شکر کرنے والے کچھ بد بخت

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

تمُ شکر ادا کرتے ھو ،اس لیے کے تم شاہانہ زندگی گزارتے ھو اور تم لاکھوں کے حج کرتے ھو اور تم مہنگے سے مہنگے شادی ھالوں میں اپنے احباب کو کھانے کھلاتے ھو اور اپنی اولادوں کو مہنگے اسکولوں میں پڑھاتے ھو اور تم شکر ادا کرتے ھو مخملیں جائے نمازوں پر کے تم  مرغ پلاؤ سے شیکم سیر ھوئے اور جبکہ سورج سوا نیزے پہ ھوتا ھے تو تم شکر ادا کرتے ھو کے یخ بستہ خواب گاہ میں سوتے ھو ۔

بیشک تم سے بڑھ کر بد بخت بھلا اور کون ھو سکتا ھے ،جس کی آنکھوں پہ پٹیاں بندھی ہیں اور جس کے دلوں پہ مہر لگی ھے ،کیا تم جانتے نہیں کے جہاں تم سے کئی گنا بھوکے سوتے ہیں اور کئی گنا تپتی دوپہر وں اور جلتی راتوں میں سوتے ہیں اور کیا تم جانتے نہیں کے تم سے کئی گنا ابلتے ھوئے پانی سے اپنی پیاس بجا تے ہیں تو تم تو پھر آزمائش میں ھو ،تم سے تو پوچھا جائے گا کے تم کس بات کا شکر ادا کرتے تھے جب مخلوق خدا اس عذاب میں تھی تو تم نے انکا کیا سوچا اور تم میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو تم نے پایا اور وہ نہ پا سکے ،تم نے ایسے کون سے پہاڑ تراشے اور کونسے خزانے ڈھونڈ لائے کے تم اس قدر خوشحال ھو گئے اور تم خیرات کرتے ھو اور ذکوۂ دیتے ھو اور شکر ادا کرتے ھو لیکن یہ جانے بغیر کے اس مال کے مالک کیسے بنے اور کتنوں کی حق تلفی سے دولت مند ھوئے اور کس قدر ریاست کے مجرم ٹھرے بیشک تم اندھے اور بہرے ھو اور خوش فہمی میں مبتلا ھو ۔

جب ریاستی اشرافیہ کا ظلم بڑھا تو تم اپنے گھروں میں اپنی اولادوں اور بیویوں کے ساتھ خوش گپیوں میں تھے اور دوست احباب کے ساتھ ہنسی ٹھٹے مارتے تھے اور جب مخلوق خدا تڑپتی تھی اور بلبلاتی تھی تو تم اپنے فرائض ادا کرنے کی بجائے اپنے رب کا شکر ادا کرتے تھے ،اس لیے کے تم ریاستی دہشت گردی سے محفوظ ھو اور تم بھوکے سوتے نہیں اور تماری اولادوں کی آنکھوں میں حسرت نہیں اور انکے خوابوں کا سودا نہیں ھوا تو تم میں ایسے کیا گن ہیں جو تم سے کئی گنا بڑی خلق خدا میں نہیں اور اور وہ بھوک ،افلاس اور جاہلیت کا شکار ھے اور تم شکر ادا کرتے ھو ،افسوس صد افسوس،افسوس ھے تماری مردہ ضمیری پہ ،افسوس ھے تماری بے عقلی پہ ۔او بد بخت تو جس رب کا شکر ادا کرتا ھے وہ تجھ سے اس آزمائش کا حساب مانگے گا کے جب میری مخلوق سسک سسک کر جی رہی تھی تو تو تو خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھااور تو سمجتھا تھا کے میں تجھ پہ بڑا مہربان ھوں،کیا تو نے سوچا نہیں کے تجھ میں ایسی کیا بات ھے کے جو اوروں میں نہیں ،کیونکے تیری آنکھوں پہ پٹیاں بندھی تھیں اور تیرے دلوں پہ مہر تھی ،تجھے دوسروں کے غم تو دکھائی دیتے تھے اور تو اس کی بجائے کے انکے دکھوں کو دور کرتا ،تو میرا چکر ادا کرتا تھا کے میں نے تجھے وہ غم نہیں دیے ،تو تو نے سوچا نہیں کے میں نے انھیں یہ غم اور تکلیفیں کیوں دیں اور تجھے نہیں دیں ،کیا میں تجھے اس قدر بے انصاف کرنے والا دکھای دیا ،او بد بخت ،انکے غم بھی تیری وجہ سے تھے اور انکی تکلیفیں بھی تجھ سے ھی تھیں ،تو نے انکا مال کھایا اور مال کھانے والوں کا ساتھ دیا ورنہ تم میں ایسے کونسے سرخاب کے پر تھے جو تو سمجھتا ھے کے میں تجھ پہ مہربان ھوا ۔

اب آ ،تجھ سے اپنی مخلوق پہ ھونے والے ظلم کا حساب لوں ،تجھ سے تیری خاموشی کا حساب لوں اور تجھے ایسے عذاب میں ڈالوں کے تو عبرت کا نشان بن جائے ۔

   بے شکر ،شکر تو انکا سچا ھے جو تیرا ظلم سہتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے ،جب تو اپنے نوکروں کو دھتکار تا ھے ،پھر انھیں اپنے پرانے کپڑے دیتا ھے اور فقیر کو خیرات میں دس روپے دیتا ھے اور تو سمجتھا ھے کے میرا رب حوش ھوا ،کیا تیرا رب تجھ سے نہیں پوچھے گا کے یہ کیسی ریاست ھے کے تو مزے میں ھے اور تیرے ھی جیسے دوسرے عذاب  میں ہیں ،خدا کی قسم ھر اس شکم سیر سے پوچھے گا ،جو راتوں کو سکون سے سویا اور مخلوق  خدا بھوکی سوئی ۔

پس تم سے تماری شکر  گزاری کی بھی پر سش ھو گی کہ تم کس بات کا شکر ادا کرتے تھے  ،او بد بخت ۔


افکار و نظریات: شکر کرنے والے کچھ بد بخت