اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات تکفیری اور شیعہ ووٹ سکندر علی زرین سیاست کو ممکنات کا کھیل کہا جاتا ہے. تیسری دنیا کے ملکوں کی سیاست پر یہ بات اور زیادہ صادق آتی ہے. غیر منضبط سیاسی نظام اور مخصوص سیاسی حرکیات وہ عوامل ہیں جو ان ممالک کی سیاست کو جذباتی, جارحانہ اور غیر سنجیدہ سا بنا دیتے ہیں, ممکنات کا گیم بنا دیتے ہیں. پاکستان کی سیاست بھی ہنوز بلوغت کی حد کو نہیں پہنچی. ہماری لغت میں سیاست کے معنی ایک دیرپا اور سنجیدہ عمل ہرگز نہیں. یہاں کے اہل نظر و صاحبان فکر کو بھی دشت سیاست سے کوئی علاقہ نہیں. لوگ اب بریکنگ نیوز کے چیختے چلاتے ٹکرز سے پھوٹتی سیاسی اقدار کے شیدائی بن چکے ہیں. پاکستان سمیت اس خطے کے کچھ ممالک میں مذہب کا سیاست میں کافی عمل دخل ہوتا ہے. بعض اوقات مذہبی تنظیموں اور شخصیات کا کردار حکومتیں بنانے یا بگاڑنے میں کلیدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے. پاکستان کے ایوان ہائے اقتدار سے لیکر پارلیمنٹ کے ایوان ہائے بالا و زیریں تک مذہبی سیاسی جماعتوں کے کردار کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا. انتخابی سیاست کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو مذہبی سیاسی جماعتوں کو مزید فعال و متحرک دیکھا جا سکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والی یہ تنظیمیں انتخابات میں اپنا حصہ نکالنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاتی ہیں. ملک میں عام انتخابات 2018 کی آمد آمد ہے. مختلف جماعتوں نے اپنے تُرپ کے پتے سیاسی بساط پر بچھانا شروع کئے ہیں. نئی سیاسی صف بندیاں بھی ہوتی نظر آ رہی ہیں. حالیہ دنوں میں ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ متحدہ مجلس عمل کو بحال کیا گیا ہے. ابتدائی طور پر 5 جماعتوں کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے. ایم ایم اے کے تن مردہ میں دوبارہ جان ڈالنے کے عمل کو سیاسی پنڈٹ مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں. بعض واقفان حال کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایم ایم اے کے تن مردہ میں روح پھونکی ہے. یہی سیاسی سکول آف تھاٹ پہلے بھی ایم ایم اے کو "ملا ملٹری الائنس" کہتا آیا ہے. سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کو کاونٹر کرنے کے لئے ایم ایم اے کو نشاط ثانیہ بخشی گئی. ان دونوں سازشی نظریات سے قطع نظر اس اظہاریے میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وقتی ضرورت کی کوکھ سے جنم لینے والے اس انتخابی اتحاد میں شامل جماعتوں میں سے کس کس کو کیا ملے گا؟ کس کی پانچوں انگلیاں ہوں گی گھی میں؟ اس اتحاد میں کوئی ایسی جماعت بھی ہے جس کے ہاتھ کچھ نہیں لگنے والا؟ جمیعت علمائے اسلام اس انتخابی اتحاد میں شامل کلیدی جماعت ہے. بحال شدہ انتخابی الائنس کا سربراہ جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کو چُنا گیا ہے. اسی جماعت کا انتخابی نشان کتاب ہی ایم ایم اے کا نشان ہو گا. یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے جب 2002 میں ایم ایم اے کا قیام عمل میں لایا گیا تو صدارت جماعت اسلامی کے حصے میں آئی تھی. قاضی حسین احمد مرحوم صدر نشین ٹھہرے تھے. مگر اس بار شاید سراج الحق کو مذہبی جماعتوں کی سیاسی امامت کا اہل نہیں سمجھا گیا. جمیعت علمائے اسلام کے ووٹرز کے لئے ایم ایم اے کو ووٹ دینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہو گی, ٹھپہ انہوں نے کتاب پہ ہی لگانا ہے. سیٹ ایڈجیسمنٹ کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی حلقوں میں جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں کے ووٹ بھی جے یو آئی کے امیدواروں کو پڑیں گے, یوں جن حلقوں میں مولانا فضل الرحمان کے امیدوار ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے کھڑے ہوں گے ان کی پوزیشن مضبوط ہو گی. مولانا فضل الرحمان نے 2002 میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم کا خوب استعمال کیا تھا, خیبر پختونخوا (اس وقت کا صوبہ سرحد) میں اپنے عزیز اکرم خان درانی کو وزیر اعلی بنایا. خود قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گئے. سوال یہ ہے جماعت اسلامی اور دیگر حلیف جماعتوں کے حصے میں کیا آیا؟ مشرف کی بدنام زمانہ سترہویں ترمیم کی منظوری کا ملبہ, مشرف کو باوردی صدر رہنے کا جواز فراہم کرنے کی ذمہ داری, دیگرکئی طرح کی سیاسی بد نامیاں. قاضی حسین احمد یہی پشیمانی ذہن میں لئے آسودہ خاک ہو گئے. ایم ایم اے میں شامل دوسری اہم پارٹی جماعت اسلامی ہے.جماعت اسلامی اپنی تنظیمی نظم و ضبط اور پارٹی کے اندر جمہوری اقدار میں اپنی مثال آپ ہے. ایک نظریاتی جماعت بھی ہے. تاہم انتخابی سیاست اور جماعت اسلامی کا ازل سے بیر رہا ہے. اپنی تمام تر انتظامی فعالیت اور کارکنوں کے جوش و جذبے کے باوجود ہر الیکشن میں اس کو منہ کی کھانی پڑی. یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی انتخابی موسم شروع ہوتے ہی کسی سیاسی اتحاد کے شجر پر آشیانہ تلاش کرتی ہے. گزشتہ 10 عام انتخابات میں سے جماعت اسلامی نے دو ہی الیکشن اپنے زور بازو پہ لڑے, دونوں ہی دفعہ شکست فاش مقدر بنی. 1977 کے انتخابات میں نظام مصطفی کا نعرہ بلند کیا, سات جماعتی اتحاد میں سیاسی پناہ ڈھونڈی, ترازو چھوڑ کے ہل کو انتخابی نشان بنایا. 1985 کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے. 1988 اور 1990 کے انتخابات اسٹیبلیشمنٹ کی چھتری تلے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کے پلیٹ فارم سے لڑے گئے. 1993 میں قاضی حسین احمد نے پاکستان اسلامی اتحاد کے نام سے چند جماعتوں کا اتحاد کیا. 2002 میں جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمان کا بغل بچہ بن گئی. ایم ایم اے کا حصہ بنی. 2008 میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا. 2013میں جماعت اسلامی نے تنہا پرواز کی. جب بیلٹ بوکس کھلے تو یہ حقیقت بھی کھلی کہ اس کے بیشتر امیدوار ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے ہیں. 272 میں سے قومی اسمبلی کی 2 سیٹوں پر اس کے امیدوار کامیاب ہوئے. یہی وجہ ہے جماعت اسلامی ایم ایم اے کی بحالی کے لئے سب سے زیادہ بے چین و بے تاب تھی. انتخابی سیاست کی ولن کا درجہ رکھنے والی جماعت کے سامنے 2018 کے انتخابات کا نقشہ اور ممکنہ نتیجہ دونوں موجود ہیں. لھذا اس نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی امامت میں ہی عافیت جانی. مزے کی بات یہ ہے خیبر پختونخوا میں پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہنے والی جماعت کے اکابرین الیکشن مہم میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کھڑے ہو کر اسی صوبے کی حکومت کی کارکردگی کو مطعون کریں گے. بالفرض خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے میدان مار لیتی ہے تو زمام حکومت تو جے یو آئی کے ہاتھ میں جائے گا. جماعت اسلامی کو کیا ملے گا؟ اس کا جواب خود امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے پاس نہیں تو ہم کیا دیں گے؟ متحدہ مجلس عمل میں شامل ساجد میر کی جماعت اہل حدیث کی کوئی انتخابی پہچان نہیں. ساجد میر کو سینیٹر بننا ہوتا ہے, اس مقصد کے لئے وہ کسی بھی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں. جمیعت علمائے پاکستان کا کوئی سیاسی قد کاٹ نہیں. سو یہ جماعت یہاں قابل بحث نہیں. باقی بچے علامہ ساجد علی نقوی. یہ ایم ایم اے کا سب سے دلچسپ مگر عجیب پہلو ہے. اسلامی تحریک (کالعدم تحریک جعفریہ) کا متحدہ مجلس عمل میں کیا کام؟ یہ وہ سوال ہے جو سیاسی تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کے لئے مخمصے سے کم نہیں. ایم ایم اے خالصتا ایک انتخابی الائنس ہے. اس اتحاد کا ہدف حصول اقتدار اور سیاسی فائدے کے سوا کچھ نہیں. ایسا بھی نہیں کہ ایم ایم اے نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا کوئی پروگرام دیا ہو, یا بِنا مسلکی تعصبات کے تمام فرقوں کی حکومت میں نمائندگی کا ایجنڈا دیا ہو. ایسا بالکل نہیں ہے. پھر ساجد علی نقوی کی اسلامی تحریک کو جے یو آئی اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں سے کیا علاقہ؟ یہ بات یاد رہے 2002 میں بھی تحریک جعفریہ ایم ایم اے کا حصہ تھی. اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے پورے ملک سے کسی ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست پر شیعہ امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا. تحریک جعفریہ کا ووٹ بنک ایم ایم اے کے کھاتے میں گیا. اقتدارکے مزے اکرم درانی اینڈ کمپنی نے لوٹے. شیعہ ووٹرز کے منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز متحدہ مجلس عمل کے نمائندے کے طور پر اسمبلیوں میں تو موجود تھے مگر ان کی پورے پانچ سالوں میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی. اس بار بھی صورت حال کم و بیش وہی ہے. خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو پشاور سے لیکر مالا کنڈ تک کوئی ایسا حلقہ انتخاب نظر نہیں آتا جو مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی علامہ ساجد نقوی کے امیدواروں کے لئے چھوڑ دیں. ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل تشیع کا معقول ووٹ بنک موجود ہے, مگر مولانا فضل الرحمان اپنے اس آبائی حلقے کو ساجد نقوی کی محبت میں قربان کر دیں گے؟ دہلی ہنوز دور است. کوہاٹ اور ہنگو میں بھی اول الذکر دونوں جماعتیں تحریک جعفریہ (اسلامی تحریک) کو جھنڈے گاڑنے نہیں دیں گی. بلوچستان میں انتخابی پلاٹ اس طرح بنتا نظر آتا ہے کہ کوئٹہ سے ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے پر ساجد علی نقوی کو کتاب مل سکتی ہے. باقی 60 کے قریب صوبائی جبکہ 17 قومی اسمبلی کے حلقوں میں اسلامی تحریک پاکستان کا کام محض ووٹروں کو الیکشن کے دن پولنگ سٹیشنوں پر پہنچانا ہو گا. کراچی کا منظر نامہ بھی ایم ایم اے میں شامل شیعہ مسلکی جماعت کے لئے سازگار نہیں ہو گا. جماعت اسلامی اپنی تنظیمی قوت کے بل بوتے پر زیادہ حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے گی. 21 قومی اور42 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں سے شاید ایک یا دو صوبائی نشستوں پر اسلامی تحریک کو ٹکٹ ملے. اندرون سندھ اور پنجاب میں ایم ایم اے خانہ پُری کے لئے الیکشن لڑے گی. گمان غالب ہے ان حلقوں سے کچھ امیدوار میدان میں اتارے جائیں تاکہ ایم ایم اے میں شامل تحریک اسلامی بھی کسی گنتی میں آجائے. لھذا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تحریک جعفریہ کی ایم ایم اے میں شمولیت سے شیعہ قوم کو سیاسی طور پر کچھ حاصل ہونے والا نہیں. پشاور, کوہاٹ, ہنگو, ڈی آئی خان اور کراچی کے شیعہ ووٹ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی جھولی میں جائیں گے. لیکن اسمبلیوں میں عملا ان کی نمائندگی نہیں ہو گی. خیبر پختونخوا سے ایم ایم اے صوبائی اسمبلی کی معقول تعداد میں نشستیں نکالنے میں کامیاب رہی تو شاید علامہ ساجد علی نقوی کو سینیٹ کی سیٹ مل جائے. مگر ان کی رہبری پر کل بھی سوالیہ نشان تھا. آنے والے کل بھی سوالیہ نشان رہے گا. مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں