بلوچستان میں پانی کا بحران

تحریر/فرخ شہزادملک

            پانی اور ہوا کے بغیر کرہ ارض پر زندگی کا تصور محال ہے ۔غذا کے بغیر انسان کئی کئی ہفتے زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر پانی کے بغیر زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ پانی ایک ایسا قدرتی سیال ہے جس کی بدولت جسم کے ان گنت نظام کام کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج انسانی زندگی کے لئے آبنوشی کی دستیابی یقینی کیلئے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ترقی پذیرو غریب ممالک میں اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس سے آگاہی کیلئے عالمی سطح پر ہر سال ’’واٹر ڈے‘‘ بھی منایا جاتا ہے اور پانی کی اہمیت  سے آگاہی کیلئے سیمینارز اور میڈیا کے ذریعے مہم چلائی جاتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جہاں پانی کا حصول مشکل ہو وہ علاقے بنجر بن جاتے ہیں اور وہاں ویرانیاں ہی ویرانیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ پانی انسان و حیوان کی زندگی کیلئے تو ضروری ہے ہی، ساتھ ہی زراعت بھی پانی ہی کی بدولت پھلتی پھولتی ہے اور اس کرہ ارض پر بسنے والے زمین سے اگنے والی سبزیوں، دالوں سے پیٹ بھرتے چلے آرہے ہیں۔پانی حاصل کرنے کے مختلف ذرائع ہیں ‘ ایک باران رحمت کی صورت زمینیں سیراب ہوتی ہیں اور یہ پانی انسانی پیاس بجھانے کے بھی کام آتا ہے۔

 اسی طرح سرد علاقوں میں جب گرمی کی شدت سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور وہ پانی بلندی سے میدانی علاقوں کی طرف بہتا آتا ہے تو اس سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ گلیشیئر سے دریاؤں میں آنے والے پانی کو توانائی کے حصول اور انسانی ضرورتوں کے لئے مختلف ممالک میں بڑے چھوٹے ڈیم بنا کر ان کو ذخیرہ کرنے کا سلسلہ بھی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جن ممالک میں پانی کمیاب ہے وہاں سے بڑی تعداد میں آبادی کا انخلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ  مستقل میں عالمی جنگیں پانی کے مسئلے پر لڑی جانیکی پیشنگوئیاں کی جا رہی ہیں اور اسی تناظر میں ہر ملک کی کوشش ہے کہ وہ صاف پانی کو محفوظ کرنے کے سلسلے میں اقدامات کرتا رہے۔ آج وطن عزیز پاکستان بھی پانی کے بحران کا شکار ہے اس کے ڈیمز میں بتدریج پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ صوبہ بلوچستان کی بات کی جائے تو یہاں پانی کے ذخائر انتہائی کم رہ گئے ہیں۔ ایک تو بارشیں بھی کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے زیر زمین پانی مزید کم ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی صورت حال انتہائی نا گفتہ بہ ہے ۔یہاں کی کل آبادی کا تقریبا‘‘  15 فی صد صاف پانی استعمال کر پاتی ہے اور لوگوں کی اکثریت کو صاف پانی میسر نہیں اور وہ آلودہ پانی ہی استعمال کر رہی ہے ۔جس سے ہیپا ٹائٹس ‘گردے و پتے کی پتھری اور دیگر خطرناک امراض جنم لے رہے ہیں۔

 بلوچستان کا کل رقبہ 347185 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 43 فیصد بنتا ہے۔اقوام متحدہ کے معیارکے مطابق ایک شخص کو سالانہ چالیس گیلن پانی مہیا ہونا چاہئے مگر بلوچستان میں صرف 60فیصد آبادی کو دس گیلن کے تناسب سے پانی مہیا ہورہا ہے اور پانی کی یہی صورتحال رہی تو آنے والے سالوں میں یہ تناسب اور بھی کم ہوگا۔

وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے صوبے کی معیشت کا انحصار زراعت و مالداری پر ہے جس کیلئے پانی کی ضروریات قدرتی چشموں ‘ کاریزات اورزیر زمین پانی سے پوری کی جاتی ہیں۔لیکن ماحولیاتی تبدیلی ‘بارشوں و برفباری میں کمی سے پانی کے ذخائر ختم ہورہے ہیں۔جس سے زرعی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔  اس وقت 32میں سے 24 اضلاع خشک سالی کی زد میں آ چکے ہیں۔جن میں نوشکی‘ چاغی‘ خاران‘ واشک‘ تربت ‘ پنجگور‘ گوادر‘ آواران ‘ خضدار جعفر آباد جیسے گنجان آباد اور زرعی اضلاع بھی شامل ہیں۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ ایک ملی میٹر کمی کی اوسط سے بلوچستان میں سالانہ 365ملی میٹر کم بارشیں ریکارڈ کی جارہی ہیں۔

 صوبے میں 2586.6ملی میٹر بارشیں سالانہ متوقع ہوتی ہیں ۔لیکن گزشتہ پانچ سال میں بارشوں میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور2010سے 2015تک تشویشناک طور پر 2118ملی میٹر یعنی 17فیصد کم بارشیں ریکارڈ ہوئیں۔ بارشوں میں کمی کی وجہ سے گزشتہ 30سال میں صوبے کے 6000 میں سے5500کاریز خشک ہو گئی ہیں۔

 اسی طرح زیر زمین پانی کی سطح سالانہ 2.3میٹر نیچے گرتی جارہی ہے۔مناسب منصوبہ بندی کے فقدان سے بارشوں سے ملنے والے 10793ملین کیوبک میٹر پانی کا صرف 20فیصد یعنی 2223ایم سی ایم استعمال جبکہ 80فیصد 8570ایم سی ایم ضائع ہوجاتا ہے۔سابق حکومت نے 9بلین روپے کی لاگت سے صوبے میں 100 ڈیمز کے تعمیراتی منصوبے کاآغاز کیا جس کے تحت 2029 تک پانچ مراحل میں 100 ڈیلے ایکشن ڈیمز تعمیر کئے جائیں گے۔پہلے مرحلے کے 20ڈیمز مکمل ہونے کے بعد 2012سے مسلسل فنڈنگ میں کمی کی وجہ سے اب منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔گزشتہ سال پارلیمنٹ کے ایواں بالا میں وزارت پانی و بجلی کی جانب سے  پیش کی گئی رپورٹ  میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبہ بلوچستان جہاں پہلے ہی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اگر پانی کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آئندہ چند سال میں اس مسئلے میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس بحران کے حوالے سے تسلی بخش جواب نہیں دے رہیں۔

 حکومت بلوچستان کو زیر زمین پانی کے تحفظ کے لیے کوششیں تیز کرنی ہوں گی ورنہ  کچھ عرصے میں صوبے کو پانی کا سنگین مسئلہ لاحق ہوجائے گا۔وزارت پانی و بجلی کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ 3 سے 4 دہائیوں میں گہرے کنویں کھودے جانے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں تشویش ناک حد تک کمی آچکی ہے۔ رپورٹ میں پشین اور لورالائی کی، صوبے کے اْن اضلاع کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے جہاں زیر زمین پانی کی سطح میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں صوبے میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر زوردیا گیا۔پانی کی قلت کے حوالے سے سب سے زیادہ سنگین صورتحال کا سامنابلوچستان کے دارالحکومت کو کرنا پڑ رہا ہے۔ کوئٹہ کے شہریوں کو 1889ء میں کاریزوں سے پانی مہیا کیا جاتا تھا اورلوگ کاریزوں سے ہی کاشتکاری کرتے تھے پھر پانی کی بڑھتی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 1935میں سپین کاریز ڈیم اور پھر 1940 میں ولی تنگی ڈیم بنایا گیا مگر اس کے بعد کوئی قابل ذکر ڈیم کوئٹہ میں تعمیر نہیں کی گئی جس سے آج زیرزمین پانی کی سطح1000سے  پندرہ سو فٹ تک پہنچ گئی ہے اور پانی اتنا کم ہے کہ ٹیوب ویلز خشک  اوربند ہونے کا خطرہ ہے ۔

وسطی و نواحی علاقوں کے مکین ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں اور مہنگے داموں پانی خرید کر ضروریات پوری کی جا رہی ہیں ۔ممتاز جیالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر دین محمد  نے بتایا کہ قدرتی جھیلوں، آبشاروں، چشموں سے بھرپور بلوچستان پانی کی شدید قلت سے دوچار ہو چکا ہے موسمی تبدیلیوں اور خشک سالی کی وجہ سے زیرزمین پانی کی سطح 1000فٹ تک نیچے چلی گئی ہے، ماضی میں بہنے والی سینکڑوں کاریز اب خشک ہوچکی ہیں۔ اگر کوئٹہ سمیت صوبے میں واٹر ری چارجنگ پوائنٹس اور ڈیم نہ بنائے تو صوبہ صحرا میں تبدیل ہوسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ چار ہزار سے زائد ٹیوب ویل لگاکر کوئٹہ کے مکین آئندہ نسلوں کا پانی بھی پی چکے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے ۔انہو ں نے تجویز دی کہ آنیوالی نسلوں کی بہتر زندگی کیلئے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے پانی کے ضیاع کو روکنا ہو گا زراعت میں آب پاشی کے جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گاایسی فصلیں کاشت کی جائیں جن کیلئے زیادہ پانی کی ضرورت نہ ہو  اور وفاقی  اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پرفوری  ایسے اقدامات کریں کہ پانی کا مسئلہ حل ہو جائے ۔

آبی ماہرین کے مطابق اگر مختلف اضلاع میں ڈیمز تعمیر کر کے بارشوں کے دنوں میں وہاں پانی کو جمع کر لیا جائے تو پانی کی صورت حال بہتر ہو سکتی ہے لیکن اس ضمن میں  سنجیدہ اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت  پانی جمع کرتے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر پانی جمع نہیں کر پاتے۔

صوبے میں پانی کی کمی کے باعث صرف موسمی فصلیں ہی اگائی جاتی ہیں ، جنہیں خریف کی فصلیں کہا جاتا ہے ، اس لیے پورا صوبہ ان فصلوں پر گزارا نہیں کر سکتا ، لوگ یہاں سے ہجرت کر کے  دوسرے صوبوں میں جانے پر مجبور ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد پانی کی کمی کے باعث بلوچستان سے ہجرت کر کے سندھ اور پنجاب آ گئی ہے ۔بلوچستان میں 1960 میں دریائے حب پر ڈیم بنایا گیا تھا جس سے ضلع لسبیلہ سمیت دیگر اضلاع کے لوگوں کو بھی پانی  فراہم کیا جاتا ہے اور پانی حب ڈیم سے نہروں کے ذریعے زراعت میں استعمال کیا جاتا ہے اور چند سال قبل کراچی میں پانی کی کم ہوئی تو کراچی کو بھی اسی ڈیم سے پانی دیا گیا۔

اب بلوچستان میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ چند سالوں میں صوبے میں پانی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ حکومت بلوچستان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ایسا انفراسٹرکچر بنا ئے کہ کوٹے کے تحت انڈس ریور سسٹم سے صوبائی کوٹے کے تحت پانی حاصل کر سکے۔بلوچستان کے شہری علاقوں میں لوگوں کو پانی اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے کچھ حد تک تو مل رہا ہے لیکن صوبے کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو پانی کی فراہمی ایک کٹھن کام ہے ۔ صوبے میں پینے کا پانی زیر زمین سے ہی نکالا جاتاہے ۔لیکن بارش نہ ہونے کے باعث زیر زمین پانی انتہائی کم اور لوگوں کو پانی نکالنے کے لیے جو جتن کرنے پڑتے ہیں وہ وہی جانتے ہیں۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین آغا تاج محمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  بلوچستان جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال ہے وہیں اسے پھلوں کی کاشت کے لیے بھی خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔لیکن حالیہ برسوں میں معمول سے کم بارشوں، زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے اور بجلی کی طویل بندش سے پھلوں کی پیداوار شدید متاثر ہوئی اور اس شعبے سے وابستہ لوگ مالی مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال سیب کی پیدوار میں چھ لاکھ ٹن کمی واقع ہو رہی ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے بہت سے کاشتکار اپنے سوکھ جانے والے باغوں کے درختوں کو اب ایندھن کے لیے استعمال کر رہے ہیںانہوں نے کہا کہا 16 لاکھ ٹن سیب بلوچستان میں پیدا ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہاں بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ اور کم پانی کی وجہ سے باغات سوکھ چکے ہیں اور زراعت سے وابستہ لوگ کروڑوں روپے کے محتاج ہو کر یہ پیشہ ہی چھوڑ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بارانی پانی دخیرہ کرنے کیلئے چیک اور ڈیلے ایکشن ڈیمز کی تعمیر کا کہا جا رہا ہے اس حوالے سے فوری اقدامات نا گزیر ہو چکے ہیں ۔کیونکہ زراعت پیشہ افراداپنی فصلوں و باغات کو سیراب کرنے کیلئے ٹیوب ویلز کا سہارا لیتے ہیں لیکن چند سال سے جاری برقی بحران کے باعث ٹیوب ویل اسٹارٹ نہیں ہوتے اور بروقت فصلوں و باغات کو سیراب نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا جائیگا جس کا نصف خرچہ حکومت اور نصف زمیندار برداشت کریں گے اس منصوبے پر بھی فوری عمل ہونا چاہئے ۔سابق سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ  و ممتاز آبی ماہر شیخ احمد نواز نے بتایا کہ کوئٹہ میں پانی کا بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے اس سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی گئی ہے جس سے کافی حد تک قلت آب کا خاتمہ ہو گا ۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کی آبادی22لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس کیلئے یومیہ 6کروڑ گیلن کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف یومیہ2کروڑ 60لاکھ گیلن فراہم کر رہے ہیں زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے گر رہی ہے ایک زمانہ تھا جب کوئٹہ میں30سے400فٹ کے درمیان پانی میسر تھا لیکن اب ایک ہزارفٹ نیچے سے پانی نکالنے پر مجبور ہیں جو ہماری آئندہ نسلوں نے استعمال کرنا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ نے آبنوشی بحران سے نمٹنے کیلئے تین ڈیمز کے تعمیراتی منصوبے کی تجویز دی ہے جس میں مانگی ‘ حلق اور برج عزیز ڈیم شامل ہیں مانگی ڈیم پر19ارب روپے لاگت آئیگی اور یومیہ80لاکھ گیلن پانی حاصل کیا جا سکے گا 5ارب کی لاگت حلق ڈیم پر آئیگی اور اس سے 40لاکھ گیلن یومیہ میسر ہونگے جبکہ غزہ بند کے مقام پر برج عزیز ڈیم کی تعمیر سے یومیہ2کروڑ30لاکھ گیلن کوئٹہ کی آبادی کو فراہم کئے جا سکے ہیں انہوں نے بتایا کہ مانگی ڈیم کیلئے رقم موجود ہے اور یہ دو سال میں مکمل ہوگی اسی طرح حلق ڈیم بھی دو سال کا منصوبہ ہے جبکہ برج عزیز ڈیم کی تعمیر کیلئے3سے چار سال کا عرصہ درکار ہو گا اور اس پر 20ارب روپے لاگت آئے گی ان ڈیمز کی تعمیر سے کافی حد تک پانی کے شارٹ فال پر قابو پایا جا سکے گا لیکن ساتھ ہی سیکرٹری پی ایچ ای کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیمز کی تعمیر کوئی مستقل حل نہیں کوئی ماضی میں بھی کوئٹہ شدید خشک سالی کا شکار رہا ہے اور مستقبل میں بھی خشک سالی کے امکانات موجود ہیں اور ڈیمز میں بارشوں کے ذریعے ہی پانی جمع کیا جا سکے گا نہوں نے کہا کہ انڈس واٹر ہی قلت آب کا پائیدار اور مستقل حل ہے اور اس کے ذریعے یومیہ چھ کرور گیلن پانی بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ اگلے پندرہ سے بیس برس تک پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ارسال کے طے کر دہ شیڈول کے مطابق بلوچستان کو 7ہزار 5سو کیوسک پانی ملتا ہے جس میں سے صرف120کیوسک  جو 2فیصد بنتا ہے کوئٹہ کو مل جائے تو پانی کا مسئلہ باقی نہیں رہے گا اور یہ منصوبہ تین ڈیمز کے علاوہ متبادل کے طور پر ہو گا اگر کوئٹہ کیلئے پانی کی مقدار250کیوسک تک بھی لے جائی جائے تو پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کچھی کینال یومیہ چھ کروڑ گیلن مہیا کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے ۔

انہو ں نے کہا کہ ڈیمز کے پانی کے علاوہ بھی بہت سے فوائد ہیں یہ زیر زمین پانی کی سطح بلند کرتے ہیں اور ماحول پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں ڈیمز کے ارد گرمختلف اقسام کے پودے لگائے جا سکتے ہیں جس سے یہ تفریحی مقام کا درجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں جیسا کہ کوئٹہ کے مختلف مقامات پر ڈیمز پر لوگوں پکنک منانے کیلئے بھی جاتے ہیں لائیو سٹاک کو بھی کافی فائدہ ہوتا ہے چند سال قبل تک روس اور دیگر ممالک سے آنیوالے پرندے بلوچستان سے گزرتے تھے لیکن ڈیمز خشک ہونے کے باعث ان پرندوں نے اپنی گزر گاہ بھی تبدیل کر لی ہے۔شیخ احمد نواز نے بتایا کہ زیر زمین 1000فٹ کی سطح سے جو پانی حاصل کیا جاتا ہے ان سے 3فیصد گھریلو ضروریات پوری کی جاتی ہیں جبکہ97فیصد پانی غیر ضروری کاموں کیلئے استعمال کر دیا جاتا ہے اور ہم پانی کے مصرف کے دوران یہ بات ذہن میں نہیں رکھتے کہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کیلئے ہے ہمیں پانی نہایت احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے اور امریکہ کینیڈا سمیت دیگر ممالک میں رائج تھری آور کے نظام پر عمل کرنا ہو گا جس میں پانی کی ری سائیکلنگ اور ری چارج شامل ہے وہاں پانی کو چھ مرتبہ دوبارہ قابل ا ستعمال بنایا جاتا ہے اس کے بر عکس ہمیں زیر زمین 1000فٹ کی سطح سے حاصل کیا جانیوالا پانی گاڑیاں گھر کپڑے دھونے اور غسل میں استعمال کر دیتے ہیں ۔

شہر میں ری سائیکلنگ پلانٹس کی تنصیب کے حوالے سے سیکرٹری پی ایچ ای نے بتایا کہ مختلف مقامات پر تین پلانٹس نصب کئے جائیں گے سبزل روڈ پر ایک پلانٹ نصب کیا جا چکا ہے جبکہ مزید دو پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ بھی جلد مکمل ہو گا ۔ان پلانٹس کی تنصیب کے بعد سیوریج کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال لایا تو جا سکے گا لیکن کوئٹہ کے سات بڑے نالوں کی باقاعدہ صفائی اور ان کا سائز بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر بارشوں میں گندگی سے بھرے نالے ابل پڑتے ہیں اور یہ پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہوتا ہے دوسری جانب نالوں کے گندے پانی سے سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں جو ہیپا ٹائٹس سمیت مختلف خطرناک امراض کا سبب بن رہی ہیں اگر اس پانی کو ری سائیکل کر دیا جائے تو کافی حد تک پانی کی ضروریات اس سے پوری ہو سکتی ہیں اور آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت کا سلسلہ  بھی رک سکتا ہے ۔