مری کا بائیکاٹ کیوں!؟

پاکستان میں مہمان نواز لوگوں کی کمی نہیں، مہمان نوازی ہمیں  دینی و ثقافتی طور پر ورثے میں ملی ہے۔  گزشتہ  چند سالوں سے مری میں سیاحت کی غرض سے  آنے والے مہمانوں  کے ساتھ مقامی لوگوں نے  جو توہین آمیز رویہ  اختیار کر رکھا ہے اس سے ملک و دین کی بدنامی ہو رہی ہے۔ آئے روز مسافر سیّاحوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے اور حکومتی ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ یاد رکھئے مہمانوں کے ساتھ بد اخلاقی ، ذہنی عقب ماندگی کی علامت ہے، اس کا علاج عوامی شعور کی سطح بلند کرنے سے ہی ممکن ہے۔ عوامی شعور کو بلند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے عوام خود میدان میں اتریں اور  مری جانے کا بائیکاٹ کریں۔

پاکستان میں سیاحتی مقامات  اور مہمان نواز لوگوں کی بھرمار ہے، ہمیں خود چاہیے کہ ہم اُن علاقوں کو سیر و تفریح کے لئے منتخب کریں جہاں کے عوام خوش اخلاق اور  ملنسار  ہوں۔

عوام کی سہولت کے لئے سیاحتی مقامات کی ایک فہرست ہم بھی فراہم کئے دیتے ہیں تاکہ لوگ  مری میں جا کر دھکے کھانے کے بجائے متبادل علاقوں کا انتخاب کر سکیں۔ اس وقت  ہم  قارئین کی سہولت کے لئے کچھ سیاحتی و تفریحی مقامات  کی فہرست پیش کر رہے ہیں :

اسلام آباد میں : دامن کوہ،راول جھیل،سلسلہ کوہ مارگلہ،سیدپور، اسلام آباد،شاہدرہ گاؤں،شکر پڑياں،مارگلہ ہل نیشنل پارک،پیر سہاوا،گولڑہ شریف ریلوے عجائب گھر

خیبر پختونخواہ میں: اوشیرئی درہ،بحرینِ پاکستان،جاروگو،جہاز بانڈہ،سیدو شریف،شوگران، سوات،مالم جبہ،مکڑا چوٹی،ناران

نتھیا گلی،وادی کاغان،ٹھنڈیانی،کالام،کمراٹ

آزاد کشمیر میں: بنجوسہ جھیل،تولی پیر،داو خان،شاردا،لاس ڈانا،وادی تابت،وادی جہلم،وادی نیلم،پنجال مستان،پیر چناسی،چاننیاں،کٹن،کیرن، کیل

گلگت بلتستان میں:  پورے کا پورا گلگت بلتستان  قدرتی حسن سے مالا مال ہے ، آپ جہاں کا بھی رخ کریں گے یادگار سفر ہوگا۔

اس کے علاوہ پاکستان  میں ان گنت تاریخی مقامات اور خوبصورت آبشاریں اور جھیلیں بھی موجود ہیں۔

دوسری طرف یہ حکومت کی بھی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ حکومت مری کے  مقامی لوگوں کو آئین و قانون کے مطابق نکیل ڈالے اور سیاحوں کی جان و مال نیز عزت و ناموس کے تحفظ کو یقینی بنائے۔اسی طرح ملک کے دیگر خوبصورت علاقوں میں عوام کے لئے پکنک پوائنٹس بنانا بھی حکومت کی ہی زمہ داری ہے۔

بہر حال جب تک حکومت کی آنکھیں نہیں کھلتیں تب تک عوام کو خود ہی اپنے تحفظ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور مری جیسے علاقوں کا سفر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ادارتی نوٹ

وائس آف نیشن


افکار و نظریات: مری کا بائیکاٹ کیوں