🌹    غیرت مند پاکستانی🌹

   تحریر ( گلزار حسین فکشن رائٹر)

برتن کے اندر جو بھی ہوتا ہے وہی نکل کر باہر آتا ہے, اسی طرح کسی انسان کی تربیت میں بھی جو چیز شامل ہوتی ہے وہ ضرور نکل کر باہر آتی ہے اور باالآخر دوسروں کو اس کا اس کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے,  ایک بات آپ سب کو باور کراتا جاؤں کہ محبت ہو یا نفرت دونوں انسان کو تربیت سے ملتی ہیں, آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک پھول سے ہمیشہ خوشبو ہی آتی ہے اور مردہ جانور یا غلاظت سے بدبو ہی آتی ہے,

دوستو! 

اسی طرح جس انسان کی تربیت میں ملک و ملت کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی جاتی ہے اسے آپ ہاتھ لگائیں گے یا چھیڑ چھاڑ کریں گے تو اس کے اندر سے وطن سے محبت کی خوشبو ملے گی جس سے آپ اندازہ لگانے میں کامیاب ہوسکیں گے کہ یہ شخص ملک و ملت کا محب ہے اور ماں دھرتی پہ جان نثار کرنے والا ہے,

اسی طرح دوسرے سے بات کرکے دیکھ لیں جس کی تربیت میں دھن دولت, غداری, ملک دشمنی, کرپشن, اور غلاظت بھری ہوگی, وہ اپنی زات کو بالاتر جانتے ہوۓ ملک و ملت کو اپنے قدموں کی خاک سمجھے گا اور معلوم ہوسکے گا کہ یہ بندہ ضمیر فروش ہے یہ بندہ دھوکے باز ہے جو ریاست اور اپنی ریاست میں رہنے والوں کے خلاف زہر رکھتا ہو وہ غدار وطن ہوگا جس کی تربیت میں وہ زہر شامل تھا,

آپ میری بات کو ضرور سمجھ چکے ہوں گے, میرا قلم رب کی عطاء ہے,  یہ بکنے والا نہیں,  نہ ہی یہ کسی پارٹی کا قلم ہے, یہ قلم نواز شریف کو غدار لکھتا ہے کیونکہ اس کے اندر سے اور اسکی صاحبزادی کے اندر سے جو زہر نکل رہا ہے وہ ان کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے اور واضح بدبو آرہی ہے کہ اس شخص کے اندر بہت کچھ بھرا ہوا ہے جو یہ نکال رہا ہے اور نکالنے والا ہے,  مجھے اس سے کوئ زاتی دشمنی نہیں مگر اب جو کچھ ہورہا ہے اسے میں برداشت نہیں کر سکتا اس بندے کو اس سے پہلے کہ عدالت روکے,  ادارے روکیں, میڈیا کہے کہ بس کر ان سب سے پہلے عوام کو چاہئیے کہ وہ اسے اس غلاظت کے پھینکنے سے منع کردیں,  یہ بھی سو فیصد سچ ہوسکتا ہے کہ نواز شریف کے پاس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ثبوت ہونگے فوج کے خلاف زہر بھرا پڑا ہوگا,  کیونکہ بچہ تو نہیں ہے نواز شریف, اس لیے تمام اداروں کےلیے ازحد ضروری ہوچکا ہے کہ نواز شریف کو سیدھا کیا جاۓ ورنہ کچھ دنوں تک بیرونی دباؤ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے,  اور الٹی کلابازی دیکھنے کو مل سکتی ہے, اس وقت صرف نواز شریف ہی نہیں تمام سیاستدانوں کو تربیت کی ضرورت ہے کہ ملکی سلامتی کی بات جب آۓ تو کیسے بولنا چاہئیے,  کب بولنا چاہئیے, کہاں اور کیسے بولنا چاہئیے,

بلاول کی تربیت کو بھی یہ غریب عوام اچھی طرح جانتی ہے جو کہ ایک طوطا ہے جس کے دل سے آواز نہیں نکل رہی ہوتی,  جو کہ اردو کے لب و لہجے سے کوسوں دور بیٹھا ہے, اس سے بڑی شرم کی کیا بات ہوگی کہ پی پی پی آج تک بے نظیر کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکی, یہ بھی ہوسکتا ہے قاتل انکی گود میں یا یہ ان کی گود میں کھیل رہا ہو, عمران خان صاحب بھی غیرملکی میڈیا سے جب بات کرتے ہیں تو مثبت الفاظ نہیں نکلتے,  بحرحال صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے,  کچھ دنوں تک پاکستان پہ عالمی پریشر بڑھ سکتا ہے,  الیکشن کے بعد کچھ معائدے غیر مفید ہوسکتے ہیں, محترم میاں نواز شریف صاحب کو چاہئیے کہ زبان کا استعمال ادبی بنائیں جو زبان وہ آجکل استعمال کر رہے ہیں وہ سابق وزیر اعظم کی شایان شان نہیں,, لیکن ان صاحب کے اندر سے جو نکل رہا ہے وہ بہت خطرناک نتائج لا سکتا ہے.

ہمارا ملک انہی صاحبان کی وجہ سے تزلیل کا شکار ہے,  غدار وطن کو بھی تاریخ یاد رکھے گی لیکن محب وطن ہونا اعزاز کی بات ہے

اس لیے معافی کی گنجائش ہوتی ہے کیونکہ انسان سے غلطی ہوجاتی ہے اور وہ توبہ کرلیتا ہے جس پہ اللہ معاف فرمادیتا ہے ہم کون ہوتے ہیں ؟لیکن شیطانی صفت یہ بے کہ شیطان میں اکڑ رہتی ہے اور وہ اسے برباد کرکے رکھ دیتی ہے, لیکن بات تو تربیت کی ہے

کہ کس کی تربیت میں کیا شامل ہے, ہم سب کو ایک ہوکر ملک و ملت سے محبت کا اظہار کرنا ہوگا .یہی غیرت مند پاکستانی کی پہچان ہے.


افکار و نظریات: غیرت مند پاکستانی