مری والو! مورخ لکھے گا

نذر حافی

مورخ لکھے گا کہ کبھی مری کے  پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی قوم بستی تھی، جس  پر اللہ کا خصوصی کرم تھا، لوگ دور دور سے اس علاقے کا حسن دیکھنے آتے تھے، جس کی وجہ سے وہاں زمین و آسمان سے رزق برستا تھا اور وہاں  کی مٹی بھی سونے کے بہاو بکتی تھی، پھر اس بستی والوں نے خدا کی ناشکری کی اور اپنے نبیﷺ کی تعلیمات کو ٹھکراتے ہوئے ، اپنے ہاں آنے والے مہمانوں کی توہین شروع کر دی ، خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے اور گراں فروشی کے عادی ہوگئے، جب ان کا ظلم انتہا کو پہنچا تو خداوند عالم نے اس ملک کے لوگوں کے دل, اس بستی  والوں سے پھیر دئیے اور لوگوں نے اس بستی سے منہ موڑ لیا اور سیاح دیگر علاقوں کو جانے لگے۔

جب اللہ کے بندے اس بستی والوں سے ناراض ہوئے تو وہ بستی ملکہ کوہسار سے وادی مردار میں تبدیل ہوگئی ، اس کا حسن خوف اور سنّاٹے میں تبدیل ہوگیا،وہاں مغرب کے وقت سورج غروب ہوتے ہی وحشت ناک تاریکی چھا جاتی،  کتے بھونکنے لگتے اور گیدڑ بھنبنانے لگتے،  اور صبح کا سورج  طلوع ہوتے ہی وہاں کے مکین بغلوں میں مرغ دبائے ہوئے نکلتے اور سارا دن مرغ لڑاتے رہتے، اگر کبھی کوئی بھولا بسرا مسافر اس طرف آ بھی نکلتا تو وہ اس بستی پر وحشت کے آثار دیکھ کر اپنی گاڑی کی رفتار اور بھی بڑھا لیتا کہ مبادا عذابِ خدا کی کوئی پرچھائی اس پر نہ پڑ جائے۔

ایک زمانہ تھا کہ جب لوگ فخر سے بتاتے تھے کہ ہمارا تعلق مری سے ہے اور پھر ایک ایسا زمانہ آیا کہ مری کا لفظ گالی بن گیا اور لوگ مری کا نام لینے سے بھی کترانے لگے۔

nazarhaffi@gmail.com


افکار و نظریات: مری والو, مورخ لکھے گا