مربھی جائیں مگر مری نہ جائیں

منصور ندیم

ایک صاحب گھومنے کے لئے ایک پہاڑی علاقے میں گئے، اس علاقے میں داخل ہوئے تو بازار میں دکانوں پر چیزیں دیکھنے لگے، سردی کا احساس ہورہا تھا کیونکہ اس علاقے کا شمار ذرا ٹھنڈے علاقوں میں ہوتا ہے ، انہوں نے ایک دکان میں ایک جیکٹ دیکھی اور پہن کر دیکھی پھر ایک سیلفی لے کر کسی دوست کو بھیجی اور دکاندار سے اس کی قیمت پوچھی، قیمت کا سن کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، خاموشی سے مسکراتے ہوئے جیکٹ اتاری اور دکان سے باہر کی راہ لی، لیکن پیچھے سے آواز آئی ، بھائی پیسے دے دیں وہ حیران ہوئے اور کہا کہ بھائی میں نے جیکٹ لی کہاں ہے، دکاندار نے انتہائی بد تمیزی اور رعونت زدہ لہجے میں کہا جیکٹ لینے کی تمہاری اوقات ہی کہاں ہے ہم تو ۳۰۰ روپے اس جیکٹ کو پہن کر لی جانے والی سیلفی کا مانگ رہے ہیں،  ان صاحب نے جواب میں کافی احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن تمام دکاندار جمع ہوچکے تھے اور سب کا متفقہ فیصلہ یہی تھا کہ آپ کو سیلفی کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

جی ہاں اب تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ ہم کوہ مری کی بات کر رہے ہیں، حالیہ دنوں میں مری والوں کے خلاف جو ایک بائیکاٹ کی تحریک چل رہی ہے، اس کی مختلف ویڈیوز اور لوگوں کے تجربات سوشل میڈیا پر نظر آرہے  ہیں  کہ مری کے ٹرانسپورٹرز ، دوکانداروں اور دیگر لوگوں کے بارے میں لکھا جا رہا ہے کہ وہ مہنگی چیزیں بیچتے ہیں۔ وہاں کے لوگ اچھے مزاج کے نہیں وغیرہ وغیرہ۔کچھ دوستوں کے آنکھوں دیکھے تجربات یہ ہیں ۔

 یہاں ہر ہوٹل پر کھانا بے حد مہنگا ہے۔

مال روڈ پر 15 روپے کا sooper بسکٹ 40 روپے کا ملتا ہے۔

منرل واٹر کی 50 روپے کی بوتل 130 کی ملتی ہے۔

آلو کی چپس ایک پلیٹ 200 کی ہے۔

ایک درجن کباب 900 روپے کے ملتے ہیں وہ بھی بُو والے اور اگر شکایت کریں تو دنگا فساد کیا جاتا ہے۔

بدبودار اور گندے واش رومز میں جانے کے لیے 100 روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔

اکثر جگہ کار پارکنگ 500 سے 600 روپے تک  کی ہے۔

عام طور پر 500/600 روپے میں دستیاب بچوں کے کھلونے 2000 تک کے ملتے ہیں۔ موبائیل فون کا  100 روپے والا کارڈ  آپ کو 120 روپے میں ملے گا۔

ہوٹل کے کمرے انتہائی گندے، بدبودار اور مہنگے ہیں۔اور کہا جاتا ہے کہ ہر وقت گرم پانی ملے گا مگر وہاں ضرورت کے لیے “پانی” تک نہیں ہوتا۔ گرم تو دور کی بات ہے۔

ایک دوست بتا رہا تھا کہ فیملی کے سامنے انھیں ہوٹل کے سوئیپر نے گالیاں دیں کہ وہ گند کی ٹوکری نہیں اٹھائے گا خود باہر پھینک آئیں۔ جب مینیجر سے شکایت کی تو سوئیپر کی سائیڈ لیتے ہوئے اس نے بھی یہی کہا کیونکہ وہ ایڈوانس میں پیسے لے چکا تھا۔
مری کے لوگ انتہائی بد تہزیب اور لڑاکا ہیں۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہیں ہوئے اور کسی بھی فیملی کو فورا گالی دیتے ہیں اور پھر سب لڑنے کے لئےجمع ہوجاتے ہیں۔فیملی کے سامنے آپ کو گالیاں دینے یہاں تک کہ مارنے سے بھی باز نہیں آتے۔میں کئی لوگوں کو آپ اپنی آنکھوں سے مار کھاتا دیکھ چکا ہوں۔

 ایک بار میں سڑک پر چل رہا تھا کہ میرے ساتھ ایک شخص چلنے لگا کہ کمرے ہم سے لو۔ میں نے کئی بار اسے سمجھایا کہ نہیں چاہیے مگر وہ یہی کہتا رہا اور آخر مجھ سے جان بوجھ کر ٹکرا گیا اور بولا دیکھ کر چلو۔ اس کے بعد دنگا فساد شروع ہو گیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ خواتین تک کا احترام نہیں کرتے۔ ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے یہاں تک کہ گالیاں دینے سے بھی نہیں گھبراتے۔
یہاں کے ٹرانسپورٹرز جہاں چاہتے ہیں گاڑی پارک کر دیتے ہیں۔ ان کے ریٹ بہت زیادہ ہیں۔ ان سے بحث کا مطلب سیدھا سیدھا گالیاں سننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔بازار میں فروخت ہونے والی ہر چیز سب سٹینڈرڈ  عموما کھانے پینے کی اشیاء بھی دو نمبر اور جعلی ہوتی ہیں اور اصل سے 400 گنا مہنگی ہیں۔

ہوٹل مافیا  کے کارندے  شہر میں داخل ہونے والوں کو روڈ سے ہی گھیرنا شروع کردیتے ہیں ، عموما آنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں ہیں کہ شائد یہ ہوٹل کے افراد ہیں لیکن وہ فقط ان کے ایجنٹس ہوتے ہیں جو اپنا حصہ ہوٹل والوں سے لیتے ہیں۔ ہوٹل والوں کا رویہ دیکھیں تو بکنگ کے وقت انتہائی معصومیت اور خوش اخلاقی سے پیش آنے والا عملہ آپ کو ہر وہ سہولت دینے کا دعوی کرتے ہیں جو آپ کی بنیادی ضرورت اور خواہش ہوتی ہے اور کچھ ہی دیر بعد وہی سہولیات طلب کرنے پر آپ سے وہ سلوک کیا جاتا ہے کہ آپ شرمندگی کے مارے ان کی شکایت بھی نہیں کر سکتے کیونکہ مقامی انتظامیہ کا با ریش عملہ تک ان کے ٹکڑوں پر پرورش پا رہا ہے اکثر اوقات ہنی مون پر آنے والے جوڑوں کے ساتھ انتہائی دلخراش واقعیات پیش آتے ہیں رات گئے چند افراد آپ کے روم کا دروازہ بجاتے ہیں اور یہ کہہ کر آپ کو  ہوٹل کاونٹر پر آنے کا کہتے ہیں کہ پولیس والے آئے ہیں اور آپ کا نکاح نامہ مانگ رہے ہیں چونکہ نئی نئی شادی کی وجہ سے آپ کا نکاح نامہ تصدیق کے مراحل کی وجہ سے ذرا تاخیر سےملتا ہے اور آپ شادی کے اوئل دنوں  میں ہی ہنی مون پر چلے جاتے ہیں ان معاملات کو جانتے ہوے بھی یہ لوگ آپ کو ہوٹل کاونٹر پر لے جا کر ہراساں کرتے ہیں اور ایک پولیس والا اور باقی ہوٹل کا عملہ آپ سے نہ صرف پیسے بٹورتا ہے بللکہ دوسرے ہی دن ہوٹل چھوڑنے پر بھی مجبور کرتا ہے اکثر جوڑوں کے ساتھ تو زیادتی تک کے واقعات پیش آتے ہیں جنھیں یہ عزت دار گھرانوں کے جوڑے منظرعام پر نہیں لاتے۔

ہوٹل انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ڈھابے پتھارے لگانے والے بھی کسی سے پیچھے نہیں مری اور اس سے کچھ کلو میٹر دور واقع کوہالہ کے مقام پر نیلم پوائنٹ کی صورتحال بھی انتہائی تشویش ناک ہے کھانے کا آرڈر لیتے وقت سنی ان سنی کرتے ہوے آرڈر سے زیادہ کھانا دے کر  من مانے دام لیے جاتے ہیں مزاحمت پر آپ کی عورتوں کے سامنے آپ کو  مارا جاتا ہے اور ان کے کپڑے کھینچے جاتے ہیں سیر گاہوں کے آس پاس بیٹھنے کی جگہوں پر بیٹھنے نہیں دیا جاتا اور بیٹھ جانے پر زبردستی کچھ آرڈر لیا جاتا ہے بصورت دیگر اٹھا دیا جاتا ہے۔کسی بھی کھانے پینے کے ہوٹل کے سامنے اگر فٹ پاتھ ہوگا یا کوئی لکڑی کا بینچ انہوں نے وہاں کیلیں لگائی ہوئی ہیں یا فٹ پاتھ پر پانی ڈال دیتے ہیں تاکہ کوئی بیٹھ نہ سکے اور اگر بیٹھے تو آپ کو پیسے دینے ہونگے۔حتی کہ اگر کوئی شخص وہاں لکڑیاں جلا کر اس کے پاس بیٹھا ہو اور آپ اس آگ کے پاس کھڑے ہوجائیں تو بھی آپ کو اس شخص کو پیسے دینے ہونگے، کوئی کسی دکان یا کسی چیز کے ساتھ تصویر بنا لے تو وہ لوگ آپ سے پیسے مانگتے ہیں۔یہاں کی تمام انتظامیہ اور پولیس بھی ان تمام گھٹیا معاملات میں شامل ہے  اور یہاں کے مقامی لفنگوں نے اسی گھٹیا  طرز  کو اپنانے کو واحد طریقہ سمجھ لیا ہے، انہیں خوئی شائد یہ بتا دے کہ جتنی رقم یہ ان گھٹیا رہائشی ہوٹل کی مد میں لیتے ہیں اتنی رقم میں دبئی میں تھری اسٹار اور فور اسٹار ہوٹل میں کمرے ملتے ہیں، اور جو سروسز وہاں ملتی ہیں اور ان کے اسٹاف کا رویہ گاہک کے لئے جتنا اچھا ہوتا ہے اس اے ہی کچھ شرم کر لیں۔ کئی لوگ تو مری جا کر اچھا کھانا تو چھوڑیں پکوڑے ہی فقط ہزاروں روپے میں کھا پاتے ہیں۔
گزشتہ کئی عشروں سے یہ معاملات ایسے ہی چل رہے تھے اور انہوں نے باہر سے آنے والے لوگوں کو ایسے ہی ڈیل کرنا اپنا نصب العین بنا لیا تھا ، مقامی لوگوں کو  اخلاقی طور پر اس کا بالکل احساس نہیں کہ مہمانوں سے کیسے پیش آئیں۔ بطور انسان دوسرے لوگوں سے کیسا سلوک کریں۔  سیاح دور دور سے یہاں سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔
یہی سیاح ان مری والوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں اور انھیں ان سیاحوں کی کوئی قدر نہیں تھی، لیکن اب چونکہ ایک منظم تحریک شروع ہو گئی ہے اور اب ان کو کچھ ہوش تو آیا ہے لیکن فقط داخلی روڈ پر کھڑے ہوکر آنے والے سیاحوں کو پھول پیش کرنے کے بجائے حقیقتا رویوں کو جب تک تبدیل نہیں کیا جائے گا ، کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پورے ملک سے لوگ اپنی تکالیف کو کم کرنے گھومنے کے لئے ان مقامات کا رخ کرتے ہیں بجائے کہ وہ سیرو تفریح  کے گالیاں اور بے عزتی سہیں اس سے بہتر ہے کہ  مری کا بائئکاٹ کریں اور کاغان اور ناران کا رخ کریں ، کیونکہ مری میں تو صرف گالی اور بے عزتی ہی مفت میں ملتی ہے، اور اگر کسی کو حقیقتا لفظ آمریت اور فسطائیت کا سمجھنا ہے تو وہ ضرور مری جائے اس خو اندازہ ہوجائے گا کہ وہاں کا قماش کی آمرانہ طرز پر گھٹیا اور بد تہزیبی سے لوگوں کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا ہے ، جن لوگوں کو یہ احساس نہیں کہ یہ پورے ملک سے آنے والے لوگ ہی اصل میں ہمارا رزق لاتے ہیں انہیں عزت دینے چاہئے نہ کہ ان کو بے عزت کریں اور ناجائز حربوں سے ان کی جیبوں سے پیسے نکلوانے جائیں ۔ لیکن اگر آج مری کے مقامی لوگوں کو اس بائیکاٹ سے معاشی مسائل کا سامنا ہے تو کم از کم  اپنے اخلاقی روئیے ضرور بدلیں۔

 


افکار و نظریات: مربھی جائیں مگر مری نہ جائیں