ہم دیکھتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین علیہ السلام دیکھتے ہیں کہ موت شہادت کی صورت میں آچکی ہے تو خوش سے اپنے آپے میں نہیں سماتے اور شدت سرور سے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں فرماتے ہیں: "پروردگار کعبہ کی قسم کہ میرے لئے کوئی ناپسندیدہ اور غیر متوقع واقعہ پیش نہیں آیا ہے، اور وہی کچھ پیش آیا ہے جو میں چاہتا تھا، اور اپنی آرزو تک پہنچا ہوں اور میری آرزو شہادت ہی تھی، میری مثال اس شخص کی مثال ہے جو شب تاریک صحرا میں گھومتا ہے، اچانک اسے پانی کا چشمہ ملا ہے، میری مثال اس تلاش کرنے والے شخص کی ہے جو اپنے کمال مطلوب تک پہنچ چکا ہے۔

جب ابن ملجم ملعون کی ضربت جبین مبارک پر پڑی تو مولا نے فرمایا: "فُزتُ وَرَبِّ الکَعبَۃِ"۔

لفظ "فوز" کے معنی آرزو اور خواہش اور خیر و خوبی تک پہنچنے اور پلیدیوں کے شر سے نجات کے ہیں (الفوز: النجاۃ والظفر بالامنیۃ و الخیر) (1)

بعض اہل لغت نے "فوز" کو نجات پانے اور سلامتی میں قرار پانے کے معنی میں لیا ہے۔ (2)

"فُزتُ" فعل ماضی اور متکلم وحدہ ہے "وَ ربّ"  يہاں "واو" قسمیہ ہے اور لسان عرب میں ادوات قسم میں شمار ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے بھی اسی قسم کی ایک قسم اٹھائی ہے، ارشاد ہوتا ہے:

"فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً؛ تو نہیں، قسم آپ کے پروردگار کی، وہ مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے درمیان کے جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مانیں، پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں، اس سے اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں اور پوری پوری طرح تسلیم کریں"۔ (3)

چنانچہ جملہ "فُزتُ وَرَبِّ الکَعبَۃِ" کے معنی یہ ہے کہ رب کعبہ کی قسم میں نجاپ پا چکا اور اپنی آرزو تک پہنچ چکا اور خیر و خوبی تک پہنچا۔ البتہ یہ سعادت اور فلاح ہے کیونکہ انسان کی انتہائی آرزو یہ ہے کہ اپنے آپ کو دنیا کے رنج و غم سے نجات دلائے اور ابدی خیر و خوبی تک پہنچے۔

امیر المؤمنین علیہ السلام کی طرح کی شخصیات کی نگاہ میں موت اور شہادت اس دنیا کے پنجرے اور زندان سے رہائی پانا اور منتہائے آرزو تک پہنچنا ہے۔ اور پھر آپ انسانیت کے اعلی ترین رتبے پر اور لقاء اللہ کی بلند ترین منزلت پر فائز ہیں، جو اپنی موت کو شہادت اور اپنی امید و آرزو ـ یعنی رضائے الہی ـ کی راہ میں مارا جانا، قرار دیتے ہیں؛ اور اس طرح و لقاء اللہ کے اعلی ترین درجے پر فائز ہوجاتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین علیہ السلام دیکھتے ہیں کہ موت شہادت کی صورت میں آچکی ہے تو خوش سے اپنے آپے میں نہیں سماتے اور شدت سرور سے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں فرماتے ہیں: "پروردگار کعبہ کی قسم کہ میرے لئے کوئی ناپسندیدہ اور غیر متوقع واقعہ پیش نہیں آیا ہے، اور وہی کچھ پیش آیا ہے جو میں چاہتا تھا، اور اپنی آرزو تک پہنچا ہوں اور میری آرزو شہادت ہی تھی، میری مثال اس شخص کی مثال ہے جو شب تاریک صحرا میں گھومتا ہے، اچانک اسے پانی کا چشمہ ملا ہے، میری مثال اس تلاش کرنے والے شخص کی ہے جو اپنے کمال مطلوب تک پہنچ چکا ہے۔ (4)

یہ نکتہ بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ سعادتمندی اور فلاح اسی وقت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لئے اہمیت رکھتی ہے کہ یہ آپ کی حیات مبارکہ کے آخری لمحے تک جاری و ساری رہے۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے علی علیہ السلام کے سوال پر ماہ مبارک کے اوصاف پر مشتمل خطبے میں ماہ رمضان کے اعلی ترین اوصاف بیان کرتے ہوئے گریہ و بکاء کا آغاز کیا تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے گریہ کا سبب پوچھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: علی جان! ان ہی رمضان کے مہینوں میں ایک کے دوران آپ بدبخت ترین انسان کے ہاتھوں شہادت پائیں گے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام پوچھتے ہیں: کیا اس وقت میرا دین صحیح و سالم ہوگا؟

فرمایا: ہاں! آپ کا دین اس وقت صحیح و سالم ہوگا۔

تو مولا نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! "لَیْسَ هذا مِنْ مَواطِنِ الصَّبْرِ وَ لکِنْ مِنْ مَواطِنِ الْبُشْری وَ الشُّکْرِ؛ اے رسول خدا(ص)! یہ لحظہ مصیبت پر صبر اور اور مشکلات کے برداشت کرنے کا نہیں ہے بلکہ یہ تو خوشی، خوشخبری اور خوشنودی کا لمحہ ہے"۔ (5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1۔ ابن منظور، لسان العرب، ج5، ص393۔ طریحی، فخرالدین بن محمد، مجمع البحرین، ج 4، ص 30۔

2- مجمع البحرین، ج 4، ص 30۔

3۔ سورہ نساء، آیت 65۔

4۔ مطری، مرتضی، قیام انقلاب مدی(عج) ب ضمیم شید، ص 116 تا 118۔

4۔ نج البلاغ ، خطب ی 154۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


افکار و نظریات: فزت و رب الکعبہ