پی ٹی آئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی!!!

محبوب اسلم

میں چونکہ امریکہ میں پی ٹی آئی کیلئے کام کرتا رھا ھوں تو میرا زیادہ تر واسطہ پی ٹی آئی کی جوشیلی ورکر لیڈر جناب فوزیہ قصوری صاحبہ سے رھا۔ ان کا ایک نئے پاکستان کیلئے جذبہ دیدنی تھا۔ ھم جوانوں سے بھی زیادہ ھمت والی یہ خاتون دن رات پارٹی کی فنڈ ریزنگ میں مشغول رھتی تھیں۔ آج شوکت خانم کیلئے تو کل پی ٹی آئی کیلیۓ۔ میں بذات خود ان کے ساتھ ایک دن میں تین تین فنڈ ریزنگ فنکشز میں انکی انتھک محنت کا چشم دید گواہ ھوں۔ لیکن پھر جو پی ٹی آئی مافیا نے ان کے ساتھ انٹرا پارٹی الیکشن میں کیا وہ اللہ کسی دشمن کیساتھ بھی نہ کرے۔۔۔

حال ھی میں فوزیہ قصوری نے چپ کا روزہ تب توڑا جب عامر لیاقت حسین جیسے سیاست دان تبدیلی کی اس جدوجہد کا چہرہ بنا دیئے گئے۔ ذیل میں ان کے ایک حالیہ مضمون کا اردو ترجمہ پیش کر رھا ھوں۔۔۔تانکہ آپ گواہ رھیں کہ ھم نے اذان دینے کا اپنا حق ادا کر دیا:

سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے کیا تھا کہ اگر میرے مخالفین نے میری ذات پر حملے شروع کر دئیے ھیں تو اسکا واضح مطلب ھے کہ انکے پاس ایک بھی دلیل باقی نہیں بچی۔

 مجھے تو امید تھی کہ میری تنقید پی ٹی آئی کے لیڈروں کو ایک بار پھر موقعہ فراھم کرے گی کہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں۔ لیکن یہ لیڈرز  الٹا میری ھی نیت پر شک کرنے لگے۔جبکہ میں نے جو کہا وہ پی ٹی آئی کے ورکرز کی ایک بہت بڑی تعداد کے دل کی آواز ھے۔ یہ نام نہاد  لیڈر اپنے ذاتی مفادات کو ”عمران خان آخری امید ھے“ کے نعرے تلے چھپاتے پھرتے ھیں۔ لیکن مجھے کہنے دیجئے کہ آخری امید ھر لحظہ اللہ تعالی کی ذات ھے۔ 

مجھے اندازہ ھے کہ وہ نام نہاد لیڈرز جن کا مطمع نظر صرف طاقت کا حصول ھے ان کیلئے سیاست شب و روز کی جوڑ توڑ اور افراتفری کا نام ھے۔ ان کے پاس ذاتی محاسبے اور اپنی اصلاح کا وقت نہیں ھے۔ لیکن ھمارے جیسے ورکرز جن کو پارٹی نے 2013 کے بعد پیچھے دھکیل دیا۔۔ھمارے ذھنوں میں آج بھی وہ منظر تازہ ھے کہ ھم نے نظریات کی طاقت کے بل بوتے پر شاندار کامیابی حاصل کی۔ ھمیں آج بھی یاد ھے کہ اکتوبر 2011 میں ھم نے ثابت کیا کہ اس مملکت خداداد میں امید اور نظریہ ابھی زندہ ھے اور ھم انصافینز اسکے پاسبان ھیں۔

ھم جیسے ورکرز کو آج ”نان۔ایلیکٹیبلز“ کا نام دیا جا رھا ھے۔۔۔وہ جو الیکشن نہیں جیت سکتے؟ لیکن ھم وھی نان ایلیکٹیبلز تھے جنھوں نے پی ٹی آئی کے نظریے کو اس شدت اور جذبات سے اس قوم کے سامنے پیش کیا کہ 2012 میں پی ٹی آئی نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سیاسی بصیرت اور معاشرتی شعور رکھنے والے پاکستانیوں کو اس نظریے پر جمع کرنے میں کامیاب ھوگئی کہ اب اس مملکت خداداد میں اب کرپٹ اور روایتی سیاست دفن ھو چکی۔ اب ایک ایسی سیاسی قیادت ابھرے گی جو اس اخلاقی جرات کی حامل ھوگی جو ایک نئے پاکستان کی ضامن ھوگی۔

   مجھے فخر ھے کہ میں اس نان ایلیکٹیبلز گروپ سے تعلق رکھتی ھوں جو اس وقت ثابت قدم رھا جب سیاسی تجزیہ کار ھمیں ”تانگہ پارٹی“ کہہ کر رد کرچکے تھے۔ ھم نے وکلا تحریک کے زمانے میں پی ٹی آئی کو ایک مٶثر جماعت کے طور پر سامنے لایا۔ یہ ھم جیسے نان ایلیکٹیبلز ھی تھے جن کی انتھک محنت کی بدولت پی ٹی آئی اپنی بیس سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ عوامی ووٹ اور سیٹیں جیتنے میں کامیاب ھوئی۔

لیکن یاد کریں کی پچیس دسمبر2011 میں ان پیرا شوٹ نام نہاد لیڈروں کی پہلی کھیپ کراچی کی جلسہ گاہ میں ھم نظریاتی وورکز کے سروں پر نازل ھوئی تھی۔ یہ پیرا شوٹرز ھمیں ایسٹ انڈیا کمپنی کی یاد دلاتے ھیں جو ایک ھاتھ میں تحائف اور دوسرے ھاتھ میں برطانوی سامراج کا استحصالی جھنڈا پکڑے وارد ھوئے تھے اور بہت چالاکی سے شہنشاہ جہانگیر  کےدل میں جگہ بنانے میں کامیاب ھوگئے تھے۔ اور پھر آپ کو تاریخ کا ادراک ھے ھی کہ پھر برصغیر میں مغل سلطنت کا کیا حشر ھوا۔ بین ایسے ھی شہنشاہ کے حکم پر ھم نان ایلیکٹیبلز نے ان پیرا شوٹرز کیلئے اپنی اپنی کرسیاں چھوڑ دیں اور ان پیرا شوٹرز نے ھماری محنت سے بنی پی ٹی آئی پر قبضہ جما لیا۔۔۔اور ھم نان ایلیکٹیبلز ان نام نہاد لیڈروں کے پیچھے دھکیل دیئے گئے۔

اگلے پانچ سالوں میں ان ارب پتی نام نہاد لیڈروں نے پارٹی پر مکمل کنٹرول جما لیا اور نظریاتی ورکرز کی پارٹی کو جمہوری روایات پر استوار کرنے کی ھر کوشش کو تباہ برباد کر دیا اور  یوں نظریاتی ورکر اور پارٹی منشور کو کوڑے دان میں جھونک دیا گیا۔ 

دوسری طرف مصلحت پسندی اور عملیت پسندی کے نام پر پارٹی میں اس ظلم کا کوئی خاص فائدہ بھی ظاھر نہیں ھوسکا اور نہ ھی یہ عوام کو متاثر کر سکا۔ حالیہ ضمنی انتخابات کو سامنے رکھتے ھوۓ یہ کہنا بے جا نہ ھوگا کہ ان نام نہاد ایلیکٹیبلز کے بل پر پارٹی جن ووٹرز کو رجھانا چاھتی ھے وہ لودھراں کی شکست، پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کی سینٹ الیکشن میں لوٹ سیل اور پی پی پی کے سامنے سرنڈر  کرنے کے بعد پارٹی میں ھنوز دلچسپی رکھتے ھیں۔ افسوس ھے کہ یہ نام نہاد لیڈرز اپنےورکرز سے پارٹی کیلئے تو وفا کی امید رکھتے ھیں لیکن خود پارٹی سے وفا نہیں رکھتے۔

آج ایک بھیانک مذاق ھو رھاھے۔ 2013 کی طرح اسدفعہ بھی پارٹی کا پارلیمانی بورڈ جو پارٹی ٹکٹوں کا فیصلہ کریگا وہ ان ارکان پر مشتمل ھے جو خود پارٹی ٹکٹوں کے متمنی ھیں۔ اور اس سے بھی بڑا مذاق یہ ھے کہ جو شخص  پارلیمانی بورڈ کی قیادت کررھا ھے اسے پاکستان کی سپریم کورٹ نااھل قرار دےچکی ھے۔ کیا ھماری پارٹی کے کسی علم فاضل کو اس بات کا احساس نہیں ھے کہ ابھی کل ھی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف کے نامزد شدہ امیدواروں کو سینٹ الیکشن میں بحثیت آزاد امیدوار کھڑا ھونے کا پابند کیا کیونکہ نواز شریف کو ناآھل ٹھیہرایا گیا تھا۔ کیا پی ٹی آئی قانون سے بالا تر ھے؟

اگر یہی روش جاری رھتی ھے تو پارٹی کے وفادار ایسے امیدواروں کو ووٹ نہیں دینگے جن سے نجات پانے کی خاطر تو وہ اس تحریک ک حصہ بنے تھے۔ میی یہ نہیں کہہ رھی کہ نئے لوگوں کو موقعہ نہیں دینا چاھیئے۔  لیکن میں یہ ضرور کہہ رھی ھوں کہ نئے آنے والے ایک صاف ستھرا ماضی رکھتے ھو اور ھمارے نظریے سے میل کھاتے ھو۔ اس بات کی ھرگز اجازت نہیں دی جاسکتی کہ پی ٹی آئی ایسے لوگوں کیلئے ڈرائی کلینگ کا کام کرے جو انتہا درجے کا گندا ماضی رکھتےھیں۔ کیا پی ٹی آئی ھر قیمت پر صرف طاقت کے حصول کیلئے بنائی گئی تھی؟

اب بھی وقت ھےکہ پارٹی کی اصلاح اور بقا کیلئے ایک مخلصانہ اور انتہائی درجے کی کوشش کی جاۓ۔  اس ضمن میں میں پانچ نقاطی حل تجویز کرتی ھوں۔

پہلا  نکتہ: پارٹی کو اپنےورکرز کو اھمیت اور عزت دینا ھو گی۔ تمام ریزرو سیٹوں پر ان خواتین اور اقلیتی ورکرز کو نامزد کیا جاۓ جنھوں نے سالہ سال سے پارٹی کے نظریے پر شب و روز کام کیا۔  یہ ریزرو سیٹیں پارٹی کے نام نہاد لیڈروں کے رشتہ داروں اور کاروباری شراکت داروں میں ریوڑیوں کیطرح نہ بانٹیں جاۓ۔ یہ بات بھی واضح کردوں کہ مجھے ریزرو سیٹ کی نامزدگی میں شامل نہ کیا جاۓ۔

دوسرا  نکتہ: جہاں جہاں پارٹی اپنی مقبولیت کے بل بوتے

پر الیکشن جیت سکتی ھے وھاں وھاں پارٹی ٹکٹ مخلص، محنتی، اور نوجوان ورکرز کو جاری کیا جاۓ۔

تیسرا  نکتہ: پارٹی کے وومن ونگ اور یوتھ و نگ کو فی الفور بحال کیا جاۓ۔

چوتھا  نکتہ: پارٹی فوری طور پر پارٹی ٹکٹ کے اجرا کیلئے میرٹ کے ضابطہ اخلاق کا اعلان کرے۔ اور اس بات کو یقینی بناۓ کہ یہ ضابطہ اخلاق کن بنیادوں پر تشکیل دیا گیا۔  

 

پانچواں  نکتہ: پارٹی فوری طور پر ایک غیر جانبدار اور باکردار اخلاق کے حامل پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر کو نامزد کرے تانکہ قومی الیکشن کے فورا بعد پارٹی میں صاف ستھرے انتخابات کا انعقاد ضرروی بنا یا جاۓ تانکہ پارٹی خالصتاً جمہوری بنیادوں پر استوارھو سکے۔

میر ے نزدیک یہ پانچ نکات نہایت اھمیت کے حامل ھیں اور پارٹی کے وجود اور نظریے کو جو خطرات درپیش ھیں انکے سدباب کیلئے ناگزیر ھیں۔ پی ٹی آئی ایک کنگز پارٹی کے روپ کی متحمل نہیں ھوسکتی۔ اور نہ ھی یہ پارٹی ایسے ابن الوقت لیڈروں کے حوالے کی جا سکتی ھے جو بیک وقت بہت سے آقاٶوں کی غلامی کرتےھیں اور یہی نہیں وقت آنے پر ان آقاٶوں کو بھی دفنانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔

کچھ نظریاتی ورکرز کا مشورہ ھے کہ میں عمران خان صاحب سے ملکر ان معاملات پر سیر حاصل بحث کروں۔ لیکن میں نے یہ مشورہ اسلیئے رد کر دیا کہ اسطرح کرنے سے پارٹی کے نظریاتی  ورکرز کا استحصال ھوگا اور انکی پوزیشن کمزور ھوگی۔ اور یہ نام نہاد لیڈر شور مچائینگے کہ میں اپنے لئے ٹکٹ مانگنے گئی تھی۔ اس بات کو اچھی طرح نوٹ کر لیا جاۓ کہ میں نے 2013 سے آج تک عمران خان سے کوئی پارٹی ٹکٹ نہیں مانگا۔ باوجود اس کے کہ ایک سیاسی ورکر کا پارٹی ٹکٹ مانگنا کوئی جرم نہیں ھے۔ لیکن یہ پروپگنڈا مجھے پی ٹی آئی سے دور رکھنے کیلئے کیا جا رھا ھے۔

لیکن میں ان نام نہاد لیڈروں کو بتا دینا چاھتی ھوں کہ میں نے پارٹی نہیں چھوڑی۔۔۔پارٹی کوتو آپ نے چھوڑ دیا۔ پارٹی کے ورکرز نے مجھے بے انتہا عزت اور محبت دی۔ اب یہ میرا فرض ھے کہ میں پارٹی کے نظریے کیلئے لڑوں۔ میں ان نام نہاد لیڈروں کو بتا دینا چاھتی ھوں کہ میں لڑونگی چاھے مجھے اکیلے ھی ان کا مقابلہ کرنا پڑے!

فوزیہ قصوری

 

 


افکار و نظریات: پی ٹی آئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی