فوزیہ قصوری صاحبہ  کے فیصلے

محبوب اسلم

جہاں فوزیہ قصوری صاحبہ نے کرپٹ پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا درست ترین فیصلہ کیا و ھیں پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت انکا غلط ترین انتخاب ھے۔

اس بات سے کوئی ذی شعور شخص اختلاف نہیں کر سکتا کہ عمران خان جو سالوں پہلے ھاورن رشید اور حسن نثار جیسے بظاھر صاحب کردار صحافیوں اور کالم نویسوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر اس بات کا ستو قوم کو پلاتے نہیں تھکتے تھے کہ وہ جاگیر داروں، سجادہ نشینوں، گدی نشینوں اور ایلیکٹیبلز کی سیاست نہیں کرینگے بلکہ عوام میں سے صاف ستھری قیادت سامنے لائینگے۔ وقت آنے پر آج انھی استحصالی طاقتوں کے در پر سجدہ ریز ھیں۔اور کمال بے شرمی سے یہ کام سر انجام دے رھے ھیں۔ اور یہی کالم نویس آج پھر انکے حاشیہ بردار بھی ھیں۔ یوں فوزیہ قصوری جیسی صاف ستھری اور محنتی لیڈر کا اس پارٹی میں کوئی کام نہیں رہ جاتا۔ اورانکا پی ٹی آئی چھوڑنا سمجھ میں آتا ھے۔ اور سچ پوچھئے تو وہ مبارکباد کی مستحق ھیں کہ چلو کسی کا تو ضمیر جاگ رھا ھے۔

 لیکن جب یہی فوزیہ قصوری پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرتیں ھیں تو ھمارے جیسا عام پاکستانی سر کھجانے لگتا ھے کہ میڈیم آپ نے یہ کیا کر ڈالا؟

 اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ھے کہ مصطفی کمال اور انکے قریبی ساتھیوں مثلاً انیس قائمخانی اور بہت سے دوسرے جانثاروں کے بارے میں عمومی راۓ یہ ھے کہ یہ حضرات الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کے ھر گھناٶنے جرم کا حصہ رھے۔ اور صرف اسوقت الطاف حسین سے برات کا اعلان کیا جب وہ تیزی سے روبہ زوال ھونےلگے۔ یعنی ایک سو چوھے کھا کر بلی حج کو چلی کی کہاوت کے مصداق یہ سارے پرانے پاپی آج پاک سر زمین پارٹی کے پلیٹ فارم پر جمع ھیں؟؟؟

 خاص طور پر بلدیہ ٹاٶن کی گارمنٹ فیکٹری کے بھتہ خوری کے بدنام زمانہ کیس جسمیں دو سو سے زائد لوگوں کی اذیت ناک موت واقع ھوئی میں اسوقت کے ایم کیو ایم کے  تنظیمی کمیٹی کے انچارج اور ماسٹر مائنڈ حماد صدیقی کیلئے مصطفی کمال کا نرم گوشہ سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ھے۔ یوں ایم کیو ایم ھی کے ڈپٹی کنوینر انیس قائمخانی کا پراگندہ ماضی اور پاک سر زمین پارٹی میں انکی کلیدی حثیت اور سب سے بڑھکر الطاف حسین کی پرانی ٹیم کے کھلاڑیوں کا پاک سر زمین پارٹی کا سبزپرچم لپیٹنا ایسا ھی ھے جیسے پرانی شراب نئی بوتل میں بند کرکے پیش کر دی جاۓ۔

 اس معاملے کے کچھ اور پہلو بھی ھیں۔ مثال کے طور پر کراچی میں پاکستان سر زمین پارٹی کو بغیر احتساب کے اتنی کھلی چھٹی کون اور کیوں دے رھا ھے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ھے۔ جوکھیل جنرل اسددرانی نے کھیلاوہ اب بھی جاری ھے اور کچھ افللاطون سمھجتےھیں کہ اسطرح کی سیاسی جوڑ توڑ ملکی مفادات کیلئے ضروری ھے۔

 دوسری طرف کچھ تجزیہ کار یہ نقطہ پیش کرتے ھیں کہ فوزیہ قصوری صاحبہ کیلئے اسمبلی یا سینٹ میں جانے کا یہ ایک سب سے زیادہ آسان طریقہ تھا اور وہ اس آپشن کو استعمال کرنے میں حق بجانب ھیں۔ لیکن ھم نظریاتی سیاسی ورکرز چاھتے تھے کہ وہ پی ٹی آئی میں پارٹی مافیااور عمران خان کیخلاف علم بغاوت بلند کرتے ھوۓ اس الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر کھڑی ھوتیں۔ اور الیکشن کے بعد پی ٹی آئی نظریاتی پارٹی کی بنیاد رکھتیں۔ لیکن بظاھر انھوں نے ایک آسان راستے کا انتخاب کیا ھے۔

 لیکن ایک تیسرا پہلو یہ بھی ھےکہ شاید مصطفی کمال اور ان کے ساتھی واقعتاً قتل و غارت گری اور بھتہ خوری کی سیاست سے تنگ آ چکے ھیں اور حقیقتاً ایک مڈل کلاس عوامی تحریک کی بنیاد رکھنا چاھتے ھیں اور فوزیہ قصوری صاحبہ اس عوامی تحریک میں ایک مثبت کردار ادا کرنا چاھتی ھیں۔ اب اس بات میں کتنی سچائی ھے اسکا فیصلہ تووقت ھی کریگا لیکن فی الحال پاکستان میں  سیدھی سادھی نظریات اور اصولوں کی سیاست کا وقت نہیں آیا۔ براۓ مہربانی انتظار فرماۓ۔

 لیکن کچھ سر پھرےجیسے گجرانوالہ میں ملک نسیم صادق عام لوگ پارٹی، ملک فرحان بھٹہ تونسہ شریف میں عام آدمی تحریک اور ھارون خواجہ لاھور میں پاکستان فریڈم مومنٹ اور کراچی میں جسٹس وجیہ الدین عام لوگ اتحاد  کی نہ صرف بنیاد رکھ چکے ھیں بلکہ آپ کے ووٹ کے طلبگار بھی ھیں۔ ھمیں ان حضرات کی کاوشوں کا ضرور ساتھ دینا چاھئے۔ اس ملک میں اب عام آدمی کو موقعہ ملنا چاھیئے کیونکہ عام آدمی کے نام پر پی پی پی، مسلم لیگ۔ن، مسلم لیگ۔ق، ایم کیو ایم، اور اب پی ٹی آئی نے خوب ڈھونگ رچاۓ رکھا ھے۔

 

 


افکار و نظریات: فوزیہ قصوری صاحبہ کے فیصلے