غیر شرعی بندھن

ڈاکٹرسید شفقت شیرازی

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ، حقیقت تک پہنچنا محقق کی ذمہ داری ہے، جب ہم نے بنگال کو کھو دیا تو  باقی ماندہ ملک شدید مشکلات میں  گھرا ہوا تھا. اس  وقت ان گنت مجبوریوں کے باعث ہمیں  اقبال وقائد اعظم کے نظریہ پاکستان کی مخالف قوتوں سے غیر شرعی عقد کرنا پڑا.  اور اسی دور میں ہمیں  ان کانگرسی ایجنٹوں اور مسلکی طور پر جمہوریت کے بجائے امارت وخلافت کا خواب دیکھنے والوں کو شریک حیات بنانا پڑا۔

پاکستانی قوم کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان آرمی بھی اس وقت  مجبور تھی۔ یوں قائداعظم اور علامہ اقبال کے مخالفین کے ساتھ  اس غیر آئینی و غیر شرعی بندھن  کے نتیجے میں  متعددنا جائز اولادیں پیدا ہوئیں .جنھوں نے بانیان پاکستان کے فرزندوں سے خوب انتقام لیا.اور ملک کو تباھی کے دہانے  پر لا کھڑا کیا. اور اب انکے یہ بچے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

آج جب پاکستان دشمن قوتیں، ان ناجائز بچوں  کے ذریعے  اس ملک کو مزید تقسیم کرنا چاہتی ہیں. تو پاک آرمی کے جانثاروں کی اوّلین ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ  اس ملک کی بقاء اور سلامتی کی خاطر سب سے پہلے علامہ اقبال اور قائداعظم کے دشمنوں کا قلع قمع کریں . نیز دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے  ، غلط بندھن کی پیداوار ناجائز نسل کے خلاف آپریشن کیا جائے۔

 اس کے ساتھ ساتھ اس غلط بندھن  فائدہ اٹھانے والوں اور کمیشن لینے والوں کو وطن سے خیانت کے جرم میں عدالتی کٹہروں میں بھی لا کر انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں  تا کہ  یہ غلط بندھن ہمیشہ کے لئے ٹوٹ جائے۔

حکمران ، سیاستدان اور فوجی حلقے اچھی طرح یہ جان لیں کہ پاکستان  کے مخلصین  خواہ سنی ہوں یا شیعہ صرف وہی ہیں  جو قائداعظم محمد علی جناح کو بابائے ملت مانتے ہیں اور پاکستان کو فقط وہی بچا سکتے ہیں جنھوں نے اس کے قیام میں مخلصانہ کردار ادا کیا تھا اور قربانیاں دی تھیں.

اب یہ غلط فہمی دور کر لینی چاہیے کہ  " پاکستان کے قیام کےمخالف ،قائداعظم کے دشمن ،کانگرس نواز اور ہندوستان سے  علیحدگی کو ایک برطانوی سازش قرار دینے والے لوگ پاکستان سے مخلص ہیں."

لہذا اس حساس دور میں پاکستان کے وفادار بیٹوں کا ماوراء آئین جیلوں میں ہونا جبکہ  اور وطن سے بغاوت کے جرائم کے مرتکب لوگوں کا آزاد گھومنا بذات خود استحکام پاکستان پر ایک کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے.

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے مقتدر حلقے اس مسئلے پر توجہ دیں گے اور وطن کے وفاداروں اور وطن کے غداروں کے درمیان حد فاصل مقرر کریں گے۔

 


افکار و نظریات: غیر شرعی بندھن