آمری کا قبرستان ـــ پران کنارے تاریخ کے کچھ اوراق*

 *تحریر فرحان منہاج ــ*

سندھ دھرتی اور بالخصوص میرپورخاص ضلع تاریخی حوالے سے ایک اہمیت کا حامل ہے. تحصیل ڈگری کے ٹاؤن ٹنڈوجان محمد کے ساتھ پران  کے کنارے  ہزاروں سال پرانا آمری کا قبرستان واقع ہے.

پران کا مطلب پرانا ہے یہ علاقہ پہلے دریا کی گزر گاہ تھا اور کہا جاتا ہے کلہوڑوں کے دور میں دریا کا رخ موڑ دیا گیا جس کے بعد یہ گزرگاہ خشک ہوگئی ـ

اس مقام کو آمری کہنے کے حوالے سے کہاوت مشہور ہے کہ یہاں بہاؤ الدین ذکریا نے املی ( آمری) کا درخت لگایا تھا جس کی وجہ سے اس مقام کو آمری کہا جاتا ہے ـ

 آمری کے قبرستان کے حوالے سے بہت سی کہاوتیں  مشہور ہیں   یہ سندھ کا قدیم ترین قبرستان ہے اس قبرستان میں 12 فٹ لمبی قبریں بھی پائی جاتی ہیں جبکہ ایک کہاوت کے مطابق سلطان محمود غزنوی سومناتھ کی فتح کے بعد اس علاقے سے گزرا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا.  پڑاؤ کے وقت اس کے لشکر میں وباء پھیل گئی کس کی وجہ سے بہت اموات ہوئیں جن کی قبریں بھی اسی قبرستان میں پائی جاتی ہیں جبکہ یہاں مشہور تھا کہ محمود غزنوی کا سونا بھی یہاں دفن ہے جس کی کھوج کے لیے جگہ جگہ قبریں بھی کھودی ہوئی ملتیں ہیں مگر یہاں سے کسی کو کچھ نصیب نہیں ہوا.  اس ہی قبرستان میں قبروں پر کچھ تحریریں بھی ہیں جن کو آج تک پڑھا نہیں جاسکا.

ایک کہاوت کے مطابق اس مقام میں سات درویشوں کی بھی قبریں ہیں انکو ” مامویا فقیر کہا جاتا ہے جن کے بارے میں مشہور ہے یہ فقیر ٹھٹھہ میں ہوا کرتے تھے وہاں ٹھٹھہ کے حاکم نے ان کے سر قلم کردیے اس کے بعد ان درویشوں سے ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ یہ درویش اپنے سر میں تھامے ہوا میں اڑتے ہوئے اس علاقے کے اوپر سے گزرے تو پران کے قریب ایک عورت کپڑے دھو رہی تھی تو اس کے بچہ اسکے ساتھ تھا اس نے دیکھا اور اپنی ماں سے سندھی میں کہا کہ  ماں مویا  پیا وجن اس سے مامویا انکا نام پڑ گیا ـ  ان فقیروں کے حوالے سے ملتا ہے کہ یہ پیشن گوئی کرتے تھے اور اشعار کہا کرتے تھے ان درویشوں کے سندھی میں چند  اشعار بھی کتابوں میں ملتے ہیں ان اشعار میں کچھ راجہ داہر کے زمانے کے ہیں اور کچھ کلہوڑوں کے زمانے کے ان دونوں زمانوں میں بہت فرق ہے تو اسی بنا پر ان کے حوالے مشہور ہے کہ.یہ.پیشن گوئی کرتے تھے ـ

اسی مقام پر آمری کے درخت کے حوالے سے کہاوت مشہور ہے کہ ایک جادوگر نے آکر اس درخت میں اسکی شاخوں کی وجہ سے ایک سوراخ بن گیا تھا  جس کے حوالے سے اس جادوگر نے  مشہور کردیا جو اس سوراخ سے نکلے کا وہ حلالی اور نہ.نکل سکا تو وہ حرامی ہوگا.  یہ بات مشہور ہوگئی اور لوگ دور دراز سے آنے لگے یہ بات اس علاقے والوں کو پسند نہ آئی تو انہوں نے مشہور عالم محمد ہاشم ٹھٹھوی سے عرض کی تو آپ نے اس علاقے کے مشہور عالم دین عبدالرحیم گرھوڑی   رح سے اس معاملے کے سدباب کے لیے کہا  تو آپ اس علاقے میں پہنچے جب عبدالرحیم گرھوڑی نے اس درخت کے ایک تنے کو کاٹا تو اس میں سے سانپ نکلا آپ نے اس سانپ کو مارا اور جب دوسرے تنے کو کاٹا تو اس میں سے بھی سانپ نکلا جسے آپ نے مارا آج بھی اس جگہ کو گرھوڑی کی جگہ کہتے ہیں ـ   

اس مقام.کے حوالے سے کہا جاتا ہے اس مقام پر شاہ لطیف رح نے بھی قیام کیا ہے.  اسی مقام پر بہاؤالدین زکریا بھی آتے رہے ہیں  اور انہوں نے چھلہ کاٹا ہے.  پران کا یہ کنارہ بزرگوں اور قافلوں کی گزر گاہ رہا ہے.  اس مقام نے ہزاروں ولیوں فاتحین اور اللہ کے نیک بندوں کی قدم بوسی کا شرف بھی حاصل کیا ہے. 

اسی مقام.کے حوالے سے مشہور ہے کہ ایک مشہور سخی لالو کلائی جب مھر رانی سے شادی کرکے واپس جارہا تھا تو اسکا گزر اس علاقے سے ہوا تو پوری برات کے کپڑے گیلے ہوگئے.  لالو کلائی نے پوری برات کے کپڑے تبدیل کروائے اور گیلے کپڑے درختوں پر ٹانگ دیے یہ کپڑے قیمتی تھے اور کئی کپڑوں پر ہیرے بھی جڑے ہوئے تھے جیسے ہی کپڑے خشک ہوئے تو لالو کلائی نے کپڑے درختوں سے واپس اتارنے سے منع کردیا اور کہا میں جو چیز جس کو پہنا دوں وہ اترواتا نہیں ہوں شاہ لطیف نے اس واقعے کا ذکر اپنی شاعری میں بھی کیا ہے.  لالو کلائی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سندھ کا پہلا ڈاکو تھا جو ظالموں سے لوٹ مار کرکے غریبوں میں تقسیم کرتا تھا اور بہت سخی تھا. 

اس ہی مقام کے حوالے سے کئی حوالوں سے ملتا ہے کہ شہزادہ سیف الملوک جس کے نام سے   جھیل سیف الملوک مشہور ہے اسکا گزر بھی ہوا ہے. اور سندھی ادیب و مورخ زاہد کمہار کا دعوٰی ہے کہ سیف الملوک اور اسکی بیوی بدیع الزمان کی قبر بھی اسی مقام سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے.

یہ  معلومات میں مجھے  ٹنڈو جان محمد سے دو سندھی ادیب مورخ اور شاعر جناب محمد زاہد کمہار اور سید منظور شاہ.لکیاری نے  دی اس علاقے کی تاریخ کے حوالے سے فقیر بشیر خان لغاری مرحوم ایک مستند نام تھے جو ہم میں موجود نہیں اس عظیم نام کو اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اور معلومات اکھٹی کرتے ہوئے ہم نے بہت یاد کیا.  واقعی بزرگ اور اہل علم کسی بھی علاقے کے لیے قیمتی سرمایہ.ہوتے ہیں جو بچھڑ جائیں تو ان کی قدروقیمت کا اندازہ ہوتا ہے ـ

 میرے ساتھ جو اس مقام تک گئے میرے ساتھی آغاروزامان مرغزانی،  وسیم قریشی اور ایڈوکیٹ ساجد قائمخانی تھے.


افکار و نظریات: آمری کا قبرستان