انصاف کا شعور

 (ڈاکٹر حفیظ ارحمان ،پی ٹی آئی پشاور )

 ایک طرف تو عدالت عالیہ نے اپنے فیصلوں سے حکومتی کار کردگی کا پول کھول کے رکھ دیا  تو دوسری طرف قابل احترام چیف جسٹس نے اسلامی دور کے قاضی القضا کی یاد تازہ کر دی ۔

تاریخ برطانیہ کے مشہور وزیر اعظم چرچل نے جب کسی نے سوال کیا کے کیا برطانیہ جنگ عظیم دوئم جیت جائے گا تو چرچل نے جواب دیا کیا ھماری عدالتیں عوام کو انصاف مہیا کر رہی ہیں ،گویا اگر تو عوام کو انصاف مل رہا ھو تو ریاست پہ عوام کا اعتماد بہال رہتا ھے اور یہ ہی اعتماد انھیں ریاست کی حفاظت سے منکر ھونے بھی نہیں دیتا ۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب بمبئی میں اپنے قدم جمائے تو سب سے پہلا کام جو انھوں نے کیا کے بمبئی کی بندرگاہ پہ مجسٹریٹ طینعات کیے جو بندرگاہ کے تجارتی مسائل کی دیکھ بھال کرتے اور سب سے بڑھ کر حضرت علی رض عنہ کا مشہور قول کے کے انصاف پہ مبنی ریاست اگر تو کفر کی بھی ھو تو اسے دوام ھے اور شائد تاج برطانیہ اب تک جو احترام اور تعظیم اپنے ملک اور اپنی عوام میں ھے اور نہ صرف اپنے لوگوں میں بلکے دنیا بھر میں جو عزت و توقیر ھے ،اس کی وجہ بھی انصاف ھی ھے ۔

جمھوریت کی روح انصاف ھے ،ایسے معاشرے جہان جمھوری اقدار میں انصاف شاملُ نہ ھو وہ کبھی بھی زندہ جمھوریت سے مزین معاشرے کہلانے کے مستحق نہیں ۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا یوں کوچہ کوچہ ،قریہ قریہ ،شہر شہر دربدر ھونا کس قدر قابل افسوس اور قابل رحم ھے ،کیا احتساب کا کام سرکار کا نہیں ،سیاسی جماعتوں کا نہیں اور سب سے بڑھ کر کسی فرد کا اپنا بھی خود احتسابی کرنا نہیں ھوتا ، کیا ایک منحنی سا شخص ساڑھے اکیس کروڑ عوام کے جسد میں غیرت و حمیت کی روح پھونک سکتا ھے ،ھر گز نہیں ،جب تک کے اس بے ضمیر جسم کے ایک ایک خلیے میں یہ احساس نا پایا جائے کے حرام خوری ،چور بازاری اور ریاستی سہولتوں کا ناجائز فائدہ اور استعمال ایک غیرت مند شہری کو زیب نہیں دیتا ،یہ کس قدر قابل افسوس ھے کے چیف جسٹس کے کہنے پہ غیر ضروری سیکورٹی لوگوں سے لی گئی اور اس حمام میں چاروں صوبے ننگے تھے ،کیا یہ سیکورٹی جاہل اور ان پڑھ لوگوں کو ملی تھی ،بلکل بھی نہیں بلکے اعلا تعلیم یافتہ ،دولت مند اور باشعور لوگوں کے حوالے تھی ،تو پھر انھیں یہ احساس کیوں نہ تھا کے جب ھمارا ملک دھشت گردی کی آگ میں جل رہاھے تو عام ادمی کو اس سیکورٹی کی کتنی طلب ھو گی ،ھمیں اس خود غر ضانہ اور منافقانہ سوچ و فکر سے نکلنا ھو گا کے “تمام شہر جلے پر میرا گھر نہ جلے “احمق نہیں سمجھتے کے جب شہر جلے گا تو ھر گھر جلے گا ۔

یہی حال چھوٹے پیمانے پہ عام پڑھے لکھے لوگوں کا ھے ،پانی کی زیر زمین ٹینکی بنانے کی بجائے نلکوں پہ ڈائریکٹ واٹر پمپ لگایں گے ،گھروں کے باھر لگائے گئے پودوں کو ایسے  پانی دیں گے کے جیسے انکے گھروں میں چشمے نکل ائیں ھوں ،محلے میں چاہے کسی کے گھر پانی آ رہا ھو یا نہیں انہیں پرواہ نہیں ھو گی۔

اس طرح کے کئی مسائل ہیں جو ھماری خود کی پیدا کردہ ہیں ،کوئی بھی سیاست دان بیو رو کریسی کی مدد کے بخیر کریپشن نہیں کر سکتا ،یہ نا ممکن ھے لیکن آج تک کتنے بیورو کریٹ کو گرفتار کیا گیا ،جنکی وجہ سے کسی سیاستدان نے کریپشن کی ھو ۔

معاشرے کی برائیوں کے حوالے سے ھمارا استعدلال یہ رہا ھے کے جمھوری معاشروں میں یا پھر ایسے کہہ لیں کے لیں کے جن ریاستوں میں جمھوری نظام حکومت ھے وہاں معاشرتی برائیوں کو زیربحث لانے کا بہترین فورم سیاسی جماعتیں ھوا کرتی ہیں ۔

سیاسی جماعتوں کے  اراکین کو سب سے پہلے خود رول ماڈل ھونا چائیے   اور پھر معاشرے میں بے انصافی کے خلاف آٹھایں ،سب سے اھم کام جو کسی بھی سیاسی ورکر کو کرنا چائیے تو وہ اپنی جماعت کی مسلسل  تبلیغ اور معاشرے میں بے انصافی کے خلاف شعور کو بیدار کرنا ھوا کرتا ھے ۔


افکار و نظریات: انصاف کا شعور