مری میں جاری غنڈہ گردی


نسیم شاہد
کل میری مشتاق خان مگسی سے ملاقات ہوئی،وہ گزشتہ 35برسوں سے بنکاک میں مقیم ہیں اور دو دہائیوں سے وہ بنکاک میں اپنا ہوٹل چلا رہے ہیں۔
پاکستان کے تمام سیاست دان، بڑے صحافی، صنعت کار اور حکمران طبقے کے افراد اُن کے ہاں ٹھہرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بنکاک میں چار ہزار سے زائد ہوٹل ہیں، روزانہ60ہزار غیر ملکی سیاح وہاں آتے ہیں۔ نسیم شاہد لکھتے ہیں کہ۔۔۔وہاں سیاحوں کو بڑی عزت دی جاتی ہے۔اُن کے لئے ہر تھائی باشندہ دیدہ و دل فرشِ راہ کئے رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاحت سے بنکاک ہی نہیں، پورا تھائی لینڈ معاشی طور پر خوشحال ہو چکا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے باوجود وہاں ہوٹلوں کے کرائے انتہائی مناسب ہیں، وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ سیاحوں کی تعداد بڑھ جائے تو کرائے بھی بڑھا دیئے جائیں، جو کرائے مشتہر ہیں، ہر صورت میں وہی وصول کئے جاتے ہیں۔مَیں مشتاق خان مگسی کی باتیں سُن رہا تھا تو مجھے سوشل میڈیا پر چلنے والی وہ مہم یاد آ گئی، جس میں لوگوں کو مری کے بائیکاٹ کی ترغیب دی جا رہی ہے۔، مری جو ہمارا واحد سیاحتی مقام ہے، آج کل خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔پچھلے دِنوں ایسے متعدد واقعات پیش آئے، جن میں فیملی کے ساتھ آنے والے سیاحوں کو بھی ہوٹل مالکان کے کارندوں نے کرائے کی بابت معمولی بحث کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا، انہیں سڑک پر ان کے بچوں کے سامنے مارا اور کہا کہ جسے مری کے کرایوں پر اعتراض ہے، وہ اِدھر کا رُخ نہ کرے۔ یہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔
مری کسی مافیا کے قبضے میں نہیں، بلکہ وہاں حکومتِ پنجاب کی عملداری ہے، وہاں پولیس اور انتظامی افسر بیٹھتے ہیں، پھرایسا کیوں ہے کہ سیاحوں کو دن دیہاڑے پیٹا جاتا ہے اور انتظامیہ نوٹس نہیں لیتی؟ اگر کسی سیاحتی مقام کے بارے میں یہ مشہور ہو جائے کہ وہاں غنڈہ راج قائم ہو چکا ہے تو کون وہاں کا رخ کرے گا؟ یہ پولیس کے کرنے کا کام تو ہے ہی، تاہم انتظامیہ، محکمہ ایکسائز، محکمہ فوڈ اور دیگر سرکاری محکموں کو بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہوٹل مالکان کیا سہولتیں فراہم کر رہے ہیں اور اُن کے عوض کتنا کرایہ وصول کرتے ہیں ؟ پھر اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ سیاحوں کے ساتھ کوئی ہوٹل مالک صرف اِس لئے بُرا سلوک نہ کرے کہ اُس نے غیر معیاری کھانے،رہائش یا زائد کرائے کی شکایت کی ہے۔مری کی سیر کے لئے پورے مُلک کے لوگ آتے ہیں، ہزاروں روپے خرچ کر کے وہاں پہنچتے ہیں، اکثر فیملی کے ساتھ آتے ہیں اور یہ امید لے کر آتے ہیں کہ مری میں انہیں خوبصورت موسم، خوبصورت نظاروں اور خوبصورت ماحول میں وقت گزارنے کا موقع ملے گا،لیکن یہاں کی فضا اب مسموم ہوتی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر جس طرح فیملی کے ساتھ آنے والے یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ہوٹلوں کے کرائے من مانے ہیں اور مالکان کا رویہ بھی ہتک آمیز ہے،اسی طرح وہ اِس بات کی بھی شکایت کر رہے ہیں کہ آوارہ نوجوانوں کے غول وہاں گھومتے ہیں، خواتین پر آوازے کستے ہیں، انہیں چھیڑتے ہیں، جس سے فیملی کے ساتھ آنے والوں کے لئے ناقابلِ برداشت صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ایسی باتیں سُن کر تو یہی لگتا ہے جیسے مری میں انتظامیہ نام کی کوئی شے موجود نہیں، اگر ہے تو اُس نے اپنے مفادات کے لئے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔
کیا اسسٹنٹ کمشنر مری کو یہ ساری باتیں نظر نہیں آ رہیں، کیا پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کے باعث مُلک کے خوبصورت ترین سیاحتی مقام کے بارے میں غلط تاثر نہیں پھیل رہا، کیا اس کا فوری تدارک کرنے کی ضرورت نہیں؟ اتنے دِنوں سے لوگ پلے کارڈ اُٹھا کر مری میں ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ مافیا اور ان کے کارندوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ’’مری کا بائیکاٹ کرو‘‘ کی مہم چلائے ہوئے ہیں، اس کا توڑ کرنے کے لئے پولیس یا انتظامیہ کی طرف سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔جس طرح موٹروے کو ملکی قانون سے آزاد کر دیا گیا ہے اور اس پر موجود قیام و طعام کے مقامات میں ایک روپے کی چیز کے دس روپے وصول کئے جاتے ہیں، کوئی بولے تو اسے سبق سکھایا جاتا ہے، اسی طرح مری میں بھی ایک مافیا سرگرم ہو چکا ہے جو اس مقام کو سیاحوں کے لئے باعث اذیت اور اپنے لئے باعث مفاد بنانے پر تلا ہوا ہے۔
پاکستان کا محکمہ ٹورازم کہاں سویا ہوا ہے، اس کا کیا کام ہے، وہ کیا کررہا ہے؟ اگر مری جیسے تفریحی مقام کو وہ ایسے ماحول میں ڈھلتا دیکھ رہا ہے، جو کسی بھی طرح سیاحتی مقام کے شایانِ شان نہیں تو باقی جگہوں پر اس کی کارکردگی کیا ہوگی؟ دُنیا بھر میں سیاحت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ سیاحوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں پیدا کی جائیں۔ پاکستان تو ویسے ہی اپنی دہشت گردی کی شہرت کے باعث غیر ملکی سیاحوں کے لئے شجر ممنوعہ بنا ہوا ہے، اپنے مُلک کے سیاحوں کو بھی ہم تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
شاید محکمہ ٹورازم، مری انتظامیہ، پولیس اور ہوٹل مالکان کی سوچ یہ ہے کہ مری کے سوا چونکہ عوام کے پاس کوئی چوائس نہیں،اِس لئے انہوں نے ہر صورت میں یہاں آنا ہے، چاہے انہیں دھکے ملیں یا ان کے ساتھ لوٹ مار کی جائے۔یہ انتہائی منفی سوچ ہے۔اس سے مری کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا،بلکہ رفتہ رفتہ لوگ دوسرے مقامات پر جانا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت جو بائیکاٹ مہم چل رہی ہے،چاہے اس کے اثرات بہت گہرے نہ ہوں، مگر ایک بنیاد ضرور پڑ جائے گی۔یہ بھی شاید دُنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہو گی کہ سیاح سیاحتی مقام کے ہوٹل مالکان اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں، حالانکہ ان دونوں کے درمیان تو انتہائی خوشگوار تعلق قائم ہونا چاہئے۔

مری انتظامیہ اور محکمہ فوڈ و ٹورازم کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ مری کے ہوٹلوں کا سروے کرکے انہیں اے بی سی کیٹگریز میں تقسیم کریں۔اس کے بعد ان کے کرائے متعین کر دیں۔ موسم گرما اور موسم سرما کے لئے کرایوں کا تعین علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر پنجاب حکومت ٹرانسپورٹ کے کرائے طے کرتی ہے تو ہوٹلوں کے کرائے کیوں نہیں طے کئے جا سکتے۔ اس سے ان جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور سیاحوں کو بھی معلوم ہوگا کہ کس ہوٹل میں کمرے کا کرایہ کیا ہے۔اسی طرح فوڈ اتھارٹی کو بھی چھوٹے شہروں سے نکل کر مری کا رخ کرنا چاہئے۔
کھانے کا معیار، کچن کی صورتِ حال، کھانوں کے نرخ وغیرہ پر نظر رکھنی چاہئے۔ یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ مری میں زیادہ تر پردیسی گھومتے ہیں، جن کے مفادات کا تحفظ فرضِ اولین ہونا چاہئے، کیونکہ وہ ہر ماہ کروڑوں روپے مری میں آکر خرچ کرتے ہیں۔مَیں پچھلے کئی دِنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ بائیکاٹ مہم میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ نہ صرف مری، بلکہ راولپنڈی، پشاور، کراچی اور لاہور میں بھی مری میں بُری صورتِ حال کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔حیرت ہے کہ ابھی تک اِس کا نوٹس نہیں لیا گیا اور کسی ذمہ دار محکمے کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا کہ مری میں کسی کو سیاحوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرنے دی جائے گی اور وہاں سیکیورٹی کا نظام مزید بہتر بنا دیا گیا ہے۔
حیرت اِس لئے بھی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ حلقہ ہے، مگر کوئی قدم نہیں اُٹھایا جا رہا۔ اس وقت یہ مہم اس نکتے پر چلائی جا رہی ہے کہ تین ماہ کے لئے مری کا بائیکاٹ کیا جائے، لوگ، مری آنا چھوڑ دیں، شنگریلا، مظفرآباد، مالم جبہ، ایبٹ آباد اور دیگر علاقوں کا رُخ کریں، تاکہ مری کے ہوٹل مالکان کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔یہ درست ہے کہ اِس قسم کی مہم کبھی سو فیصد کامیاب نہیں ہوتی، لیکن سوال یہ ہے کہ مری جیسے تفریحی مقام کے بارے میں اِس قسم کا تاثر پھیلے ہی کیوں کہ وہاں سیاحوں کے ساتھ بُرا سلوک بھی کیا جاتا ہے اور لوٹ مار بھی۔
مری جسے ملکۂ کوہسار کہا جاتا ہے اور ایک زمانے میں اس کے مال روڈ پر سیاح اپنی فیملیوں کے ساتھ بے فکری کے ساتھ گھومتے تھے، اب ایک خوف و ہراس کی فضا کے نرغے میں آ چکا ہے۔آوارہ نوجوانوں پر نظر رکھنے کے لئے پولیس کیوں تعینات نہیں کی جاتی؟یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ مری کی پولیس کا بنیادی کام تو یہی ہے کہ وہ اس سیاحتی مقام کو پُرامن اور سیاحوں کے لئے محفوظ بنائے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اس صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہئے۔اس بارے میں فوری رپورٹ طلب کرنی چاہئے اور ساتھ ہی ایک کمیٹی بنا کر مری کے لئے ایک متفقہ ضابطۂ اخلاق بنانا چاہئے،جس میں سیاحوں کے ساتھ ساتھ ہوٹل مالکان کے تحفظات کا حل بھی موجود ہو ۔مری کو مزید پُرکشش اور پُرامن حیثیت کا حامل سیاحتی مقام بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے، نہ کہ اسے چند فیصد مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔


افکار و نظریات: مری میں جاری غنڈہ گردی