میندھروں کا ٹیلہ

تحریر ـ فرحان منہاج

  جمعے والے دن آغاروزامان مرغزانی اور وسیم قریشی بھائی کا فون آیا کہ ڈگری کے قریب ایک مقام سے مقامی لوگوں نے کچھ لوگوں کو ایک ٹیلے سے پرانی اینٹیں اور کچھ نشانیاں لیجاتے پکڑا تھا. کیوں نہ اس جگہ چلا جائے اور دیکھا جائے. میں نے فوراً ہی حامی بھرلی اور پھر ہم ٹنڈوجان محمد روڈ پر قائم پٹھان ہوٹل پر اکھٹے ہوئے ـ

وہاں ہم نے ایڈوکیٹ ساجد قائم خانی اور دانش جٹ کو بھی بلالیا. ہم تین موٹر سائیکلز پر کوٹ غلام محمد روڈ کی طرف روانہ ہوئے وہاں سے ہم فقیر بشیر خان لغاری کے گاؤں سے ہوتے ہوئے سیدھا فیض رمدان کے گاؤں پہنچے جہاں ہمیں فیض رمدان اور ایک شخص ولی محمد دل ملا جو ہمیں وہاں قریب ہی سیم نالے کے قریب ایک مٹی کے ٹیلے پر لے گیا. یہ ٹیلہ ڈگری کے نواحی گاؤں رانوں رمدان کے قریب دیھ 175 میں واقع ہے اس تاریخی قدیم مقام کو میندھروں کا ٹیلہ جسے سندھی زبان میں (مینرن جا ڀٿ)  کہا جاتا ہے یہ تاریخی مقام ساتھ کئی چھوٹے ٹیلے ملا کر پران کے کنارے 220  ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے.

 اس ٹیلے کے بارے میں خیال ہے کہ یہاں سومروں کے زمانے میں کئی ہزار سال پہلے یہاں میندھر آباد تھے میندھرے سماٹ ( پرانے سندھی) میں سے ایک قوم ہے . ان کے ساتھ سومرے بھی رہا کرتے تھے. اسی مقام کے بارے میں اس علاقے کے مشہور ادیب مورخ ( مرحوم ) فقیر بشیر خان لغاری نے میندھروں کے ٹیلے کے حوالے سے اپنی کتاب (پورب موں پندھ)  میں ذکر کیا ہے. یہ آبادی کیونکہ سندھ میں بہتے دریا پران کے کنارے تھی تو یہ آبادی اور علاقہ قافلوں کی گزر کے گاہ میں آتا تھا. اسی وجہ سے سندھی مورخین کا خیال ہے کہ کسی عرب قافلے کا گزر یہاں سے ہوا تو اس قافلے میں شریک ایک عرب شاعر نے اس علاقے کا ذکر اپنے ایک شعر میں بھی کیا ہے ـ

اس علاقے میں کلہوڑوں کے دور میں ایک درویش فقیر قاسم دل نے ڈیرے ڈالے جن کی آخری آرام گاہ آج بھی اس ٹیلے پر موجود ہے. جہاں لوگ فیض و برکت کے لیے آتے رہتے ہیں. سندھی ادب سے تعلق رکھنے والوں نے ایک گمنام شاعر کے ایک شعر

”ٿر سکو پبڻ سائي  ساجن ڈنی تانگ ،

جسیں دھرتی مٿي  بانگ

تيسین مور نہ موری منڌرو

کے حوالے سے دعوٰی کیا ہے کہ یہ شعر بھی اس ٹیلے کے نیچے آباد میندھر قوم کی آبادی کے بارے میں ہے ـ

مقامی لوگ یہاں برساتوں اور عام دنوں میں کھودائی کرتے اور خزانہ تلاش کرتے رہتے ہیں. لیکن اب تک اس جگہ سے کسی کے ہاتھ کوئی قیمتی چیز نہیں آئی جبکہ اس جگہ سے قدیم نقش و نگار سے مزین اینٹیں. مٹی کی بنی ہوئی کنگھیاں اور آٹا، چاول اور جو پیسنے والی قدیم مٹی کی چکیوں کی باقیات ملی ہیں. اس آبادی کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاتا کیسے زمین بوس ہوئی اور صفہ ہستی سے مٹ گئی عام خیال یہ ہی نظر آتا ہے جب دریا پران خشک ہوا تب یہ آبادی بھی ختم ہوگئی یا نقل مکانی کرگئی. یا ایسا لگتا ہے بے رحم سیلاب نے اس آبادی کو بہا دیا ہوگا. کچھ بھی ہے اس ٹیلے کے نیچے سندھ کی ایک قدیم تہذیب دفن ہے جو محکمہ آثار قدیمہ کی توجہ کی منتظر ہے. محکمہ آثار قدیمہ نے اگر سنجیدگی سے اس جگہ کا معائنہ کیا اور کھودائی کی تو ہم تاریخ کی ایک ایسی دنیا میں جاسکتے ہیں جہاں ہمیں پران دریا کے کنارے دفن راز آشکار ہوں.

یہی سب سوچتے ہم اس علاقے سے واپس آگئے اور اب بھی یہ خیال دل میں گھوم رہا ہے کہ آج ہم ہزاروں سال پہلے آبادیوں کی کھوج میں ہیں اور انہیں پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کل ہزاروں سال بعد لوگ ہمارے شہروں جو منوں مٹی تلے دب جائیں گے کے اوپر گھومتے ہماری کھوج لگارہے ہوں گے ـ

ضرب_تحریر


افکار و نظریات: میندھروں کا ٹیلہ