اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مری میں جاری غنڈہ گردی مری انتظامیہ اور محکمہ فوڈ و ٹورازم کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ مری کے ہوٹلوں کا سروے کرکے انہیں اے بی سی کیٹگریز میں تقسیم کریں۔اس کے بعد ان کے کرائے متعین کر دیں۔ موسم گرما اور موسم سرما کے لئے کرایوں کا تعین علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر پنجاب حکومت ٹرانسپورٹ کے کرائے طے کرتی ہے تو ہوٹلوں کے کرائے کیوں نہیں طے کئے جا سکتے۔ اس سے ان جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور سیاحوں کو بھی معلوم ہوگا کہ کس ہوٹل میں کمرے کا کرایہ کیا ہے۔اسی طرح فوڈ اتھارٹی کو بھی چھوٹے شہروں سے نکل کر مری کا رخ کرنا چاہئے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
نسیم شاہد
کل میری مشتاق خان مگسی سے ملاقات ہوئی،وہ گزشتہ 35برسوں سے بنکاک میں مقیم ہیں اور دو دہائیوں سے وہ بنکاک میں اپنا ہوٹل چلا رہے ہیں۔
پاکستان کے تمام سیاست دان، بڑے صحافی، صنعت کار اور حکمران طبقے کے افراد اُن کے ہاں ٹھہرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بنکاک میں چار ہزار سے زائد ہوٹل ہیں، روزانہ60ہزار غیر ملکی سیاح وہاں آتے ہیں۔ نسیم شاہد لکھتے ہیں کہ۔۔۔وہاں سیاحوں کو بڑی عزت دی جاتی ہے۔اُن کے لئے ہر تھائی باشندہ دیدہ و دل فرشِ راہ کئے رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاحت سے بنکاک ہی نہیں، پورا تھائی لینڈ معاشی طور پر خوشحال ہو چکا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے باوجود وہاں ہوٹلوں کے کرائے انتہائی مناسب ہیں، وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ سیاحوں کی تعداد بڑھ جائے تو کرائے بھی بڑھا دیئے جائیں، جو کرائے مشتہر ہیں، ہر صورت میں وہی وصول کئے جاتے ہیں۔مَیں مشتاق خان مگسی کی باتیں سُن رہا تھا تو مجھے سوشل میڈیا پر چلنے والی وہ مہم یاد آ گئی، جس میں لوگوں کو مری کے بائیکاٹ کی ترغیب دی جا رہی ہے۔، مری جو ہمارا واحد سیاحتی مقام ہے، آج کل خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔پچھلے دِنوں ایسے متعدد واقعات پیش آئے، جن میں فیملی کے ساتھ آنے والے سیاحوں کو بھی ہوٹل مالکان کے کارندوں نے کرائے کی بابت معمولی بحث کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا، انہیں سڑک پر ان کے بچوں کے سامنے مارا اور کہا کہ جسے مری کے کرایوں پر اعتراض ہے، وہ اِدھر کا رُخ نہ کرے۔ یہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔
مری کسی مافیا کے قبضے میں نہیں، بلکہ وہاں حکومتِ پنجاب کی عملداری ہے، وہاں پولیس اور انتظامی افسر بیٹھتے ہیں، پھرایسا کیوں ہے کہ سیاحوں کو دن دیہاڑے پیٹا جاتا ہے اور انتظامیہ نوٹس نہیں لیتی؟ اگر کسی سیاحتی مقام کے بارے میں یہ مشہور ہو جائے کہ وہاں غنڈہ راج قائم ہو چکا ہے تو کون وہاں کا رخ کرے گا؟ یہ پولیس کے کرنے کا کام تو ہے ہی، تاہم انتظامیہ، محکمہ ایکسائز، محکمہ فوڈ اور دیگر سرکاری محکموں کو بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہوٹل مالکان کیا سہولتیں فراہم کر رہے ہیں اور اُن کے عوض کتنا کرایہ وصول کرتے ہیں ؟ پھر اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ سیاحوں کے ساتھ کوئی ہوٹل مالک صرف اِس لئے بُرا سلوک نہ کرے کہ اُس نے غیر معیاری کھانے،رہائش یا زائد کرائے کی شکایت کی ہے۔مری کی سیر کے لئے پورے مُلک کے لوگ آتے ہیں، ہزاروں روپے خرچ کر کے وہاں پہنچتے ہیں، اکثر فیملی کے ساتھ آتے ہیں اور یہ امید لے کر آتے ہیں کہ مری میں انہیں خوبصورت موسم، خوبصورت نظاروں اور خوبصورت ماحول میں وقت گزارنے کا موقع ملے گا،لیکن یہاں کی فضا اب مسموم ہوتی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر جس طرح فیملی کے ساتھ آنے والے یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ہوٹلوں کے کرائے من مانے ہیں اور مالکان کا رویہ بھی ہتک آمیز ہے،اسی طرح وہ اِس بات کی بھی شکایت کر رہے ہیں کہ آوارہ نوجوانوں کے غول وہاں گھومتے ہیں، خواتین پر آوازے کستے ہیں، انہیں چھیڑتے ہیں، جس سے فیملی کے ساتھ آنے والوں کے لئے ناقابلِ برداشت صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ایسی باتیں سُن کر تو یہی لگتا ہے جیسے مری میں انتظامیہ نام کی کوئی شے موجود نہیں، اگر ہے تو اُس نے اپنے مفادات کے لئے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔
کیا اسسٹنٹ کمشنر مری کو یہ ساری باتیں نظر نہیں آ رہیں، کیا پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کے باعث مُلک کے خوبصورت ترین سیاحتی مقام کے بارے میں غلط تاثر نہیں پھیل رہا، کیا اس کا فوری تدارک کرنے کی ضرورت نہیں؟ اتنے دِنوں سے لوگ پلے کارڈ اُٹھا کر مری میں ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ مافیا اور ان کے کارندوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ’’مری کا بائیکاٹ کرو‘‘ کی مہم چلائے ہوئے ہیں، اس کا توڑ کرنے کے لئے پولیس یا انتظامیہ کی طرف سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔جس طرح موٹروے کو ملکی قانون سے آزاد کر دیا گیا ہے اور اس پر موجود قیام و طعام کے مقامات میں ایک روپے کی چیز کے دس روپے وصول کئے جاتے ہیں، کوئی بولے تو اسے سبق سکھایا جاتا ہے، اسی طرح مری میں بھی ایک مافیا سرگرم ہو چکا ہے جو اس مقام کو سیاحوں کے لئے باعث اذیت اور اپنے لئے باعث مفاد بنانے پر تلا ہوا ہے۔
پاکستان کا محکمہ ٹورازم کہاں سویا ہوا ہے، اس کا کیا کام ہے، وہ کیا کررہا ہے؟ اگر مری جیسے تفریحی مقام کو وہ ایسے ماحول میں ڈھلتا دیکھ رہا ہے، جو کسی بھی طرح سیاحتی مقام کے شایانِ شان نہیں تو باقی جگہوں پر اس کی کارکردگی کیا ہوگی؟ دُنیا بھر میں سیاحت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ سیاحوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں پیدا کی جائیں۔ پاکستان تو ویسے ہی اپنی دہشت گردی کی شہرت کے باعث غیر ملکی سیاحوں کے لئے شجر ممنوعہ بنا ہوا ہے، اپنے مُلک کے سیاحوں کو بھی ہم تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
شاید محکمہ ٹورازم، مری انتظامیہ، پولیس اور ہوٹل مالکان کی سوچ یہ ہے کہ مری کے سوا چونکہ عوام کے پاس کوئی چوائس نہیں،اِس لئے انہوں نے ہر صورت میں یہاں آنا ہے، چاہے انہیں دھکے ملیں یا ان کے ساتھ لوٹ مار کی جائے۔یہ انتہائی منفی سوچ ہے۔اس سے مری کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا،بلکہ رفتہ رفتہ لوگ دوسرے مقامات پر جانا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت جو بائیکاٹ مہم چل رہی ہے،چاہے اس کے اثرات بہت گہرے نہ ہوں، مگر ایک بنیاد ضرور پڑ جائے گی۔یہ بھی شاید دُنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہو گی کہ سیاح سیاحتی مقام کے ہوٹل مالکان اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں، حالانکہ ان دونوں کے درمیان تو انتہائی خوشگوار تعلق قائم ہونا چاہئے۔
کھانے کا معیار، کچن کی صورتِ حال، کھانوں کے نرخ وغیرہ پر نظر رکھنی چاہئے۔ یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ مری میں زیادہ تر پردیسی گھومتے ہیں، جن کے مفادات کا تحفظ فرضِ اولین ہونا چاہئے، کیونکہ وہ ہر ماہ کروڑوں روپے مری میں آکر خرچ کرتے ہیں۔مَیں پچھلے کئی دِنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ بائیکاٹ مہم میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ نہ صرف مری، بلکہ راولپنڈی، پشاور، کراچی اور لاہور میں بھی مری میں بُری صورتِ حال کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔حیرت ہے کہ ابھی تک اِس کا نوٹس نہیں لیا گیا اور کسی ذمہ دار محکمے کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا کہ مری میں کسی کو سیاحوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرنے دی جائے گی اور وہاں سیکیورٹی کا نظام مزید بہتر بنا دیا گیا ہے۔
حیرت اِس لئے بھی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ حلقہ ہے، مگر کوئی قدم نہیں اُٹھایا جا رہا۔ اس وقت یہ مہم اس نکتے پر چلائی جا رہی ہے کہ تین ماہ کے لئے مری کا بائیکاٹ کیا جائے، لوگ، مری آنا چھوڑ دیں، شنگریلا، مظفرآباد، مالم جبہ، ایبٹ آباد اور دیگر علاقوں کا رُخ کریں، تاکہ مری کے ہوٹل مالکان کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔یہ درست ہے کہ اِس قسم کی مہم کبھی سو فیصد کامیاب نہیں ہوتی، لیکن سوال یہ ہے کہ مری جیسے تفریحی مقام کے بارے میں اِس قسم کا تاثر پھیلے ہی کیوں کہ وہاں سیاحوں کے ساتھ بُرا سلوک بھی کیا جاتا ہے اور لوٹ مار بھی۔
مری جسے ملکۂ کوہسار کہا جاتا ہے اور ایک زمانے میں اس کے مال روڈ پر سیاح اپنی فیملیوں کے ساتھ بے فکری کے ساتھ گھومتے تھے، اب ایک خوف و ہراس کی فضا کے نرغے میں آ چکا ہے۔آوارہ نوجوانوں پر نظر رکھنے کے لئے پولیس کیوں تعینات نہیں کی جاتی؟یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ مری کی پولیس کا بنیادی کام تو یہی ہے کہ وہ اس سیاحتی مقام کو پُرامن اور سیاحوں کے لئے محفوظ بنائے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اس صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہئے۔اس بارے میں فوری رپورٹ طلب کرنی چاہئے اور ساتھ ہی ایک کمیٹی بنا کر مری کے لئے ایک متفقہ ضابطۂ اخلاق بنانا چاہئے،جس میں سیاحوں کے ساتھ ساتھ ہوٹل مالکان کے تحفظات کا حل بھی موجود ہو ۔مری کو مزید پُرکشش اور پُرامن حیثیت کا حامل سیاحتی مقام بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے، نہ کہ اسے چند فیصد مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
افکار و نظریات: مری میں جاری غنڈہ گردی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں