اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات سونڈا: صدیوں کی داستانیں کہتا قبرستان ابوبکر شیخ جب ہم گزرے وقت کا ذکر کرتے ہیں تو ہم پر ایک عجیب سی کیفیت کی چادر تن جاتی ہے، اور ماضی کا تصور جتنا قدیم ہوتا جاتا ہے ایک دھند چھانے لگتی ہے۔ اس دھند میں ایک سحر پوشیدہ ہوتا ہے جو آپ کو ماضی کے ان دنوں میں لے جاتا ہے، جو ہم نے کبھی نہیں دیکھے، بس کتابوں کے اوراق پر جمے الفاظ ہمیں سناتے ہیں اور ہم ذہن میں ان دنوں کو بننے لگ پڑتے ہیں۔ تھوڑا تصور کریں جب رچرڈ برٹن سخت سردیوں کے موسم میں اس علاقے "سونڈا" سے گزرا تھا، تب شب و روز کیسے ہوں گے؟ وہ تحریر کرتا ہے کہ: "ہم صبح سے تین بار راستہ بھول چکے ہیں۔ سخت سردی ہے اور ہم پہاڑیوں سے اترتے ہیں تو زرخیز زمین آجاتی ہے۔ چار سو خاموشی ہے اور بس مختلف پرندوں کی بولیاں سن رہے ہیں۔کہیں کہیں گندم کے کھیت بھی نظر آتے ہیں۔"لیکن اب اس علاقے میں کوئی خاموشی نہیں ہے۔ راستے ہیں کہ آتی جاتی گاڑیوں کے شور سے بھرے پڑے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ 'تحفتہ الکرام' کے مصنف کی بات میں کتنی صداقت ہے کہ اس شہر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس خطے میں ایک کامل بزرگ رہتے تھے جو 'سر سونڈر' کے راگ کو بے حد پسند کرتے تھے اور خوش ہوکر حاجت مندوں کی مرادیں پوری کیا کرتے تھے۔ چنانچہ عام لوگوں کی زبان پر یہ خطہ اسی راگ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ جب جام تماچی نے اس شہر کی بنیاد رکھی تو اس نے بھی اس کا یہ ہی نام رکھا۔ سونڈہ کا تاریخی قبرستان. قبرستان اب زبوں حالی کا شکار ہے. طغی، جو ایک موچی اور غلام تھا، ترقی کرتا اچھے عہدوں پر پہنچ گیا۔ اور جب اسے ذمہ داری دے کر 1347 میں گجرات بھیجا گیا تو اس نے وہاں قتلغ خان سے مل کر اپنے محسن محمد تغلق سے بغاوت کر دی، مگر 'کاڈی' کی جنگ ہار کر 'کچھ' کی طرف بھاگ گیا، جہاں 'سمہ جاڑیجوں' کا راج تھا اور ان کے سندھ کے سومروں اور سموں سے اچھے تعلقات تھے، جس کی وجہ سے طغی کو ٹھٹھہ پہنچانے کے لیے کچھ کے 'جاڑیجوں' نے مدد کی۔ محمد تغلق طغی کو سبق سکھانے اور ٹھٹھہ پر حملہ کرنے کے جنون میں سونڈا آکر پہنچا۔ بارشوں کا موسم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مچھلی کھانے کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو گئی اور 20 مارچ 1350 میں اس کا انتقال ہوگیا، جس کے ساتھ ہی سومرا سرداروں کا زمانہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔ ہر دور کی اپنی خوبصورتیاں اور بدصورتیاں ہوتی ہیں، کچھ زمانوں کی جھولیوں میں مثبت عملوں کے پھول زیادہ ہوتے ہیں اور کچھ زمانوں کی جھولیوں میں کانٹے بہت ہوتے ہیں۔ ہم اگر تعمیر کے حوالے سے ایک سرسری جائزہ لیں تو موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے لے کر بارہویں صدی کی آخر تک فن تعمیر کی تقریباً پانچ ہزار برس کی شاندار تاریخ موجود ہے۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ آریوں کے آنے کے بعد فنِ تعمیر ایک جمود کا شکار ہوئی اس کے اسباب یہ تھے کہ آریہ مقامی لوگوں سے زیادہ تیز مزاج، مسلح اور جھگڑالو تھے۔ تیرہ سو سے پانچ سو قبلِ مسیح تک مٹی سے بنی اینٹوں اور لکڑیوں سے عمارتیں تعمیر ہوتی رہیں، گھر اور عبادت گاہیں بنتی رہیں، مگر اب ان کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ اشوک کے زمانے میں فن تعمیر کو ایک نیا راستہ ملا۔ پہلے جو عمارت سازی تھی، وہ سادہ تھی مگر اس زمانے میں باریک اور نفیس پھول اور بوٹوں کی سنگ تراشی کا فن اپنے کمال کو پہنچا۔ ڈاکٹر احمد حسن دانی لکھتے ہیں: "سندھ، ہندوستان کا وہ حصہ رہی جہاں انسانی تہذیب نے سب سے پہلے آنکھ کھولی، جیسا کہ سندھ میں بدھ مت، جین مت اور برہمنوں کے اثرات موجود تھے، اس لیے ان سب کا اثر اسلامی فن تعمیر پر بھی ہوا۔ اگر ہم مسجدوں کی تعمیر کو دیکھیں تو ترکی، ایران، مصر اور ہند کی تعمیر کا اثر ہمیں نظر آئے گا۔'' ٹھٹھہ سے حیدرآباد جانے والے راستے پر 35 کلومیٹر کا سفر کر کے میں اس پہاڑی پر پہنچا جس کے جنوب میں سونڈا کا چھوٹا سا شہر اور پہاڑی کے مغرب میں سونڈا کے نام سے پکارے جانے والا وہ وسیع قبرستان پھیلا ہوا تھا۔ ہزاروں قبریں ہیں جو پیلے رنگ میں ایک جیسی نظر آتی ہیں۔ تیز دھوپ ہو، بارشیں ہوں یا ٹھنڈی چاندنی کی راتیں یہ قبریں صدیوں سے آنکھیں موندے یہیں پڑی ہیں۔ اور ان قبروں پر سنگ تراشی کا نازک و نفیس اپنی خوبصورتی اور نزاکت میں لاجواب ہے۔ قبروں پر پیلے پتھر کی سلوں پر جنگ کے مناظر کندہ ہیں۔ جنگ میں مارے جانے والوں کی قبروں کی نشاندہی کے لیے پتھروں کے ستون گاڑے گئے ہیں. ایک قبر پر جنگ کا منظر کندہ کیا گیا ہے. ایک قبر پر جنگ کا منظر کندہ کیا گیا ہے. قبرستان کی زیادہ تر قبریں زبوں حالی کا شکار ہیں. قبرستان کی زیادہ تر قبریں زبوں حالی کا شکار ہیں. ہر قبر اپنی کہانی خود سناتی ہے، بس آپ کے پاس دل سے سننے والے کان اور آنکھیں ہونی چاہیئں جو صدیوں کے آرپار دیکھ سکیں۔ قبر کی سنگ تراشی آپ کو بتا دے گی کہ یہ قبر کسی سردار کی ہے، کسی عورت کی ہے یا کسی جنگجو کی۔ ڈاکٹر غلام علی الانا اس سلسلے میں تحریر کرتے ہیں کہ "قبرستان میں پتھر کی بنی ہوئی کچھ قبروں کے دائیں طرف نچلی طرف گھڑ سوار کی تصویریں بھی تراشی گئی ہیں، جن کے ایک ہاتھ میں ڈھال اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ ہے۔ کچھ قبروں پر دستار کی شبیہ تراشی گئی ہے جن کے متعلق کارٹر کا خیال ہے کہ یہ سرداروں کے قبروں کی نشانیاں ہیں۔ عورتوں کی قبروں کی پہچان کے لیے تاڑ کی ڈالیوں کی شکلیں تراشی گئی ہیں۔ وہ قبریں جن پر سات فٹ اونچے پتھر کے ستون گاڑے گئے ہیں، وہ قبریں جنگ میں مارے جانے والوں کی ہیں۔" سردار، جنگجو اور عورتوں کی قبریں. جنگجو اور عورت کی قبریں.جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی نشاندہی کے لیے پتھر کے ستون گاڑے گئے ہیں. جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی قبر. سندھ اور بلوچستان میں اس طرز کے سینکڑوں قبرستان ہیں۔ سلمان رشید ان قبرستانوں کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ "ہم اگر سرسری طور پر ایک اندازہ لگائیں تو سندھ اور بلوچستان میں مکلی، سونڈا، جھرک، راج ملک، شاہ کپور، چوکنڈی، میمن گوٹھ، تونگ جیسے ایک سو سے بھی زائد قبرستان ہیں۔" تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ، کلمتی، جوکھیا اور نومڑیا (برفت)، مغلوں کے زمانے میں طاقتور قبیلے تھے۔ ان قبیلوں کا ذکر ہمیں سمہ دور میں بھی ملتا ہے۔ یہ اکثر مغلوں سے لڑتے اور گزرتے ہوئے تجارتی قافلوں پر حملے کرتے۔ اگر کلہوڑا دور پر نظر ڈالی جائے تو گبول، لاشاری، پنھور، جاکھرا بھی ان کے مددگار رہے۔ ان قبیلوں کی یادگار قبریں اور قبرستان ہیں جو اس حوالے سے ایک تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ سارے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فن تعمیر سمہ دور میں یہاں آیا اور اس فن تعمیر پر گجرات کی عمارت سازی کا مکمل اثر تھا۔ سندھ میں سمہ دور فن تعمیر کے لیے ایک انتہائی شاندار دور ثابت ہوا۔ مکلی اور ٹھٹھہ میں زیادہ تر تعمیرات اس دور کی یادگار ہیں۔ سترہویں صدی میں قبرستانوں پر سنگ تراشی کا یہ فن بڑی تیزی سے پھلا پھولا۔ پتھروں کے تختوں پر گھڑ سواروں اور دوسری چیزوں کی تصویریں بننا شروع ہوئی۔ سمہ سردار اس فن کو گجرات سے لائے، ارغونوں، ترخانوں اور بلوچ سرداروں نے اس فن کو عروج پر پہنچایا مگر پھر وہ ہی ہوا جو ہر کمال کے ساتھ ہوتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں یہ فن اپنے کمال کے زوال کی آخری سانسیں لینے لگا۔ اسباب بہت ہوسکتے ہیں مگر حرفِ آخر یہ کہ اس فن پر زوال کی شام آگئی۔ سونڈا کے اس قدیمی قبرستان کے حوالے سے ٹھٹھہ کے آرکیالاجی کے ماہر اور محقق ڈاکٹر محمد علی مانجھی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ: "اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک قدیمی قبرستان ہے۔ سمہ دور کا جب ہم کہتے ہیں تو یقیناً یہ صدیوں پرانا قبرستان ہے جہاں سنگ تراشی کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ مگر ایک بات ضرور ذہن میں رکھںی چاہیے کہ یہ کسی ایک مخصوص ذات یا قبیلے کا قبرستان نہیں ہے۔ یہاں اردگرد جو قومیں اور قبیلے آباد ہیں ان سب کی قبریں یہاں ہیں۔ یہاں جنگوں میں شہید ہونے والے مرد اور عورتوں کی قبریں ہیں، سرداروں کی قبریں ہیں اور عام لوگوں کی بھی قبریں ہیں۔" میں نے جب قبرستان کی خستہ اور ناگفتہ حالت کے متعلق ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تو جواب آیا: "بہت پہلے یہاں چوکیدار تھا مگر اب شاید دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اب یہ قومی شاہراہ پر ایک قدیم آرکیالاجی سائیٹ ہے مگر جو حالت ہے وہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔ بس کیا کیا جائے۔" ایک بے بسی اور دکھ تھا جو ڈاکٹر صاحب کے جواب میں تھا۔ میں نے اپنی زندگی کے جتنے بھی دن، صبحیں اور شامیں ان قبرستانوں، مقبروں اور قلعوں میں گذاری ہیں، چاہے وہ سخت سردیاں ہوں یا جون جولائی کی چلچلاتی دھوپ، میں جب بھی یہاں آیا، خود کو ایک عجیب سے سحر میں جکڑا ہوا محسوس کیا۔ میں سوچتا ہوں کہ آج سے صدیوں پہلے جب یہ منظر تراشے گئے ہوں گے، تب وہ پل کیسے ہوں گے؟ سردی کا موسم ہوگا یا گرمی کا؟ وہ سنگ تراش جب یہ تراش رہا ہوگا تو اس کے چہرے کی کیفیت کیسی ہوگی؟ چار سو دور دور تک وہ کیا دیکھتا ہوگا؟ ان لمحوں میں کون سے پرندے بولتے ہوں گے؟ یا اس وقت کون سی سیاسی شورشوں کی باتیں شہر کی گلیوں میں گردش کرتی ہوں گی؟ یہ فقط قبرستان، مقبرے یا قلعے نہیں ہیں بلکہ ان میں صدیوں کے موسم اور لمحے قید ہیں۔ اور ان میں ایک سحر چھپا ہوا ہے جو آپ کو بار بار بلاتا ہے اور آپ اس سحر میں جکڑے پھر ان قبرستانوں اور مقبروں پر چلے جاتے ہیں۔ اور یہ سحر ہمارا ماضی ہے جو ہم کو نظر نہ بھی آئے مگر اس سے ہمارا ایک رشتہ ہے جس کو ہم اپنے آپ سے الگ نہیں کرسکتے۔ حوالہ جات: ۔ "لاڑ جی ادبی ائیں ثقافتی تاریخ" از ڈاکٹر غلام علی الانا۔ انسٹیٹیوٹ آف سندھالاجی ۔ "ٹھٹھے جا قدیم اسلامی یادگار" از ڈاکٹر احمد حسن دانی۔ سندھی ادبی بورڈ ۔ "کراچی سندھ جی مارئی" از گل حسن کلمتی۔ کاچھو پبلیکیشن (Riders on the wind by Salman Rashid (Sang-e-meel Publications
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: صدیوں کی داستانیں کہتا قبرستان
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں