے لیکن اگر کچھ نہیں کریں گے تو اپنے اپنے گریبانوں میں نہیں جھانکیں گے ۔

ھم سے کتنے ایسے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کے آخر جو ایک ھزار کے لگ بھگ ممبر اسمبلی جو بنیں گے ،وہ کیسے بنیں گے ،کیا آسمان سے اتریں گے ،وہ کہاں سے انتخابات کے خرچے پورے کریں گے ۔

ہاں اگر ایک ادھ آیت کہیں سے نازل ھو جائے یا پھر کوئی حدیث ڈھونڈ کے لے اتے کےان  امیدواروں کی مدد کرنے سے جنت ملے گی تو شائد پھر کچھ بندوبست ھو جاتا ۔

کیا اسمبلی کے ممبران ہی پاکستان کے ٹھیکے دار ہیں یا انکو اس ملک کی فکر کرنے کی سزا دینی ھے ۔

سیاسی جماعتوں نے ٹکٹ دینے کی بھاری بھرکم فیس رکھی ھے ،انکے اپنے مسلے ہیں ،انکو بھی اخراجات کے لیے فنڈ چائیے تو یہ ھی ایک موقع ھوتا ھے کے وہ دوچار پیسے بنا لیتے ہیں لیکن ھمیں حیرت  ان پہ ھوتی ھے جو اپنی شادیوں پہ لاکھوں لگاتے ہیں ،نئی سے نئی گاڑی خریدنے کا سوچتے ہیں ،زرا بچے کانمنہ بنے تو میگڈولنڈ یاد آ جاتا ھے ،ماں کی جھریاں دیکھیں تو حج کی درخواست کی فکر لگ جاتی ھے ،باپ کی کمر جھکے تو وائٹا من یاد آ جاتے ہیں ،بیوی کا موڈ آف ھو تو سینما یاد آ جاتا ھے لیکن اگر کچھ یاد نہیں آئے گا تو یہ کے ریاست کو چلانے والے کس حال میں ھونگے ،پھر کہتے ھو کے ھم پہ چور مسلط ھو گئے لیکن تم نے خود کسے قدر چاھا کے تمارے حکمران اچھے لوگ ائیں اور کیا وہ درختوں پہ اگیں گے یا تمارے گھر کے گملوں میں کھلیں گے ۔

 

اس وقت تم اپنی بغلیں جھانکنے لگتے ھو جب تمیں تمارے فرائض یاد دلائے جاتے ہیں اور کیا ھر سیاست دان چور ھوتا ھے تو پھر تم خود کیوں نہیں ریاست کا نظام سنبھالنے کی بات کرتے ھو کیوں کے یہ مشکل ھے اور تم تو اپنے بچوں اور اپنی بیویوں کے ساتھ زندگی کا لطف اٹھانا چاہتے ھو اور جب کوئی اچھا انسان سیاست کا رخ کرتا ھے تو پہلے تو

اسے ڈراتے ھو کے یہ تمارے بس کا کام نہیں اور کہتے ھو کے دولت مندوں کا مقابلہ کیسے کرو گے اور اگر وہ مقابلے کی ٹھان لے تو تم اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ھو اور پھر اپنے گھروں میں بیٹھ کر یا کاغذ پہ کالی سیاہی کے دریا بہا کر اپنی اور اپنے آنے والی نسلوں کا رونا روتے ھو ۔

جب اچھے لوگ اور دیانت دار تم سے مدد مانگتے ہیں تو تمُ بہانے  تراشتے ھو کے ھمُنے دھوکے کھائے تو ھم تمیں یاد دلاتے ہیں کے جب تمھاری اولادوں میں سے کوئی نہ حلف ھو جائے تو کیا تم اور و اولادوں سے پیار کرنا چھوڑ دیتے ھو اور تمیھں تماری بیویاں چھوڑ جائیں تو کیا تم پھر سےشادیاں  نہیں کرتے اور جب تمارے کاروبار میں نقصان ھو جائے تو کیا تم کاروبار چھوڑ دیتے ھو ،ھر گز نہیں کیونکے وہاں تمہارا نفع ھی نفع ھے ۔

 بخدا اس آسمان نے تم سے بڑھ کر کوئی منافق ،بزدل اور خود غرض نہیں دیکھا لیکن ھم نے بھی ٹھان لی ھے کے تمیں تمہارا مکروہ چہرہ ا ور تماری پست سوچ دکھا کے رہیں گے ۔


افکار و نظریات: آئینہ انتخابات