فرنود عالم:۔

بیانیہ کوئی آئین سازی کا عمل نہیں ہوتا،یہ قرار داد نہیں ہوتی کہ چوراہے پہ کھڑے ہوکر رائے لی جائے اور یہ اعلامیہ بھی نہیں ہوتا کہ چیخ چلا کر جاری کیا جائے‘۔

اسی سانس میں محترم فرنود عالم نے یہ بھی کہہ دیا کہ’جب یہ کہا جاتا ہے کہ بیانیے کی تبدیلی میں ریاست کا کرداراہم ہوتا ہے، تو اس سے مراد یہ قطعاً نہیں ہوتی کہ پارلیمنٹ اس کی کوئی دستاویز مرتب کرے اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر اسے منظور کروا کر نافذ کردے‘۔

سوال ذہن میں آیا کہ پھر یہ نافذ کیسے ہوگا توہ استاد فرنود نے صاف کہہ دیا کہ بیانیہ نافذ نہیں ہوتا، بیانیہ رائج ہوتا ہے۔ یہ سمت کی تبدیلی کے کچھ اشارے ہوتے ہیں جو رویے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے بحث جنم لیتی ہے اور اجتماعی شعور خودکار طریقے سے ایک ترتیب و تنظیم میں آ رہا ہوتا ہے۔

ترتیب وتنظیم کا یہ دورانیہ خود طے کر رہا ہوتا ہے کہ کتنا بولنا ہے اور کتنا آگے جانا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ ترویج پانے والے اسی بیانیے کے تحت بغیر کسی مزاحمت کے پالیسی تشکیل پانے لگتی ہے۔

بقلم:۔ علی احمد جان 

http://www.humsub.com.pk/59751/ali-ahmad-jan-57/


افکار و نظریات: بیانیہ فرنود عالم کے نزدیک